برطانیہ میں 6 ہفتے کی الیکشن مہم کے بعد برسرِاقتدار آ نے والی حکمران جماعت لیبرپارٹی نے ایسا لگتا ہے کہ الیکشن میں کیے گئے وعدوں پر تیزی سے پوری طرح عملدرآمد کرنے کے لئے اپنی حتی المقدور کوششوں کا آغاز کردیا ہے وزیراعظم سر کئیر سٹارمر نہ صرف خود سابقہ حکومت کنزرٹیو پارٹی کی داخلی اور خارجہ پالیسیوں کو تبدیل کرنے کے درپے ہیں بلکہ سیکرٹری خارجہ ڈیوڈ لیمی چند دنوں میں ہی برطانیہ کا ورلڈ وائڈ کھویا ہوا مرکزی کردار دوبارہ بحال کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اور کسی لگی لپٹی کے بغیر پوری سچائی کے ساتھ یورپی ممالک سے دوبارہ تعلقات ِبحال اوراستوار کرنے کے درپے ہیں بلکہ امریکہ کے ساتھ تعلقات کو از سر نو ترتیب دینے سے لے کر مشرق وسطی میں جاری اسرائیل کی جانب سے فائر بندی کروا کر خون ریزی کو رکوانے کے لئے کمر بستہ ہیں۔
برطانیہ کے فارن سیکرٹری ڈیوڈ لیمی نے 19 جولائی کو پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ فوری طور پر سیز فائر کیا جائے‘امداد پہنچانے کے لئے غزہ تک راستے کھولے جائیں اور تمام پابندیاں ختم کی جائیں ڈیوڈ لیمی کا کہنا تھا اس وقت غزہ روح زمین پر جہنم کا منظر پیس کررہا ہے انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنے حالیہ دورے کے دوران حماس کی جانب سے حملے میں جان بحق ہونے والے اور پھر اغوا کیے جانے والے اسرائیلی شہریوں کی فیملیز کے افراد سے ملاقات کی ہے جو ناقابلِ بیان ہے جبکہ دوسری جانب غزہ میں اسرائیلی حکومت اور فوجیوں کی جانب سے ہزاروں معصوم فلسطینیوں کو قتل کردیا گیا ہے جبکہ اسرائیل نے فلسطینوں کی اس سال زمین پر جتنا قبضہ کیا ہے اتنا پچھلے 20 سالوں سے نہیں کیا تھا ڈیوڈ لیمی کا کہنا تھا برطانیہ ہر صورت میں فلسطین کو ایک آزاد اور خود مختار ریاست تسلیم کرے گا۔
انہوں نے اعلان کیا کہ برطانیہ اقوام متحدہ کے فلسطینی مہاجرین کے ادارے، UNRWA، کی مالی امداد دوبارہ شروع کرے گا اس سلسلے میں غیر جانبداری کے حوالے سے جائزے کے بعد یقین دہانیاں حاصل کی گئی ہیں، یاد رہے کہ برطانیہ ان 16 مغربی ممالک میں شامل تھا جنہوں نے جنوری میں فلسطینی مہاجرین کی امداد اس لئے اس وقت روک دی تھی جب اسرائیل نے یہ الزام لگایا تھا کہ UNRWA کے 12 عملے کے اراکین حماس کے ذریعہ اکتوبر 2023 ء کے حملوں میں ملوث تھے۔ اس حملے سے متعلق الزامات کی اقوام متحدہ کی اندرونی تحقیقات بھی جاری ہیں لیکن اپریل میں شائع ہونے والی ایک الگ اقوام متحدہ کی جائزہ رپورٹ میں کہا گیا کہ اسرائیل نے اپنے اس دعوے کے لئے شواہد فراہم نہیں کئے تھے کہ UNRWA کے سینکڑوں عملے کے افراد دہشت گرد گروہوں کے ارکان ہیں۔
برطانیہ کی طرف سے دوبارہ امداد بحال کرنے کا یہ اعلان برطانیہ کو ان دیگر ممالک کے ساتھ ہم آہنگ کرتا ہے جنہوں نے مالی امداد اب دوبارہ شروع کر دی ہے، جبکہ اقوام متحدہ کے سب سے بڑے عطیہ دہندہ امریکہ وہ واحد ملک ہے جس نے ابھی تک امداد دوبارہ شروع نہیں کی۔ ہاوس آف کامنز میں بات کرتے ہوئے ڈیوڈ لامی نے کہا کہ کوئی اور ایجنسی” اس پیمانے پر امداد فراہم کرنے کے قابل نہیں تھی جس کی ضرورت غزہ کی “انتہائی” انسانی صورتحال کو کم کرنے کے لیے ہے۔ انہوں نے مزیدکہا کہ UNRWA غزہ کی دو ملین آبادی کے نصف سے زیادہ کو کھانا فراہم کر رہا ہے اور مستقبل کی تعمیر نو کے لیے بہت اہم ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ وہ اسرائیل کے الزامات سے “حیران” تھے، لیکن اقوام متحدہ نے ان دعوئوں کو سنجیدگی سے لیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ ایجنسی اپریل کے جائزے کے بعد اعلی ترین غیر جانبداری کے معیارات پر پورا اترنے کو یقینی بنا رہی ہے۔
اس میں طریقہ کار کو مضبوط بنانا، بشمول جانچ پڑتال شامل ہے، مسٹر لامی نے اراکین پارلیمنٹ کو بتایا کہ برطانیہ کی 21 ملین پونڈز سالانہ امداد کی بحالی میں اقوام متحدہ کے جائزے میں پیش کردہ انتظامی اصلاحات” کے لیے پیسے شامل ہوں گے۔
(جاری ہے)