موجودہ حکومت پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کاارادہ رکھتی ہے جیسا کہ وفاقی وزیراطلاعات نے اعلان کیاہے۔ اس غیرمنطقی اور غیر استعدلالی بیان کے فوراً بیشتر سیاسی جماعتوں نے پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کے فیصلے کو مسترد کردیاہے کیونکہ یہ موجودہ مسائل کاحل نہیں ہے۔ ماضی میں جب بھٹو مرحوم کے زمانے میں اور اس سے پہلے جب بھی کسی سیاسی پارٹی پر پابندی عائد کی گئی تھی تو وہ فوراً نئے ناموں سے میدان میں آگئی تھیں‘ عوام کا ووٹ بھی منتشر نہیں ہونے پایاتھا اور نہ ہی عوام نے حکومت کے اس فیصلے کو قبول کیاتھا۔ اب فارم47 کے تحت بننے والی حکومت پی ٹی آئی پرپابندی عائد کرنا چاہتی ہے‘ حالانکہ سپریم کورٹ نے اس کو ایک باضابطہ اور باقاعدہ آئین کی رو سے ایک سیاسی پارٹی کی حیثیت سے تسلیم کیاہے اور انہیں خصوصی نشستیں بھی مل چکی ہیں۔ چنانچہ اگر آرٹیکل 17 کے تحت پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کی کوشش کی گئی تو عوام اس کو کسی بھی صورت میں قبول نہیں کریں گے۔ اس ہی طرح وکلا برادری بھی پی ٹی آئی پر کسی طرح کی پابندی لگانے کے خلاف ہیں۔ اگر ملک کی مقبول ترین پارٹی پی ٹی آئی کوبین کردیاجاتاہے تو پھر ملک میں کون سی سیاسی پارٹی عوام کو درپیش مسائل حل کریگی یا پارلیمنٹ کے اندر اور باہر موثر آواز بن کر ان کے جملہ سیاسی ومعاشی مسائل حل کرنے کی کوشش کرے گی۔ موجودہ حکومت کی100دن کی کارکردگی اس کا بین ثبوت ہے ۔ نیز مہنگائی کا طوفان مسلسل بڑھ رہاہے جو غریبوں کوزندہ درگور کررہاہے۔
دوسری طرف مجھے حیرت اس بات کی ہے کہ ارباب حل وعقد کو یہ ادراک نہیں ہے کہ ملک کس ناقابل تلافی نقصان اور بحران کی طرف جارہاہے؟۔ عوام کے معاشی وسماجی حالات کو نظرانداز کرکے کسی بھی ملک میں سیاسی ومعاشی استحکام نہیں آسکتاہے۔ نیز جولوگ اپنے خاص ایجنڈے کے تحت پی ٹی آئی پرپابندی لگانے کے سلسلے میں محلاتی سازش کررہے ہیں‘ وہ دراصل ایسا اپنے ذاتی مفادات کو بچانے کیلئے کررہے ہیں اگر خدانخواستہ ملک میں کوئی سیاسی طوفان اٹھتاہے تو سب سے پہلے زرداری خاندان اور شریف خاندان اس ملک کو چھوڑ کر چلے جائیں گے۔ ان کی ساری دولت باہر ہے‘ پاکستان میں یہ لوگ ارباب حل وعقد کی مدد سے اقتدار حاصل کرتے ہیں‘ حالانکہ انہیں عوام کی تائید و حمایت حاصل نہیں ہوتی ہے‘ اور نہ ہی ان میں اتنی صلاحیت ہے کہ یہ ملک میں سیاسی ومعاشی استحکام لاسکیں۔ ان کی تعلیم وتربیت میں ایسی روشنی نہیں ہے کہ یہ ملک کو سنبھال سکیں۔
