حماس کے ہردل عزیز رہنما اسماعیل ہانیہ کو اس وقت قتل کردیاگیا جب وہ ایران میں موجودہ صدر مسعود پیز شکیان کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کیلئے وہاں گئے تھے۔ انہیں ایک میزائل کے ذریعے شہید کیا گیاہےجس سے متعلق کہاجارہاہے کہ یہ بھیانک کارروائی اسرائیل نےکی ہے۔ اس سےقبل بھی اسرائیل دمشق میں واقع ایرانی قونصلیٹ پرحملہ کرچکاہےجس میں کئی سفارت کاروں کے علاوہ دیگر شہری بھی شہید ہوئے تھے۔ نیز ایران میں کئی نامور سائنسدانوں کے قتل میں بھی اسرائیل کی خفیہ ایجنسی ’’ موساد‘‘ شامل رہی ہے۔ اسرائیل کی اس افسوسناک قابل مذمت کارروائی کی وجہ سے اب حماس اور اسرائیل کے نمائندوں کے درمیان ہونے والی بات چیت کھٹائی میں پڑ گئی ہے بلکہ مستقبل قریب میں حماس اور اسرائیل کےدرمیان کسی بھی قسم کےمذاکرات اب ناممکن ہیں۔ اسرائیل نےاسماعیل ہانیہ کو قتل کرکےدراصل پورے مشرق وسطیٰ میں جنگ کےشعلوں کو بھڑکا دیا ہے نیز مشرق وسطیٰ میں واقع عرب ممالک اسرائیل کی اس حرکت پر سخت غصے میں ہیں۔ انہیں اب یہ احساس ہوچکاہے کہ حماس کی اسرائیل کے خلاف مزاحمتی تحریک بالکل جائز ہے، یہ مزاحمت مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے توسیع پسندانہ اقدامات کے خلاف ہے، جس میں اب تک چالیس ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔ جس میں زیادہ تر تعداد بچوں اور خواتین کی ہے۔
دراصل اسماعیل ہانیہ کو ایران میں شہید کرکے اسرائیل نے ایک طرح سے ایران کو provoke کیاہے تاکہ وہ بھی اسرائیل کے خلاف جنگ میں شامل ہوجائے ۔ ہوسکتاہے کہ ایسا ممکن ہوسکے لیکن ایران کی قیادت اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد پرمشتمل ہے، وہ عجلت میں اس طرح کا فیصلہ نہیں کریں گے لیکن وہ اسماعیل ہانیہ کے قتل کا بدلہ کسی نہ کسی طرح ضرور لیں گے کیونکہ یہ مسئلہ ایران کی سالمیت اور خودمختاری کاہے۔ اگر ایران خاموش رہا اور اس نے اسرائیل کے خلاف کسی قسم کی کارروائی نہیں کی تو اسرائیل کے حوصلے اور زیادہ بڑھ جائیں گے اور وہ لبنان اور یمن پر اپنی فوجی کارروائیاں تیز کرسکتاہے۔ اس لئے اب ضروری ہے کہ اسرائیل کو اسماعیل ہانیہ کے قتل کا موثر جواب دینا چاہیے تاکہ وہ آئندہ اس قسم کی دہشت گردانہ کارروائی نہ کرسکے۔ دراصل اسرائیل کی یہ دیرینہ خواہش ہے کہ کسی نہ کسی طرح ایران کو غزہ کی جنگ میں ملوث کرکے ایران کے اندر بھی فوجی کارروائی کرنے کاجواز پیدا کیاجاسکے ۔ تاہم اسرائیل کو ایران کے خلاف جنگ کرنے کے سلسلے میں کئی بار سوچنا پڑے گا کیونکہ ایران مشرق وسطیٰ میں ایک طاقتور ملک ہے جس کے عوام اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے ملک اور اس کی قیادت سے بے پناہ محبت کرتے ہیں جبکہ اسرائیل کے اندرنیتن یاہو کی موجودہ حکومت کے خلاف مسلسل مظاہرے ہو رہے ہیں۔ نیتن یاہو خود ایک کرپٹ سیاستدان ہے جس کے خلاف اسرائیل کی عدالتوں میں مقدمات زیرسماعت ہیں۔
تاہم اسرائیل نے جس طرح اسماعیل ہانیہ کو قتل کیاہے اس سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آگئی ہے کہ صہیونی ریاست مشرق وسطیٰ میں جنگ کے دائرے کو پھیلاکر ایک طرف ان کے وسائل پر ناجائز قبضہ کرناچاہتی ہے جبکہ دوسری طرف وہ حماس کی صورت میں ایسی تمام مزاحمتی تحریکوں کو بھی ختم کرناچاہتاہےجوصیہونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کے خلاف سینہ سپر ہوکر کھڑے ہوئے ہیں اور اپنے سیاسی معاشی وثقافتی حقوق کی جنگ لڑرہے ہیں۔ اسرائیل نے اسماعیل ہانیہ کو قتل کرکے نہ صرف مشرق وسطیٰ کے امن کومتاثر کیاہے بلکہ اس طرح پوری دنیا کا امن شدید متاثر ہوا ہے، اسرائیل کی اس سفاکانہ اور ظالمانہ کارروائی کی ساری دنیا مذمت کررہی ہے جبکہ روس ، چین اور دیگرامن پسند ممالک نے اسرائیل کی اس کارروائی کو قیام امن کی راہ میں ایک سنگین رکاوٹ سے تعبیر کیاہے۔
دوسری طرف حماس نے واضح الفاظ میں کہاہے کہ ان کے رہنما اسماعیل ہانیہ کی ہلاکت کا بدلہ ضرور لیاجائے گا بلکہ صہیونی ریاست کےخلاف ان کی مزاحمت میں مزید تیزی آئے گی اور غزہ میں جنگ کادائرہ مزید پھیلے گا۔ نیز آخری فلسطینی تک یہ جنگ جاری رہے گی۔ اسماعیل ہانیہ کو قتل کرکے اسرائیل نے یوکرئن کی جنگ سے بھی بلواسطہ توجہ ہٹانے کی کوشش کی ہے، جہاں مغربی ممالک وہاں ابھی تک خاطرخواہ کامیابی حاصل نہیں کرسکے ہیں۔
حکومت پاکستان نے بھی اسماعیل ہانیہ کے قتل پراسرائیل کی مذمت کی ہے۔ پاکستانی عوام کی اکثریت اس ناجائز ریاست کے پہلے ہی خلاف بھی کیونکہ اس کے قیام کا مقصد عرب اور دیگر مسلمان ممالک کے وسائل پر قبضہ کرنامقصود ہےتاہم پاکستان کو اس صہیونی ریاست کے سلسلے میں زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس کی موجودہ اور ماضی کی قیادت پاکستان کے خلاف زہراگلتی رہی ہیں۔ ایران کی طرح پاکستان بھی صہیونی ریاست کی آنکھوں میں کھٹکتاہے بلکہ پاکستان کے اندر ایسے تمام عناصر کی خفیہ مدد کررہاہےجو پاکستان کے قیام کی درپردہ مخالفت کررہےہیں اورپاکستان کو سیاسی ومعاشی طور پر عدم استحکام سے دوچارکرنے کی مذموم کارروائیوں میں مصروف ہیں بلکہ درپردہ اس نسل پرست ریاست سے تعلقات بھی استوار کرناچاہتے ہیں لیکن اب اسماعیل ہانیہ کی شہادت کے بعد وہ پورے مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے امکانات ناپید ہوچکے ہیں۔ بصورت دیگر یہ جوحقیقت کھل کر سامنے آگئی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں قیام امن کا سب سے بڑا دشمن اسرائیل ہے جس کا قیام ناجائز طور عمل میں آیا ہے اور صہیونی ریاست بعض سامراجی طاقتوں کی مددسے فلسطین کے مزید علاقوں پرقبضہ کررہاہےلیکن حماس کی مزاحمت نے اس کےناپاک عزائم پر پانی پھیر دیاہے۔ اب اسماعیل ہانیہ کی شہادت کے بعد اسرائیل کاخود اپناوجود خطرے میں پڑ گیاہے، حماس نے اپنی بےنظیر مزاحمت کا مظاہرہ کرکے اس کو پہلے ہی شکست سے دوچار کردیاہے۔ذرا سوچیے!