Search
Close this search box.
اتوار ,14 جون ,2026ء

ڈیجیٹل دہشت گردی سے بنوں دہشت گردی تک

ڈی جی آئی ایس پی آر کی میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو اس قدر بھرپور اور جامع ہے کہ میری دانست میں اس پر مزید تبصرہ یا حاشیہ آرائی کار لا حاصل ہے،شنید یہ ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کا نشانہ بننے والوں نے بھی جوابی بیانیے کی تیاری پکڑ لی ہے، ترجمان پاک فوج لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ عزم استحکام فوجی آپریشن نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر اور مربوط انسداد دہشت گردی مہم ہے اس مہم کا مقصد دہشت گردوں اور کرمنل کے گٹھ جوڑ کو توڑنا ہے ایک سیاسی مافیا اس کے خلاف کھڑا ہوگیا ہے اور اسے متنازع بنارہاہے ایک مضبوط لابی ہے جو چاہتی ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے مقاصد حاصل نہ کئے جا سکیں۔ ہمارا عدالتی و قانونی نظام 9 مئی کے منصوبہ سازوں اور سہولت کاروں کو ڈھیل دے گا اور کیفر کردار تک نہیں پہنچائے گا تو ملک میں انتشار مزید پھیلے گا اور فسطائیت بڑھے گی غیر قانونی اسپیکٹرم کی روک تھام کی ضرورت ہے اس میں غیر قانونی معیشت چھپی ہے جو دہشت گردی کو پھیلا رہی ہے ۔
بنوں امن مارچ میں مسلح لوگ شامل ہوئے جنہوں نے جائے وقوعہ پر فائرنگ کی دیوار کو گرادیا اور راشن ڈپو کو لوٹا ریاست کے خلاف نعرے بازی پتھرائو کیاگیا فوج نے ایس او پیزکے مطابق بالکل درست رسپانس دیا انتشار پسندوں کی جانب سے بنوں واقعہ کے بعد ڈیجیٹل دہشت گردی کی گئی دوسرے ممالک کے بچوں کی تصاویر لگا کر پروپیگنڈہ کیا گیا امن و امان کا قیام صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے فوج کی نہیں ڈیجیٹل دہشت گرد اصل دہشت گردوں کو سپورٹ کررہے ہیںاس وقت پاکستان میں 32ہزارمدارس ہیں16ہزار رجسٹرڈ مدارس ہیں باقی 16ہزار کا پتہ ہی نہیں کہ کون چلا رہا ہے اور کون پڑھ رہا ہے کسی کو بھی ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ وہ پیر کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے ۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاک فوج کے خلاف سوشل میڈیا پر منظم پروپیگنڈہ ڈیجیٹل دہشت گردی ہے جس کو نہ رو کا گیا تو یہ قومی سلامتی کے لئے تباہ کن ہو گاحقیقی دہشت گرد اور ڈیجیٹل د ہشت گرد دونوں ایک ہی کام کرتے ہیں ان دونوں کا ٹارگٹ فوج ہے بتایا جائے کہ ڈیجیٹل دہشت گردی اور فیک نیوز پھیلانے والوں کو جیل ہوئی ،کیا ان کی جائیدادیں ضبط ہوئیں بلکہ انہیں ہیرو بنا کر پیش کیا گیا خارجی دہشت گردوں کا ایک ٹولہ افغانستان اور دوسرا بھارت میں بیٹھا ہوا ہے اور ان کا مقصد پاک فوج کو کمزور کرنا ہے ۔حالیہ کچھ عرصہ میں مسلح افواج کے خلاف منظم پروپیگنڈہ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے بڑھتے جھوٹ اور پروپیگنڈے کے پیش نظر ہم تواتر سے پریس کانفرنس کریں گے انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے ناسور سے نمٹنے کے لئے پاک فوج ، پولیس ،انٹیلی جنس ایجنسیز کے ساتھ ملکر یومیہ 112 آپریشنرکررہی ہے لاکھوں کی تعداد میں غیر قانونی گاڑیاں پاکستان میں ہیں ان نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کو دہشت گردی کے لئے استعمال کیاجاتاہے بے نا می جائیدادیں اور بے نامی اکائونٹس ہیں جن کو اگر بر داشت کیا تو دہشت گرد استعمال کریں گے ، افغان بارڈر کو غیر قانونی تجارت کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے ۔ کروڑوں روپے روزانہ تیل کی اسمگلنگ کے لئے استعما ل ہوتے ہیں ۔ اربوں روپے کمانے والا مافیا ڈالر باہر لے جاتا ہے۔
آپریشن عزم استحکام سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ہم انتہائی سنجیدہ مسائل کو بھی ہم سیاست کی نظر کردیتے ہیںاس پر بلاوجہ ابہام پیدا کیا گیا۔اس میں اتفاق رائے ہوگی اور یہ کاوش کی جائے گی جو کوششیں چل رہی ہیں اس کو موثر قانون سازی کے ذریعے بااختیار بنایا جائے ،ایک قومی سطح پر بیانیہ بنایا جائے گا۔پاکستان میں استحکام قائم کرنے کے لئے یہ نیشنل ایکشن پلان کو دوبارہ متحرک کرے گا اس کے علاوہ کچھ نہیں۔ انہوں نے مثال دی کہ نان کسٹم پیڈ گاڑیاں لاکھوں کی تعداد میں پاکستان میں موجود ہیں یا نہیں؟ یہ اس غیرقانونی اسپیکٹرم کا حصہ ہے نا؟ اس میں اربوں روپے کا بزنس ہو رہا ہے نا؟ انہی نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے اندر دہشت گرد بھی آپریٹ کرتے ہیں، بے نامی پراپرٹیز، بے نامی اکائونٹس کیا یہ اس غیرقانونی اسپیکٹرم کا حصہ نہیں ہیں؟ اگر آپ اس کو برداشت کریں گے تو اس کے اندر دہشت گرد بھی آپریٹ کریں گے۔تمباکو، منشیات کی غیر قانونی اسمگلنگ ہورہی ہے ، غیر قانونی اسپیکٹرم کی روک تھام کی ضرورت ہے،ان کی روک تھام کے لئے نظر ثانی شدہ نیشنل ایکشن پلان کی ضرورت ہے ۔غیر قانونی چیزیں کم ہونگی تو معاشرے کے ہر طبقے سمیت معیشت کی بہتری ہوگی ۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ کسی کو بھی ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گیاس مہم کا مقصد دہشت گردوں اور کریمنل کے گٹھ جوڑ کو توڑنا ہے۔انہوں نے بتایا کہ مدارس کو ریگولیٹ اور رجسٹر کرنے کی بات کی گئی ، تقریباً 32ہزار سے زائد مدارس ہیں ،پاکستان میں اس وقت 16 ہزار رجسٹرڈ ہیں اور 50 فیصد غیر رجسٹرڈ ہیں ۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ افغانستان کے 6 ملکوں کے ساتھ بارڈر لگتے ہیں لیکن باقی ملکوں کے ساتھ تو وہ پاسپورٹ کے ساتھ جاتے ہیں تو پھر ہماری سرحد پر کیوں تذکرے یا شناختی کارڈ دکھا کر اندر چلے جائیں اس کو ایک سافٹ بارڈر رکھا ہے کیونکہ وہ غیرقانونی اسپیکٹرم کو سہولت دیتا ہے ۔2023ء میں ایل سیز کو کم کیا کیونکہ ڈالرز کی قلت تھی تو آپ نے دیکھا ہوگا کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ ایکدم سے اربوں ڈالر کے لحاظ سے بڑھ گیا، روزانہ کی بنیاد پر کروڑوں روپے تیل کی اسمگلنگ سے بنائے جاتے ہیں، 50 سے 60 فیصد غیر قانونی سگریٹ بکتے ہیںاربوں روپے کی اس میں مافیا ہے، ہے یا نہیں ہے؟ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ اگر آپ غیرقانونی اسپیکٹرم کو کم نہیں کریں گے، تو پھر معیشت بہتر نہیں ہوگی؟اس میں ذاتی مفادات ہیں جو اس پر عملدرآمد نہیں ہونے دیتے اور وہ بہت سارا پیسہ بنا رہے ہیں ۔ 9 مئی واقعہ کے بعد انتشاری ٹولے نے پراپیگنڈہ شروع کردیا کہ فوج نے ان کو روکا کیوں نہیں ؟گولی مار دیتے ، یہ بیانیہ چلایا گیا ۔ فوج کا نظام بہت واضح ہے ،فوجی تنصیبات پر اگر بلوا کیا جاتا ہے ،پہلے بات چیت کے بعد روکا جاتا ہے پھر ہوائی فائرنگ کی جاتی ہے ۔

یہ بھی پڑھیں