Search
Close this search box.
منگل ,14 جولائی ,2026ء

برطانوی سیکرٹری خارجہ کا اسرائیل کو انتباہ

(گزشتہ سےپیوستہ)
وزارت خارجہ نےکہاکہ 6 ملین پونڈز اقوام متحدہ کے امدادی ادارہ برائے فلسطینی مہاجرین (UNRWA) کی غزہ کے لئے فلیش اپیل میں دئیے جائیں گےاور 15 ملین پونڈز ادارہ کے بجٹ میں اسرائیلی زیر قبضہ فلسطینی علاقوں اور وسیع علاقے میں خدمات فراہم کرنے کے لئے دیے جائیں گے، UNRWA کی ترجمان جولیئٹ تومہ نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو بتایا کہ ادارہ اس اعلان کا خیرمقدم کرتا ہے، جو کہ “ایک نازک وقت پر آیا ہے جب غزہ میں انسانی ضروریات میں مزید شدت آ رہی ہے جبکہ ادارے نے برطانیہ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اپریل کی رپورٹ کی سفارشات کو نافذکر رہا ہے، “خاص طور پر ہمارے پروگراموں میں غیر جانبداری کے اصول کی پیروی جاری رکھنے کے حوالے سے۔دوسری طرف سابق فرانسیسی وزیرخارجہ کیتھرین کولونا کے جائزے میں یہ پایا گیا کہ اسرائیل نے اپنے اس دعوے کے لیے تاحال شواہد فراہم نہیں کیے” کہ “UNRWA کے بڑی تعداد میں ملازمین دہشت گرد تنظیموں کے ارکان ہیں۔ اسرائیل کاکہنا ہےکہ ایجنسی کے 13,000 ملازمین میں سے 2,135 ملازمین حماس یا فلسطینی اسلامی جہاد کے رکن ہیں، جنہیں اسرائیل، برطانیہ، امریکہ اور دیگر ممالک نے دہشت گرد تنظیموں کے طور پر نامزد کیا ہے۔تاہم جائزے میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ ایجنسی کو اپنی غیر جانبداری، عملے کی جانچ پڑتال اور شفافیت کو بہتر بنانے کے لیے مزید اقدامات کرنے ہوں گے۔اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ رپورٹ مسئلے کی شدت کو نظرانداز کرتی ہے، اور دعوی کرتے ہیں کہ UNRWA کے حماس کے ساتھ منظم روابط ہیں۔
اسرائیل نے ابتدائی طور پر الزام لگایا کہ UNRWA کے 12 ملازمین نے جنوبی اسرائیل میں حماس کے حملوں میں حصہ لیا، جن میں 1,200 افراد ہلاک اور تقریبا 250 کو یرغمال بنایا گیا۔ حماس کے زیرانتظام غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، ان حملوں کے ردعمل میں اسرائیل کے غزہ پر فوجی مہم شروع کرنے کے بعد سے 38,000 سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں۔ اپریل میں ادارے نے کہا کہ آٹھ ملازمین تحقیقات کے تحت ہیں، جن میں چار کیسز میں ناکافی شواہد کی وجہ سے تحقیقات معطل کر دی گئی تھیں۔اس نے مزید کہا کہ اس نے سات دیگر ملازمین کے خلاف بھی تحقیقات شروع کی ہیں جن میں سے چھ کیسز زیر التوا ہیں۔ اپنے کامنز بیان کے دوران، برطانوی سیکرٹری خارجہ نے کچھ لیبر اراکین پارلیمنٹ کی جانب سے اسرائیل کو تمام برطانوی ہتھیاروں کی فروخت پر پابندی عائد کرنے کے مطالبات کو بھی مسترد کر دیا۔ گرین پارٹی کےاراکین پارلیمنٹ اور غزہ کےحامی آزاد اراکین کے ساتھ، تقریبا 14 لیبر بیک بینچرز اگلے ہفتے کنگز سپیچ پر بحث کے دوران، حکومت کے قانون سازی کے منصوبوں پر ہتھیاروں کی پابندی کا ترمیمی بل پیش کرنا چاہتے ہیں۔ وزیرخارجہ نے کہا کہ “مکمل پابندی عائد کرنا درست نہیں ہوگا” کیونکہ اسرائیل دنیا کے سب سے مشکل علاقوں” میں دشمنوں سے گھرا ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلحہ برآمد کرنے کے لائسنس “عام طریقے” سے زیرجائزہ رہیں گے، اور حکومت کے وکلا کی جانب سے اسرائیل کی تعمیل کے جائزوں کو دیکھ کر ان کی جانچ کی جائے گی۔ مسٹر لامی نے کہا کہ “جامع جائزہ” جاری ہے اور جب یہ مکمل ہو جائے گا تو وہ اراکین پارلیمنٹ کو آگاہ کریں گےتاہم، انہوں نے اندرونی قانونی مشورے کو شائع کرنے کا وعدہ نہیں کیا یہ وہ چیز ہے جس کا مطالبہ انہوں نے حزب اختلاف میں ہونے پر پچھلی حکومت سے کیا تھا یاد رہے کہ حماس کے اسرائیلی فوجیوں پر حملے کے بعد اسرائیل نے جسطرح انٹرنیشنل قوانین کی دھجیاں بکھیری ہیں اور فلسطینوں کا کشت خون کیا اس کے بعد دنیا بری طرح تقسیم ہوکر رہ گئی اور فلسطینیوں کی حمایت اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف دنیا بھر میں تواتر سے مظاہرے ہوئے ہیں خود لیبرپارٹی کے سینکڑوں کونسلروں نے سیز فائر بندی کے لئے لیبرپارٹی کے کردار پر ناراضگی کے بعد استعفی دے دیا اور ہزاروں کارکنوں نے پارٹی کو چھوڑ دیا تھا جبکہ مسلمان حلقوں میں جہاں لیبر پارٹی کا مضبوط قلعہ سمجھا جارہا تھا 4 جولائی کے الیکشن میں لیبرپارٹی کے خلاف مسلمانوں نےووٹ دیا ہے لیبرپارٹی پر دبائو بہت تھا لیکن اب جبکہ پارٹی کو بھاری اکثریت حاصل ہے لگتا یہی ہے کہ لیبرپارٹی کو غزہ میں سیز فائرکے لئے اسی طرح کھل کر دبائو برقرار رکھناہوگا اور فلسطین کو فوری آزاد ریاست تسلیم کرنا ہوگا برطانیہ کے لئے اس سلسلے بڑی رکاوٹ امریکہ ہے اور برطانیہ روایتی طور پر وہی کرتا ہے جو امریکہ کی پالیسی ہوتی ہے لیکن اس دفعہ برطانیہ فرنٹ لائن پر کھیلتا ہوا نظر آرہا ہے شاید یہی تبدیلی ہے جس کا سلوگن لے کر اس پارٹی کو مینڈیٹ ملا ہے فلسطین کے حمایتوں کو اپنا دبائو برقرار رکھنا ہوگا لیکن اس سلسلے میں سب سےزیادہ کردار برطانوی قوم کا ہے برطانوی سیکرٹری خارجہ پر انکے پرانے ٹویٹ کی بنیاد پر امریکہ میں تنقید کا سلسلہ جاری ہے یہ امر بعید از قیاس نہیں کہ ڈیوڈ لامی کے اسرائیل بارے بیانات اور اقدامات سے برطانیہ میں بھی ان پر اور حکومت پر دبائو بڑھ جائے لیکن سیکرٹری خارجہ کے اقدامات حکومت کے ہی اقدامات سمجھنے چاہئیں۔

یہ بھی پڑھیں