Search
Close this search box.
اتوار ,21 جون ,2026ء

امریکہ، جہاں وسائل زندگی کی فراوانی ہے مگر ….

امریکہ کو سائنس و ٹیکنالوجی اور سیاست و معیشت میں اس وقت دنیا پر بالادستی حاصل ہے اور پوری دنیا کے نظام اور معاملات چلانے والے بین الاقوامی اداروں پر نہ صرف امریکہ کا کنٹرول ہے بلکہ وہ عملاً اس کے سامنے بے بس ہو کر اس کی ہاں میں ہاں ملانے اور اس کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے پر مجبور ہیں۔ یہ ڈرامہ ساری دنیا کھلی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے کہ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی ادارے امریکہ کی بعض پالیسیوں سے اختلاف بھی کرتے ہیں اور اس کے خلاف قراردادیں بھی پاس کر لیتے ہیں لیکن امریکہ جب کوئی کام کرنے پر آجاتا ہے تو وہ ایک طرف دبک کر خاموش تماشائی بن جاتے ہیں اور امریکہ کو وہ کام کرنے سے روکنے میں کوئی عملی کردار ادا نہیں کر پاتے۔ افغانستان اور عراق کے معاملات میں دنیا نے دیکھ لیا کہ افغانستان کے بارے میں تو اقوام متحدہ سے امریکہ نے کسی نہ کسی طرح آشیرباد حاصل کر لی تھی لیکن عراق کے مسئلہ میں اس نے اور برطانیہ نے اتنے تکلف کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی اور سب کچھ کر گزرنے کے بعد اب اپنی کاروائیوں کو دوام بخشنے کے لیے اقوام متحدہ کا سہارا لینے میں پھر سے کامیاب ہو گئے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ اس وقت دنیا کی بالادست تہذیب کا مرکز ہے اور اگرچہ اس تہذیب کو اخلاقی قدروں اور عدل وانصاف کی حمایت حاصل نہیں ہے مگر سیاست ومعیشت، سائنس وٹیکنالوجی اور خوفناک عسکری قوت کی پشت پناہی اسے یقیناً میسر ہے اور اسی کے بل بوتے پر اس نے دنیا پر اپنے رعب ودبدبہ اور جاہ وجلال کی فضاقائم کر رکھی ہے۔
والد محترم حضرت مولانا سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم نے ۱۹۸۶ء میں برطانیہ کا تین ہفتے کا دورہ کیا تھا اور جمعیت علماء برطانیہ کی ’’عالمی توحید وسنت کانفرنس‘‘ میں شرکت کے علاوہ بہت سے علماء اور دانشوروں سے ملاقاتیں کی تھیں۔ وہ ایک دانش ور سے اپنی گفتگو کا قصہ سناتے ہیں کہ اس نے سوال کیا کہ آپ نے برطانیہ کے دورے کے دوران کیا محسوس کیا ہے؟ حضرت شیخ مدظلہ نے جواب دیا کہ آپ لوگوں نے جسم کی سہولت اور آرام کے لیے بہت کچھ انتظام کر رکھا ہے لیکن روح کے لیے آپ کچھ نہیں کر رہے۔ اس انگریز دانش ور نے اس بات کی تائیدکی اور کہا کہ آپ نے صورتحال کا صحیح تجزیہ کیا ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ مغرب نے مذہب سے دست بردار ہو کر اس دنیا کو ہی سب کچھ قرار دے لیا ہے اس لیے تمام وسائل واسباب کو اسی زندگی کے لیے آسانیاں فراہم کرنے پر صرف کر دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغرب میں اور اس کی دیکھا دیکھی مشرق اور عالم اسلام میں بھی سہولتوں اور آسانیوں کا فروغ ہوتا جا رہا ہے۔ ہر کام مشین کے ذریعے لینے کی کوشش ہو رہی ہے اور جسمانی مشقت کے امکانات کو کم سے کم کرنے کے لیے بے پناہ وسائل خرچ کیے جارہے ہیں۔ گزشتہ شب واشنگٹن میں پینٹاگون کے قریب ایک محلہ میں ایک پاکستانی دوست نے، جو صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور سے تعلق رکھتے ہیں، اپنے ریسٹورنٹ کے نئے شعبے کے افتتاح کے موقعہ پر اعزازی ڈنر کا اہتمام کیا جس میں مولانا عبد الحمید اصغر اور راقم الحروف نے بھی شرکت کی۔ یہاں پاکستانی ریسٹورنٹو ں پر کھانا کھانے والوں کا خاصا ہجوم ہوتا ہے اور خاص طور پر امریکی باشندے جو پھیکے کھانوں کے عادی ہیں چٹ پٹے پاکستانی کھانے شوق سے کھاتے ہیں۔ ایک دوست نے بتایا کہ ریسٹورنٹ صبح گیارہ بجے کھلتا ہے لیکن جب وہ اپنے کسی اور کام کے لیے ایک روز ساڑھے دس بجے کے لگ بھگ ریسٹو رنٹ میں آئے تو دروازے پر سات آٹھ افراد لائن میں کھڑے تھے کہ جب ریسٹورنٹ کھلے گا تو وہ پہلے داخل ہوں گے۔ اس ریسٹورنٹ میں کھانا پکانے، آٹا گوندھنے اور دیگر اشیاء خوردو نوش تیار کرنے کا مشینی نظم دیکھا تو میں نے عرض کیا کہ اب تو صرف یہ کسر رہ گئی ہے کہ روٹی کا لقمہ توڑنے اور منہ تک لے جانے کے لیے کوئی مشین ایجاد ہو اور انسان اس ’’مشقت‘‘ سے بھی نجات پا جائے۔
اس سہولت پسندی اور راحت طلبی نے جہاں انسان کو آسانیاں فراہم کی ہیں وہاں بہت سے مسائل بھی کھڑے کر دیے ہیں۔ فطری مشقت سے محرومی کے بعد انسانی جسم نئی نئی بیماریوں کا شکار بن رہے ہیں اور جسم کو جو مشقت طبعی طور پر درکار ہے اس کے لیے مصنوعی طریقے ایجاد کیے جا رہے ہیں۔ مغرب کا پروگرام نرالا ہے کہ روح کے سکون اور قلب و ذہن کی طمانینت کے فطری طریقوں سے دست بردار ہو کر اسے سکون کے لیے مصنوعی طریقوں کا سہارا لینا پڑ رہا ہے، حتٰی کہ منشیات کے فروغ نے مغرب کی پریشانی کو انتہاء تک پہنچا دیا ہے مگر وہ اس کے اسباب وعوامل اور محرکات پر غو ر کرنے اور ذہن وقلب کے اطمینان کے فطری طریقوں کی طرف واپسی کے لیے تیار نہیں ہے۔ اسی طرح جسمانی مشقت سے نجات اور سہولت وراحت کے نتائج دیکھنے اور اس کے لیے متبادل صورتیں ایجاد کرنے پر مجبور ہونے کے باوجود وہ جسمانی تعیش کی دوڑ کی رفتار کم کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ یہ مشینی دور کا کرشمہ ہے کہ انسانی جسم کو مشقت سے بچانے کاکام بھی مشینیں کر رہی ہیں اور پھر اسے ضروری مشقت دلانے کا کام بھی مشینوں کے سپرد ہے۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں