(گزشتہ سے پیوستہ)
سیدنا امام حسینؓ کی شہادت عظمیٰ کے بعد آپ کی نسل روئے زمین میں آپ کے صاحبزادے سیدنا علی المعروف امام زین العابدینؓ سے پھیلی ہوئی ہے۔ اور شہزادی حضرت فاطمہ صغراؓ سے بھی آپ کی نسل روئے دنیا میں آج تک موجود ہے۔
سیدہ زینب بنت علیؓ:سیدہ زینب کبریٰ ؓ نے جس گھرانے میں ہوش کی آنکھیں کھولیں وہ روئے زمین کا بہترین گھرانا تھا، ان کے نانا سید الانبیاء فجر موجودات رحمت دو عالمﷺ تھے تو نانی اسلام کی خاتون اول ام المومنین حضرت خدیجہ الکبریٰؓ تھیں۔ والد اسد اللہ الغالب سیدنا حضرت علی کرم اللہ وجہہٗ تھے تو والدہ سیدۃ النساء فاطمۃ الزہراءؓ بتول تھیں۔ ان کے بھائی جوانان جنت کے سردار سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ شہید کربلا تھے تو چچا محبوب رسول جعفرطیارؓ شہید موتہ تھے۔حضرت زینبؓ مستند روایات کے مطابق جمادی الاولیٰ سن ۵ ہجری میں پیدا ہوئیں۔ سرور دو عالمﷺ نے خود ان کا نام زینبؓ رکھا اور اپنا لعاب مبارک ان کے منہ میں ڈالا۔ان کی کنیت ام الحسن یا بروایت دیگر ام کلثوم تھی۔ واقعہ کربلا کے بعد ان کی کنیت ام المصائب بھی مشہور ہو گئی ۔چند مشہور القاب یہ ہیں:
نائبۃ الزہرا، شریکۃ الحسین، راضیۃ بالقدر والقضا، ناموس الکبریٰ صدیقۃ الصغریٰ، شجاعہ، فصیحہ، بلیغہ، زاہدہ فاضلہ، عالمہ عابدہ، محبوبۃ المصطفیٰ، عاقلہ کاملہ، موثقہ، ولیۃ اللہ، کعبۃ الزرایا، امینۃ اللہ، قرۃ عین المرتضیٰ، خاتون کربلا۔
سنہ ۱۱ ہجری میں سرور عالمﷺ نے رحلت فرمائی تو سیدہ زینبؓ کی عمر چھ برس کے لگ بھگ تھی چھ ماہ بعد ماں کی آغوش شفقت سے بھی محروم ہو گئیں۔ان حادثوں نے ننھی زینبؓ کو سخت صدمہ پہنچایا کہ شفیق ناناؓ اور جانثار ماں دونوں کی جدائی سے وہ اور ان کے دوسرے بھائی سبھی غم و الم کی مورتیں بن گئے۔ سیدنا حضرت علیؓ نے اب بچوں کی تعلیم و تربیت کا کام خود سنبھالا اور کچھ مدت کے بعد ان کی نگرانی کیلئے ام البنین بنت خزام کلابیہ سے نکاح کر لیا۔۔سیدہ زینبؓ جب سن بلوغ کو پہنچیں تو حیدر کرارؓ کے بھتیجے، شہید موتہ حضرت جعفر طیار بن ابی طالب کے فرزند عبداللہؓ اپنے عم محترم کی خدمت میں حاضر ہوئے حضرت زینبؓ کے ساتھ نکاح کی خواہش ظاہر کی۔ حضرت جعفرؓ کی شہادت کے بعد سرور دو عالمﷺ نے خود عبداللہ کی پرورش و تربیت فرمائی تھی اور حضورﷺ کے وصال کے بعد حضرت علی کرم اللہ وجہہٗ ان کے نگران و سرپرست تھے۔ وہ بڑے پاکیزہ اخلاق کے حامل تھے اور سیرت و صورت میں جوانان قریش میں امتیازی حیثیت رکھتے۔ سیدنا علی المرتضیٰؓ نے نہایت سادہ طریق سے لخت جگر کا نکاح حضرت عبداللہؓ سے پڑھا دیا۔ حضرت زینبؓ کی ازدواجی زندگی نہایت خوشگوار تھی ، وہ اپنے شوہر کی بے حد خدمت گزار تھیں اور عبداللہؓ بھی ان کی دل جوئی میں کسر نہیں اٹھا رکھتے تھے۔ اگرچہ گھر میں لونڈیاں بھی تھیں اور خادم بھی لیکن وہ گھر کا کام کاج زیادہ تر خود اپنے ہاتھ سے کرتی تھیں۔ حضرت عبداللہ بن جعفرؓ فرمایا کرتے تھے:’’ زینب بہترین گھر والی ہے۔‘‘
