Search
Close this search box.
اتوار ,21 جون ,2026ء

امریکہ، جہاں وسائل زندگی کی فراوانی ہے مگر ….

(گزشتہ سے پیوستہ)
اس سہولت پسندی اور راحت طلبی نے جہاں انسان کو آسانیاں فراہم کی ہیں وہاں بہت سے مسائل بھی کھڑے کر دیے ہیں۔ فطری مشقت سے محرومی کے بعد انسانی جسم نئی نئی بیماریوں کا شکار بن رہے ہیں اور جسم کو جو مشقت طبعی طور پر درکار ہے اس کے لیے مصنوعی طریقے ایجاد کیے جا رہے ہیں۔ مغرب کا پروگرام نرالا ہے کہ روح کے سکون اور قلب و ذہن کی طمانینت کے فطری طریقوں سے دست بردار ہو کر اسے سکون کے لیے مصنوعی طریقوں کا سہارا لینا پڑ رہا ہے، حتٰی کہ منشیات کے فروغ نے مغرب کی پریشانی کو انتہاء تک پہنچا دیا ہے مگر وہ اس کے اسباب وعوامل اور محرکات پر غو ر کرنے اور ذہن وقلب کے اطمینان کے فطری طریقوں کی طرف واپسی کے لیے تیار نہیں ہے۔ اسی طرح جسمانی مشقت سے نجات اور سہولت وراحت کے نتائج دیکھنے اور اس کے لیے متبادل صورتیں ایجاد کرنے پر مجبور ہونے کے باوجود وہ جسمانی تعیش کی دوڑ کی رفتار کم کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ یہ مشینی دور کا کرشمہ ہے کہ انسانی جسم کو مشقت سے بچانے کاکام بھی مشینیں کر رہی ہیں اور پھر اسے ضروری مشقت دلانے کا کام بھی مشینوں کے سپرد ہے۔
دولت اور سہولتوں کی یہی فراوانی ہے جس نے ایک دنیا کو مغربی معاشرت کا دلدادہ بنارکھا ہے۔ دنیا کے ہر حصے سے لوگ کھنچے چلے آرہے ہیں اور تیسری دنیا اور مسلم ممالک کے بہت سے لوگ ہر وقت ا س کو شش میں رہتے ہیں کہ انہیں کسی نہ کسی طرح امریکہ، برطانیہ یا کسی مغربی ملک میں قیام کی اجازت مل جائے جہاں روزگار بھی ہے اور زندگی کی سہولتیں بھی ہیں، امن وامان بھی ہے اور ڈسپلن بھی ہے ۔ جبکہ تیسری دنیا اور عالم اسلام کے ممالک میں بدقسمتی سے ان میں سے کسی با ت کا تحفظ اور ضمانت موجود نہیں ہے۔ ہمارے نزدیک یہ مغرب کی پالیسی اور حکمت عملی کا حصہ ہے کہ اس نے اس حوالہ سے بھی دوہرا معیار قائم رکھا ہوا ہے۔ ورنہ تیسری دنیا اور مسلم ممالک کے اکثر وبیشتر حکمران اور سرکاری مشینری کے کارندے مغرب ہی کے شاگرد ہیں جنہوں نے براہ راست مغرب سے یا نوآبادیاتی دور میں مغرب کے مسلط کردہ نظام تعلیم سے تعلیم وتربیت پائی ہے۔ اور یہ مغرب کے دوہرے نظام اور معیار کا کرشمہ ہے کہ اس نے اپنے ملک کا نظام چلانے کے لیے جن لوگوں کو تربیت اور ٹریننگ دی ہے وہ آج کل صحیح طریقہ سے سسٹم کو چلا رہے ہیں لیکن اسی مغرب نے بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر تیسری دنیا اور مسلم ممالک کا نظام چلانے کے لیے جو کھیپ تیار کی ہے اس میں بدعنوانی، نا اہلی اور کرپشن کے سوا کچھ اور دکھائی نہیں دیتا۔
یہ صرف حامد کرزئی کی بات نہیں بلکہ جو بھی یہاں آتا ہے اس کا واپس جانے کو جی نہیں چاہتا۔ دس پندرہ برس پہلے کی بات ہے کہ لندن کے علاقہ ساؤتھال میں ایک سکھ دوست نے مجلس میں سوال کیا کہ کیا بات ہے جب ہم یہاں آکر کچھ دیر رہتے ہیں تو پھر واپس جانے کو جی نہیں چاہتا اور یہا ں کے درودیوار اچھے لگنے لگتے ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ ان درودیوار کی بنیادوں میں ہمارا ہی خون ہے کیونکہ نوآبادیاتی دور میں ہمارے خون پسینے کی کمائی کا استحصال کر کے مغرب نے ترقی اور خوشحالی کی راہیں ہموار کی ہیں اس لیے جہاں خون کا تعلق ہو انس کا پیدا ہو جانا طبعی بات ہے۔ اس پر وہ سکھ سردار کہنے لگا ’’گیانی جی! تساں ٹھیک آکھیا اے‘‘ (صوفی جی !آپ نے صحیح کہا ہے)۔ امریکہ کو دیکھ لیجیے اس کی تر قی اور بلند وبالا عمارتوں کی بنیادوں میں ان لاکھوں غلاموں اور سیاہ فامو ں کی ہڈیاں دفن ہیں جنہیں بحری جہازوں میں بھر بھر افریقہ سے لایا جاتا تھا اور ان سے جانوروں کی طرح مشقت لی جاتی تھی۔ اگر ان لاکھوں سیاہ فام غلاموں کی محنت و مشقت کو درمیان سے ہٹا دیا جائے تو امریکہ کی ترقی وخوشحالی کی عمارت دھڑام سے زمین بوس ہو کر رہ جاتی ہے۔
آج بھی ورلڈ بنک، آئی ایم ایف اور دیگر بین الاقوامی مالیاتی ادارے یہی کچھ کر رہے ہیں۔ سود کے استحصالی نظام نے پوری دنیا کی معیشت کو جکڑ رکھا ہے۔ مغرب نے دولت کے وسائل اور مراکز پر نہ صرف زبردستی قبضہ جما رکھا ہے بلکہ تجارت، صنعت اور بینکاری کا ایسا نظام دنیا پر مسلط کر دیا ہے جس میں دولت کے بہاؤ کے سارے راستے مغرب یا ان کے ہمنوا ممالک کی طرف جاتے ہیں۔ دنیا بھر کی دولت اور اسباب دولت پر چند ممالک کی اجارہ داری ہے جن کی کمان مغرب کے ہاتھ میں ہے۔ اس لیے جدھر دولت کا بہاؤ ہو گا دولت کے طلب گاروں کا رخ بھی ادھر ہی ہو گا، یہ فطری بات ہے جس سے مفر کی کوئی صورت نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں