Search
Close this search box.
اتوار ,14 جون ,2026ء

کربلاکی پاک باز شہزادیاں

نواسۂ سید الابرارؐ سیدناامام حسین ؓ کی ازواج کے متعلق روایات شاہدہیں کہ آپ کی کل ازواج کی تعداد پانچ تھی ۔ان کے علاوہ کربلامیں آپ کی ہمشیرہ حضرت زینب ؓاورآپ کی صاحبزادی حضرت سکینہؒ کاخاص کردارہے۔ذیل میں خانوادہ حضرت حسین ؓکی ان پاکباز خواتین اور کربلامیں شریک شہزادیوں کامختصر تعارف اورکارہائے نمایاں ذکرکئے جاتے ہیں۔ جوہرمسلمان عورت کے لئے نقوش منزل ہیں۔جن کے نام یہ ہیں:(۱) حضرت شہر بانو۔(۲) حضرت معظمہ لیلیٰ(۳) حضرت رباب (۴) حضرت ام اسحاق(۵) حضرت قضاعیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہن اجمعین
حضرت شہربانوؒ: یہ محترمہ یزد جرد بن شہریار بن خسرو پرویز بن ہرمزبن کسریٰ نوشیرواں العادل یزد جرد بادشاہان فارس میں سے آخری بادشاہ سے تھیں۔ اور شاہی خاندان میںہونے کی وجہ سے ظاہری حسن وکمالات اور آداب و اخلاق سے آراستہ تھیں۔سیدنا امیر المؤمنین حضرت عمر بن الخطاب فاروق اعظمؓ کے دور میں لائی گئیں۔ سیدنا عمر ابن الخطاب فاروق اعظمؓ نے اس محترمہ حسینہ و جمیلہ بمعہ مزین ہیرے و جواہرات و زیورات کے سیدنا امام حسینؓ کے ساتھ تزویج فرما دی۔ گویا کہ شہنشاہ کسریٰ کی بیٹی کو شہنشاہ شہزادہ کونین سیدنا امام حسینؓ کے ساتھ زوجیت کا شرف حاصل ہوا۔ ان ہی کے بطن سے سیدنا امام حسینؓ کے ہاں حضرت علی المعروف بہ امام زین العابدینؓپیدا ہوئے۔
حضرت لیلیٰؒ :یہ محترمہ بنت بنی مرہ بن مرہ بن عروہ بن مسعود بن معتب الثقفی سے تھیں۔ ان کو سیدنا امام حسینؓ کی زوجیت میں آنے کا شرف حاصل ہوا ان کے بطن سے سیدنا امام حسینؓ کے ہاںحضرت علی اکبر متولد ہوئے۔
حضرت ربابؒ:محترمہ بنت امراء القیس بن عدی الکلبیہ سے ہیں۔ حضرت امام حسینؓ کو اپنی ازواج میں سے زیادہ ان کے ساتھ محبت تھی اور ان کا بہت زیادہ احترام و اکرام فرماتے تھے۔ حضرت امامؓ کے یہ اشعار بہت مشہور ہیں جو آپ نے حضرت رباب کے متعلق فرمائے تھے:
سچ یہ ہے کہ مجھے محبت ہے اُس زمین سے جہاں رباب و سکینہ ٹھہری ہیں
ان پر دولت کثیر خرچ کرتا ہوں اورملامت گر کی ملامت کی پرواہ نہیں کرتا
گو وہ یہاں موجود نہیں پر ان سے بے خبر نہ رہوں گا۔ جب تک میںزندہ ہوں او رمٹی نہ چھپالے
جب سکینہ ؒاور ربابؒ اپنے اقارب سے ملنے گئی ہوں تو رات ایسی لمبی نظر آتی ہے کہ دوسری رات بھی پہلی کے ساتھ مل گئی ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام عالی مقام کو حضرت سکینہؒ اور ان کی والدہ ماجدہ سے کس قدر محبت تھی ۔ حضرت سکینہ خاتون انہی کے بطن سے تھیں اور حضرت عبداﷲ المشہور بہ علی اصغر بھی ان ہی کے بطن سے متولد ہوئے۔ یعنی امام حسینؓ کی ایک صاحبزادی سیدہ سکینہ خاتون اور ایک صاحب زادے عبداﷲ یعنی علی اصغر یہ بہن بھائی انہی سے پیدا ہوئے۔ واقعہ کربلا نے آپ کے دل پر بہت گہرا اثر ڈالاتھا۔ اورکیوںنہ ہوتا جب سیدنا حسینؓ کوآپ سے اس قدر انس و محبت تھی اور ان کی یہ کتنی بڑی خوش نصیبی تھی کہ انہیں جنتی جوانوں کے سردارکی زوجیت کا شرف ملا تھا۔اس سے حضرت حسینؓکی شہادت پرجس قدر غمگین ہوتیںکم تھا۔ مگر صبر و استقامت کا دامن کبھی نہ چھوڑا۔بلکہ اس مہر و وفا کی پتلی نے واقعہ کربلا کے بعد اپنے عظیم شوہر کی جدائی پر یہ درد ناک جملے ارشاد فرمائے جو آج بھی تاریخ میں نقش ہیں۔فرمایا:
’’وہ جو نوراور روشنی پھیلاتا تھا کربلا میں مقتول پڑا ہے اسے مدفون بھی کسی نے نہ کیا ۔اے سبط نبی! اﷲ ہماری طرف سے تجھے بہترین جزا دے آپ میزان عمل سے بچائے گے۔یعنی قیامت کے حساب کتاب سے بچائے گئے۔ میرے لئے آپ بلند پہاڑ کی چوٹی تھے جس کی پناہ میں تھی آپ کا برتاؤ رحمدلانہ اور دیندارانہ تھا۔ اب کون رہ گیا جس کے پاس ہر مسکین ، یتیم اور فقیر کو پناہ ملے گی اب مسکینوں کا کون ہے؟ اب اس قرابت کے بعد اور کوئی خوشی پسند نہیں کروں گی حتیٰ کہ ریت اور مٹی کو جا چھوؤں۔یعنی موت تک۔‘‘
حضرت ام اسحاقؒ:یہ محترمہ طلحہ بن عبداﷲ اتسمینہ سے ہیں، ان کے والد معظم حضرت طلحہ عشرہ مبشرہ اصحاب رسول میں سے ہیں ان کو سرکار امام حسینؓ کے ساتھ زوجیت کا شرف ملا اور ان کے بطن سے امام حسینؓ کے ہاں ایک صاحبزادی حضرت فاطمہ صغرأ پیدا ہوئیں۔
حضرت قضاعیہؒ: یہ محترمہ قبیلہ بنو قضاعیہ سے ہیں اسی نام قضاعیہ سے مشہور ہیں۔ ان کو سرکار امام حسینؓ کے ساتھ شرف زوجیت حاصل ہوئی۔ ان کے بطن سے حضرت امام حسینؓ کے ہاںایک صاحبزادے جعفر پیدا ہوئے۔
حضرت فاطمہ صغرا خاتونؒ: ان کی والدہ محترمہ ام اسحاق تھیں، امام حسینؓ کے حین در مقام مدینہ طیبہ یہ جوان تھیں اور ان کا نکاح حضرت حسن مثنیٰ ابن امام حسن ؓکے ساتھ ہو چکا تھااور کربلاکے موقع پریہ بمعہ اپنے بچوں کے اپنے شوہر حسن مثنیٰ کے گھر میں تھیں۔ امام حسینؓ کے مدینہ طیبہ سے رخصت ہونے پر ان کو ہمراہ نہ لے جانے کی یہی وجہ مانع ہوئی کہ یہ شادی شدہ اپنے گھر والی ہیں۔ دوسرا ان کے شوہر تجارت پر باہر تشریف لے گئے تھے ان کی بغیر اجازت کے ان کا لے جانا بھی مناسب نہ تھا۔ واقعہ کربلا کے وقت سیدہ خیر و عافیت کے ساتھ مدینہ طیبہ میں اپنے گھر پر تھیں۔ حضرت فاطمہ صغرأ کے بطن سے حسن مثنیٰ ابن امام حسن کے ہاں تین صاحبزادے ہوئے جن کی نسل روئے زمین میں ہے۔ عبداﷲ المحض، ابراہیم ، حسن المثلث۔
حضرت سکینہ بنت الحسینؓ:ان کی والدہ محترمہ حضرت ربابؒ تھیں واقعہ کربلا کے وقت اپنی والدہ محترمہ کے ساتھ واقعہ کربلا میں موجود تھیںاس وقت ان کی عمر مبارک اس وقت ۷سال تھی کربلا میں ان کے نکاح کی جو روایت مشہور ہے اس کی کچھ اصل نہیں کچھ ایسے کم عقل لوگوں نے یہ روایت وضع کر دی جنہیں اتنی تمیز بھی نہ تھی کہ وہ یہ سمجھ سکتے کہ وہ وقت اہل بیت رسالت کے لئے توجہ الی اﷲ اور شوق شہادت و اتمام حجت کا تھا اس وقت شادی نکاح کی طرف التفات ہونا بھی ان حالات کے منافی ہے۔ پھر حضرت سکینہ کی وفات راہ شام مشہور کی جاتی ہے یہ بھی ہے بلکہ حضرت سکینہ واقعہ کربلا کے بعد عرصہ تک حیات رہیں اور ان کا نکاح حضرت ابن زبیرؓ کے ساتھ ہوا، یہ وہ صاحبزادی سکینہ ہیں جن کے ساتھ سرکار امام ؓ کو شدید محبت تھی اور ان کی والدہ کے ساتھ بھی محبت تھی واقعہ کربلا کے خونی منظر میں یہ شہزادی اور ان کی والدہ موجود تھیں۔(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں