Search
Close this search box.
پیر ,13 جولائی ,2026ء

عمران خان فوج کے خلاف نہیں ہیں

تحریک انصاف کے سربراہ اور بانی جناب عمران خان نے متعدد بار کہاہے کہ وہ پاکستان کی فوج کے خلاف نہیں ہیں اور نہ ہونگے۔ ان کا یہ بیانیہ کئی بار اخبارات میں شائع ہوچکاہے‘ تاہم موجودہ سیٹ اپ جوالیکشن چوری کرکے اقتدار میں آیاہے وہ فوج(جرنیل) اور عمران خان کے خلاف غلط فہمیاں پیداکرکے اپنے ناجائز اقتدار کو طول دینا چاہتاہے نیز اس ٹولے کی یہ خواہش ہے کہ حاضرجرنیلوں اور عمران خان کے خلاف کسی بھی قسم کی مفاہمت نہ ہونے پائے۔ ان کا مقصد صرف یہ ہے کہ ہر طرف سے پی ٹی آئی کو اقتدار سے دور رکھاجائے اور فارم47 کے تحت ناجائز طور پر اقتدار میں آنیوالے اس ٹولے کا مقصد پاکستانی وسائل پر ناجائز قبضہ کرناہے۔ جس کی تصدیق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں سے پتہ چلتا ہے۔ حالانکہ اس غیر آئینی حکومت نے ہر طرح سے اخبارات پہ دبائو ڈالا ہوا ہے کہ حقائق عوام تک نہ پہنچ پائیں۔ نیز بعض اخبار نویسوں کو مبینہ طور پر’’ مالی امداد‘‘ کے ذریعے خریدکرانہیں ٹی وی اور ریڈیو پر حکومتی موقف پیش کرنے کا پابند کیا گیاہے جوکہ اپنی جگہ انتہائی شرمناک بات ہے۔
لیکن موجودہ غیر آئینی حکومت کا ہرحربہ ناکام ثابت ہورہاہے۔دنیا کو اب پتہ چل گیاہے کہ یہ حکومت عام انتخابات میں دھاندلی کراکر اقتدار میں آئی ہے اس ضمن میں قومی اسمبلی میں محمود خان اچکزئی نے اپنی تقریر میں اس حکومت کے بارے میں صحیح کہاہے کہ اس نے الیکشن کمیشن کے ساتھ ملکر ووٹوں کی تعداد کو اوپر نیچے کیا ہے جو کھلم کھلا آئین کی خلاف ورزی ہے‘ جس کی وجہ سے 8فروری کے انتخابات کو مشکوک بنا دیا ہے‘ یہی وجہ ہے کہ عوام اس سیٹ اپ کوقبول نہیں کررہے ہیں جبکہ عوامی تائید نہ ہونے کی وجہ سے اس کو عالمی سطح پر کسی بھی قسم کی پذیرائی بھی نہیں مل رہی ہے۔ یہاںتک کہ چین نے بھی اس حکومت کے ساتھ مالی تعاون کرنے سے صاف انکار کردیاہے۔ نیز آئی ایم ایف آئندہ جن شرائط پر اس حکومت کو قرضہ دے گا‘ اس کو عوام قبول نہیں کریں گے‘ کیونکہ اس قرضے کو حاصل کرنے کے بعد عوام پر جو نئے ٹیکس لگائے جائیں گے اس کو عوام کس طرح ادا کرسکیں گے‘جبکہ موجودہ عائد شدہ ٹیکس عوام کی مالی حیثیت سے باہر ہے۔
مزید برآں موجودہ حکومت کے کرتا دھرتائوں کے پاس بیرونی ممالک میں روپیہ مختلف بینکوں اور جائیدادوں کی صورت میں رکھا ہوا ہے۔ اس کو واپس پاکستان لاکر پاکستان کو Default سے بچایاجاسکتاہے۔ ورنہ معاملات مزید بہت زیادہ خراب ہوسکتے ہیں۔ اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے موجودہ حکومت کے پاس کوئی واضح حکمت عملی نظرنہیں آرہی ہے۔ وہ اسٹیبلشمنٹ کو عمران خان کے حوالے سے گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ اپنے ناجائز اقتدار کو طول دے سکیں ۔ عوام موجودہ حکومت کے اس بیانیے کو کسی بھی صورت میں قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں ۔ پاکستانی عوام کی اکثریت افواج پاکستان سے محبت کرتی ہے‘ اس کا احترام بھی کرتی ہے‘ لیکن موجودہ حکومت جوہر دفعہ اسٹییبلشمنٹ کا سہارا لے کر اقتدار میں آتی ہے‘ وہ عمران خان کے ساتھ ساتھ ان تمام افراد سے خوف کھاتی ہے جو صرف اور صرف عوام کی تائید وحمایت سے اسمبلیوں میں آتے ہیں اور اقتدار حاصل کرکے عوام کے مسائل حل کرتے ہیں۔
دراصل موجودہ سیٹ اپ اپنے اقتدار کی خاطر فوج کو عمران خان کے خلاف کھڑا کرکے ملک میں خانہ جنگی جیسی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کررہاہے۔ جس میں اس کو کبھی کامیابی حاصل نہیں ہوگی۔ عمران خان ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص ہیں‘ انہیں عالمی سطح پر عوام کی جانب سے پذیرائی حاصل ہے۔ وہ کیوں کر فوج کے خلاف ایسا قدم اٹھائیںگے جو ملک کی تباہی کاباعث بن سکے؟ نیز ان کے بہت سے رشتہ دار پاکستان کی فوج میں کمیشن حاصل کرکے اپنی خدمات پیش کرچکے ہیں‘ نیز اس حقیقت سے ہر باشعور پاکستانی واقف ہے کہ اگر فوج نہیں ہے تو ملک کی سالمیت کاذمہ دار کون ہوگا ؟ کیا دشمن کی فوج پاکستان کی سالمیت کی ذمہ داری لے گی؟یہ وہ سوالات ہیں جس کا جواب صرف یہ ہے کہ فوج اور پاکستان لازم وملزوم ہیں۔ عمران خان کا موقف یہی ہے۔
موجودہ سازشی ٹولہ اپنی ناکامی کو چھپانے کی غرض سے پاکستان کے عوام کو یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ پی ٹی آئی فوج کے خلاف ہے‘ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ عوام بھی سمجھ چکے ہیں کہ 8فروری کے دھاندلی شدہ انتخابات کے ذریعے اقتدار میں آنے والی موجودہ حکومت عوام کے بنیادی مسائل کو حل کرنے میں بری طرح ناکام ثابت ہوئی ہے یہاں تک کہ عالمی سطح پر بھی اس سیٹ اپ کے ساتھ کسی بھی قسم کی اقتصادی مفاہمت نہ ہونے کے برابر ہے ۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ مہنگائی میں ہوشربا اضافہ ہورہاہے۔عوام بجلی کے بل اداکرنے سے قاصر ہیں اور گھروں کا سامان فروخت کرکے بجلی کے بل ادا کررہے ہیں دوسری طرف صنعتیں اور کارخانے بند ہورہے ہیں جبکہ نوکریاں نہ ہونے کے برابر ہیں‘ مسلسل خودکشیاں ہورہی ہیں۔ اس افسوسناک اورغیر یقینی صورتحال کاازالہ کون کرے گا ؟ کیا عمران خان کو مسلسل ٹارگٹ کرکے معاشی وسماجی حالات کو بہتر کیاجاسکتاہے؟ ذراسوچیئے!

یہ بھی پڑھیں