ذی الحجہ۶۰ ہجری میں سیدنا امام حسینؓ نے اہل کوفہ کی دعوت پر اپنے اہل و عیال اور جانثاروں کی ایک مختصر جماعت کے ساتھ مکہ سے کوفہ کا عزم کیا تو حضرت زینبؓ بھی اپنے دو نو خیز فرزندوں کے ہمراہ اس مقدس قافلے میں شامل ہو گئیں۔حضرت عبداللہ بن جعفرؓ اگرچہ خود اس قافلے میں شریک نہ ہو سکے لیکن انہوں نے حضرت زینبؓ اور اپنے بچوں کو امام حسینؓ کے ساتھ جانے کی اجازت دیدی۔۱۰ محرم ۶۱ ہجری کو کربلا کا دلدوز سانحہ پیش آیا جس میں حضرت زینبؓ کی آنکھوں کے سامنے ان کے بچے بھتیجے بھائی اور ان کے متعدد ساتھی شامی فوج سے مردانہ وار لڑتے ہوئے ایک ایک کر کے شہید ہو گئے۔اس موقعہ پر حضرت زینبؓ نے جس حوصلے ،شجاعت اور صبر و استقامت کا مظاہرہ کیا، تاریخ اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔
کہا جاتا ہے کہ نو اور دس محرم کی درمیانی شب کو حضرت امام حسینؓ کی تلوار صاف کی جانے لگی تو انہوں نے چند عبرت انگیز اشعار پڑھے۔حضرت زینبؓ قریب ہی تھیں،یہ اشعار سن کر ان پر رقت طاری ہو گئی اور زبان پر یہ الفاظ جاری ہو گئے:
’’اے کاش آج کا دن دیکھنے کیلئے میں زندہ نہ ہوتی،ہائے میرے ناناﷺ ،میری ماںؓ،میرے باپؓ اور مبرے بھائی حسنؓ سب مجھ کو داغ مفارقت دے گئے۔ اے بھائی اللہ کے بعد ہمارا سہارا اب آپ ہی ہیں، ہم آپ کے بغیر کیسے زندہ رہیں گے۔‘‘
امام حسینؓ نے فرمایا۔’’زینب صبر کرو۔‘‘
حضرت زینبؓ نے روتے ہوئے غرض کیا۔’’میرے ماں جائے، آپ کے بدلہ میں، میں اپنی جان دینا چاہتی ہوں‘‘
امام حسینؓ اپنی پیاری بہن کی دلدوز باتیں سن کر اشکبار ہو گئے لیکن مومنانہ شان سے فرمایا:
’’ اے بہن صبر کرو، خدا سے تسکین حاصل کرو، خدا کی ذات کے سوا ساری کائنات کے لئے فنا ہے۔ ہمارے لئے ہمارے نانا خیر الخلائق ؓ کی ذات اقدس نمونہ ہے۔ تم انہیں کے اسوۂ حسنہ کی پیروی کرنا۔اے بہن تمہیں خدا کی قسم ہے کہ اگر میں راہ حق میں کام آ جائوں تو میرے ماتم میں گریبان نہ پھاڑنا ،چہرہ کو نہ نوچنا اور بین نہ کرنا۔‘‘
جب سیدنا حسینؓ تنہا رہ گئے تو شامی بار بارآپ پر نرغہ کرتے تھے لیکن جوں ہی شمشیر حسینیؓ چمکتی نظر آتی، بھاگ کھڑے ہوتے۔ دوش رسول کے سوار لڑتے لڑتے زخموں سے چور چور ہو گئے لیکن اللہ رے ہیبت کہ کوئی تنہا سامنے آنے کی جرأت نہ کرتا تھا، جمگھٹے بنا کر ہر طرف سے تیروں تلواروں خنجروں اور نیزوں کی بارش کر رہے تھے۔حصین بن نمیر نے ایک نیزہ پھینکا جو گلوئے مبارک میں پیوست ہو گیا اور دہن مبارک سے خون کا فوارہ پھوٹ پڑا ہے۔اپنے چُلو میں تھوڑا سا خون لے کر آسمان کی طرف اچھالا اور فرمایا:’’الٰہی جو کچھ تیرے حبیبﷺ کے نواسے کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔تجھی سے اس کی فریاد کرتا ہوں۔ ‘‘بعدازاںسیدنا حسینؓ حضرت زینبؓ کے سامنے مردانہ وار لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔
۱۲ محرم الحرام سن ۶۱ ہجری کو قافلہ حسینی کے پسماندگان کو جن میں کچھ خواتین بچے اور حضرت زین العابدینؓ جو بیمار تھے، شامی فوج اسیر کر کے کوفہ کی طرف لے چلی۔جب اسیران حق کا لٹا ہوا قافلہ کوفے میں داخل ہوا تو اہل کوفہ ہزاروں کی تعداد میں انہیں دیکھنے کیلئے جمع ہو گئے۔ ان میں سے بعض کی آنکھوں سے آنسو تھے۔ بے وفاکوفیوں کے ہجوم کو دیکھ کر شیر خدا کی بیٹی کو تاب ضبط نہ رہی، ان لوگوں سے مخاطب ہو کر فرمایا:
’’لوگو اپنی نظریں نیچی رکھو،یہ محمد رسول اللہﷺ کی لٹی ہوئی اولاد ہے‘‘
اس کے بعد انہوں نے اہل کوفہ کے سامنے ایک عبرت انگیز خطبہ دیا ایسا معلوم ہوتا تھا کہ خود حیدر کرارؓ تقریر فرما رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کے بعد فرمایا:
’’اے کوفیو، اے مکارو، اے عہد شکنو! اپنی زبان سے پھر جانے والو، خدا کرے تمہاری آنکھیں ہمیشہ روتی رہیں،تمہاری مثال ان عورتوں کی سی ہے جو خود ہی سوت کا تتی اور پھر اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتی ہیں۔تم نے خود ہی میرے بھائی سے رشتہ بیعت جوڑا اور پھر خود ہی توڑ ڈالا۔تمہارے دلوں میں کھوٹ اور کینہ ہے۔تمہاری فطرت میں جھوٹ اور دغا ہے۔خوشامد، شیخی خوری اور عہد شکنی تمہارے خمیر میں ہے،تم نے جو کچھ آگے بھیجا ہے وہ بہت برا ہے۔تم نے خیر البشرﷺ کے فرزند کو جو جنت کے جوانوں کے سردار ہیں قتل کیا ہے خدا کا قہر تمہارا انتظار کر رہا ہے۔
آہ اے کوفہ والو تم نے ایک بہت بڑے گناہ کا ارتکاب کیا جو منہ بگاڑ دینے والا اور مصیبت میں مبتلا کردینے والا ہے یاد رکھو تمہارا رب نافرمانوں کی تاک میں ہے۔اس کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔‘‘
اس خطبہ کو سن کر کوفیوں کو اس قدر ندامت ہوئی کہ ان میں سے اکثر کی روتے روتے گھگی بندھ گئیں۔حذلم بن کثیر جو عرب کے فصیح ترین آدمیوں میں شمار ہوتاتھا وہ بھی حضرت زینبؓ کا خطبہ سننے والوں میں شامل تھا۔ خطبہ سن کر وہ سیدہؓ کے زور بیان فصاحت و بلاغت سے دنگ رہ گیا اور بے ساختہ کہنے لگا:
’’واللہ اے علیؓ کی بیٹی، تمہاے بوڑھے سب بوڑھوں سے ،تمہارے جوان سب جوانوں سے،تمہاری عورتیں سب عورتوں سے اور تمہاری نسل سب نسلوں سے بہتر ہے جو حق بات کہنے میں کسی سے نہیں ڈرتی۔‘‘