کیا یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ برسراقتدار ٹولہ اسٹیبلشمنٹ کے کاندھوں پرسوار ہوکر ملک اور عوام کے مسائل حل کرنے کی بجائے اپنے مفادات کی تکمیل کررہاہے ‘؟ یہی وجہ ہے کہ ملک میں ابھی تک نہ تو معاشی استحکام پیدا ہوسکاہے اور نہ ہی سیاسی۔ بلکہ ناقابل تردید حقیقت یہ ہے کہ ہرگزرتے دن کے ساتھ پاکستان بحیثیت ایک ملک کے کمزور سے کمزور ہوتا چلا جارہاہے۔ اس کی بڑی وجہ ’’ بڑوں‘‘ کی آپس کی لڑائی ہے۔ ان کے مابین یہ لڑائی اتنی واضح ہوچکی ہے کہ عوام وخواص دونوں کو ملک کا مستقبل خطرے میں نظرآرہاہے۔ بڑوں کی لڑائی سے ملک میں جہاں سیاسی عدم استحکام پیداہورہا ہے وہیں روزمرہ کے سرکاری کام بھی ٹھپ ہوکر رہ گئے ہیں۔بیورو کریسی ان حالات میں سنجیدگی سے کام کرنے کوتیار نہیں ہے بلکہ انہیں اپنی نوکریاں چلے جانے کاخطرہ پیدا ہوگیاہے۔ نیز پاکستان کے اندر اس غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر ملک دشمن عناصر کواپنا کھیل کھیلنے کاپورا موقع مل رہاہے پاکستان کے شمالی علاقوں میں ہونے والی خوفناک دہشت گردی اس بات کی غماز ہے کہ یہ دہشت گرد منظم ہوکر ملک کو ناقابل تشافی نقصان پہچانے پر تلے ہوئے ہیں۔کاش ہماری محترم اسٹیبلشمنٹ کو اس بات کاادراک ہوتاکہ یہ سب کچھ کیوں ہورہاہے اور کیا عوام کے ایک مقبول رہنما عمران خان اور اس کی پارٹی پر پابندی عائد کرکے ملک میں سیاسی ومعاشی استحکام لایاجاسکتاہے۔؟ میرے خیال کے مطابق ایسا نہیں ہوسکے گا۔ نوازشریف اور زرداری عوام کی براہ راست نمائندگی نہیں کرتے ہیں‘ بلکہ محلاتی سازشوں میں شریک ہوکر ملک کو ایسی ڈگر پر لے جارہے ہیں جہاں سے حالات قابو سے باہرہوسکتے ہیں۔
دراصل اس وقت جب میں یہ کالم لکھ رہاہوں‘ مجھے ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری کی وجہ سے عوام میں اندر ہی اندر لاوا پک رہاہے۔ یہ لاوا کسی بھی وقت پھٹ سکتاہے اور جوخشک وتر کو اپنے ساتھ بہا کرلے جائے گا۔ میں یہاں دوبارہ یہ بات عرض کرنے کی کوشش کررہاہوں کہ شریف خاندان اور زرداری خاندان کسی بھی صورت میں اس ملک میں استحکام اور ترقی نہیں لاسکتے ہیں۔ عوام کی نگاہوں میں ان کی کوئی وقعت یا اہمیت نہیں ہے۔ یہ عناصر سازش کرنے میں ماہرہیں لیکن کب تلک؟ سازش کرنے والوں کا ماضی میں کیا حشر ہوا؟ اور کیا سازش کے ذریعے سیاسی وسماجی حالات کو بدلاجاسکتاہے اور نامعقول حکمت عملی سے کب تک اس طرح حکومت چلائی جاسکتی ہے؟مسترد شدہ لوگ حکومت چلارہے ہیں‘ جن کی نہ تو باتوں پریقین کیاجاسکتاہے اور نہ ہی یہ امید کی جاسکتی ہے کہ یہ لوگ عوام کے مسائل پر سنجیدگی سے توجہ دے کر اس کو حل کریں گے تاکہ ملک آگے کی طرف بڑھ سکے۔ لیکن ان کارویہ اور سازشی ذہن ملک کو ترقی معکوس کی طرف لے جارہاہے۔ اور اس معاشرتی افراتفری کی طرف جو ملک میں مزید سیاسی انتشار کا باعث بن سکتاہے ۔ ذراسوچیئے