کسی سیاسی جماعت پر پابندی مستحسن اقدام نہیں۔حکومت نےجب سے تحریک انصاف پر پابندی لگانے کی بات کی ہے۔پورا ملک شور کی زد میں ہے۔تجزیے ہو رہے ہیں۔تبصرے کیے جا رہے ہیں۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران جب پی ٹی آئی پر پابندی کا عندیہ دیا اور کھلے الفاظ میں کہا کہ حکومت پی ٹی آئی پر پابندی کا فیصلہ کر چکی ہے کیونکہ اس کی سرگرمیاں ملک دشمن سرگرمیاں ہیں۔اس حوالے سے وفاقی حکومت کابینہ کی منظوری کے بعد آئین کے آرٹیکل 17 کے تحت ریفرنس سپریم کورٹ میں دائر کرنے جارہی ہے۔یہ ریفرنس حکومت کے نقطہ نظر سے کتنا بار آور ثابت ہوتا ہے،یا یہ ابتدا ہی میں فارغ ہو جائے گا۔قبل از وقت کچھ کہنا مشکل ہے۔ حکومت پاکستان نے تحریک انصاف پر پابندی لگانے کا جو فیصلہ کیا ہے وہ کوئی نئی بات نہیں۔اس سے قبل جماعت اسلامی،پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) بھی پابندی کےاس عمل سےگزرچکی ہیں۔کچھ مذہبی اور جہادی تنظیمیں اب بھی بین ہیں۔ حکومت کو تحریک انصاف پر پابندی کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ کیا وہ مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد سے پریشان ہے۔کیا اسے پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں ملنے کے بعد اپنی حکومت کے ختم ہو جانے کا اندیشہ ہے؟ آج اس تناظر میں بات کریں گے۔کوشش ہو گی بیان کر سکیں کہ حکومت کو قانونی طور پر کیا کسی سیاسی جماعت پر پابندی لگانے کا اختیار حاصل ہے؟ اگر ایسا اختیار حاصل ہے تو کن امور کو بنیاد بنا کر تحریک انصاف پر پابندی کے اس فیصلے کو منطقی انجام تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ پابندی کے لئے بہت ضروری ہے کہ ایک ریفرنس سپریم کورٹ میں بھیجا جائے۔جس میں وہ وجوہات بیان کی جائیں جس کو بنیاد بنا کر حکومت نے پی ٹی آئی پر پابندی کا فیصلہ کیا ؟ سپریم کورٹ ان وجوہات سے اتفاق کرتی ہے یا نہیں؟ یہ ریفرنس دائر ہونے کے بعد ہی معلوم ہو گا،ججز کے ریفرنس پر دوران سماعت کیا ریمارکس آتے ہیں،عدالت کس نتیجے اور فیصلے پر پہنچتی ہے۔حتمی آرڈر کیا جاری ہوتا ہے؟ ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔تاہم پابندی کے اس حکومتی اعلان کے بعد تبصروں اور بیانات کا لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ن لیگ کے کئی رہنما بھی پابندی کے اس حکومتی فیصلے کےحق میں نہیں۔جہاں ایک طرف حکومتی وزرا اور ن لیگ کے رہنما تحریک انصاف پر انتشار کی سیاست کرنے کا الزام لگا رہے ہیں۔وہیں بعض مبصرین کاخیال ہے کہ پابندی کے اس اعلان کا مقصد تحریک انصاف پر دبائو بڑھانا ہے۔وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے اپنی پریس کانفرنس میں یہ اعلان بھی کیا کہ ان کی حکومت عمران خان،سابق صدر عارف علوی اور قومی اسمبلی کے سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری پر آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت غداری کا مقدمہ بھی قائم کرنے جا رہی ہے۔کیونکہ یہ سب لوگ تحریک عدم اعتماد کے دوران آئین توڑنے کے مرتکب پائے گئے ہیں۔آئین کو توڑنا ایک سنگین جرم ہے جس پر آرٹیکل6 کا اطلاق ہوتا ہے۔ حکومت کا یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کو پارلیمانی جماعت تسلیم کرتے ہوئے فیصلہ دیا کہ خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو دی جائیں۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف حکومت نے اگرچہ نظرثانی کی اپیل دائر کر دی ہے تاہم اس نظر ثانی اپیل کا فیصلہ سپریم کورٹ کا وہی 13 رکنی فل بینچ کرے گا جس نے مخصوص نشستوں پر پی ٹی آئی کے حق میں فیصلہ دیاہے۔پی ٹی آئی جن نشستوں پر دعوے کرتی آ رہی ہے،ملنے کی صورت میں قومی اسمبلی میں اس کی84 نشستیں بڑھ کر107 ہو جائیں گی۔یوں یہ سب سے زیادہ نشستوں والی اکلوتی جماعت بن جائے گی۔اس کے مقابلے میں حکومتی جماعت مسلم لیگ(ن) کے پاس 106،پاکستان پیپلز پارٹی کے پاس 69،ایم کیو ایم کے پاس 22 اور جمعیت علمائے اسلام(ف) کے پاس 9 نشستیں ہیں۔اس صورت حال میں کچھ سوالات بھی جنم لیتے ہیں کہ حکومت کو پی ٹی آئی پر بطور سیاسی جماعت پابندی لگانے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ اس کے ملکی سیاست پر کیا اثرات ہوں گے،اور کیا پی ٹی آئی پر پابندی لگانا ممکن ہے بھی یا نہیں؟ وزیر اطلاعات کے مطابق 9 مئی کو جی ایچ کیو اور دیگر فوجی تنصیبات پر حملے،فوجی شہدا کے مجسموں کی بےحرمتی جیسے واقعات،سائفر ایشو،اور امریکہ میں قرار داد سمیت ایسے ٹھوس شواہد موجود ہیں جن کی بنیاد پر پی ٹی آئی پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔پاکستان میں کسی سیاسی جماعت پر پابندی لگانے کا کیا طریقہ ہے؟ آئین کا آرٹیکل 17 کہتا ہے کہ کوئی جماعت اگر ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہے۔اس کے خلاف ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں تو آئین کے آرٹیکل 17 کے تحت اس پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔حکومت کو ایسی جماعت پر پابندی کا مکمل آئینی اختیار حاصل ہے جو پاکستان کی خود مختاری یا ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہو۔اس کے لئے کابینہ کی منظوری ضروری ہے۔کابینہ کی منظوری کے بعد 15 دنوں میں سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کرناہوتا ہے۔پابندی والا معاملہ بھی چونکہ سپریم کورٹ کے پاس ہی حتمی فیصلے کے لئے جانا ہے اس لئے میرا نہیں خیال کہ مخصوص نشستوں والے معاملے کے بعد سپریم کورٹ پی ٹی آئی پر پابندی کا فیصلہ دے گی۔اب یہ قانونی اور سیاسی جنگ ہے۔کس کی ہوتی ہے ہار اور کس کے حصے میں آئے گی جیت؟ جلد اس کا فیصلہ ہو جائے گا۔تاہم سیاسی کیسوں کی سماعت سے عدلیہ میں بھی کافی دراڑ نظر آ رہی ہے۔بہت کچھ ہو گا،بہت کچھ بدل جائے گا۔ہمیں ضرور سوچنا چاہیے کہ اس کشمکش اور سیاسی زبوں حالی سے ملک کا کتنا فائدہ ہو گا اور کتنا نقصان پہنچے گا؟ ملک تو پہلے ہی شدید ترین معاشی بدحالی کا شکار ہے۔