Search
Close this search box.
پیر ,13 جولائی ,2026ء

بنگلہ دیش میں ظلم کے خلاف ردعمل

آج کل بنگلہ دیش ہرمحفل میں موضوع بحث بناہوا ہے‘ جس طرح نہتے طالب علموں نے حسینہ واجد کی حکومت کے ظلم جبراور لوٹ مار کے خلاف علم بغاوت بلند کیا‘ وہ ان تمام حریت پسندوں کے لئے مشعل راہ ہے جو اس قسم کے استحصالی نظام سے نہ صرف نفرت کرتے ہیں‘ بلکہ عاجز بھی ہیں۔ بنگلہ دیش کی بھگوڑی وزیراعظم گزشتہ پندرہ سال سے حکومت کررہی تھی۔ ہرالیکشن میں دھاندلی کے ذریعے اقتدار میں آتی تھی‘ اس کواس ضمن میں بھارت کی مکمل حمایت حاصل تھی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بھارت نے حسینہ واجد کے ذریعے پورے بنگلہ دیش کو اپنی کالونی بنارکھاتھا۔ بھارتی افسران جب کسی اجلاس میں شرکت کے لئے بنگلہ دیش آتے تھے تو وہ بڑے تحکمانہ انداز میں کہتے تھے کہ بنگلہ دیش والو ہم نے تمہیں پاکستان سے نجات دلائی ہے۔ ہمارے اس احسان کو کبھی نہیں بھولنا۔ چنانچہ حسینہ واجد کی پندرہ سالہ حکومت میں حزب اختلاف کا کوئی وجود نہیں تھا بلکہ جن سیاستدانوں خصوصیت کےساتھ جماعت اسلامی کے رہنمائوں نے اس کی ظالمانہ پالیسیوں کی مخالفت کرتےہوئے آواز بلند کی تو انہیں سمری ٹرائل کے ذریعے پھانسی پر چڑھادیا گیا۔مزید براں سینکڑوں نوجوانوں کو جن پر شبہ تھا کہ انہوں نے 1971 میں پاکستان کا ساتھ دیاتھا انہیں بھی تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ نیز پاکستان سے غداری کرنے والوں کے لئے ایک ایسا کوٹہ مقرر کیا گیا جو نہ صرف سیاسی بنیادوں پر تشکیل دیا گیا تھا‘ بلکہ اس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ اس کوٹے کے ذریعے ان نام نہاد آزادی کے لئے لڑنے والوں کی مالی مدد جاری رکھی جاسکےتاکہ پاکستان دوست افراداپنا سرنہ اٹھاسکیں۔ یہ سلسلہ گزشتہ پندرہ سالوں سے جاری تھالیکن کب تک ؟ کیونکہ نوجوان طلبا نے محسوس کرلیاتھا کہ اس طرح نہ صرف میرٹ کوقتل کیاجارہاہے بلکہ کوٹے کے ذریعے ایسے عناصر کو سامنے لایاجارہاہے جو حسینہ واجد کی حکومت کی نہ صرف طرف داری کررہے ہیں بلکہ ان افراد پر نظر رکھی جائےجو پاکستان کےساتھ تعلقات استوار کرناچاہتے ہیں۔ اس پس منظر میں حسینہ واجد کا سب سے بڑا قصور یہ تھا ہے کہ اس نے جماعت اسلامی کے بے گناہ افراد کو بغیر کسی جرم کے پھانسی پر لٹکادیا اور ان افراد کو بھی جن کے بارے میں یہ شبہ تھا کہ یہ ڈھکے چھپے انداز میں پاکستان کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ حسینہ واجد کے اس فسطائی طرزحکومت کو بھارت کی مکمل حمایت حاصل تھی بلکہ یہ کہناغلط نہ ہوگا کہ بھارت نے بنگلہ دیش کو اپنی کالونی بنارکھاتھا، بنگلہ دیش کا ایک عام آدمی خصوصیت کے ساتھ نوجوان حسینہ واجد کی بھارت نوازپالیسیوں کے سخت خلاف تھے، وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کی مارکیٹ کو صرف اوربھارت سے وابستہ کردیاجائے۔ گارمنٹ انڈسٹری کی ترقی میں بھارتی سرمایہ داروں نے اہم کردار ادا کیاتھا۔
جہاں تک حزب اختلاف کا تعلق ہے،حسینہ واجد نے خالدہ ضیاء کی پارٹی کو نہ صرف عام انتخابات سے باہررکھا بلکہ انہیں جیل میں رکھ کراپنے سیاسی انتقام کا نشانہ بھی بنایا۔ چنانچہ اس استبداد کے نتیجے میں عوام میں شدید غم وغصہ پایاجاتاتھا نیز عوامی لیگ کے نام نہاد کارکنوں کو حسینہ واجد کی حکومت کی جانب سے ہر قسم کا تعاون حاصل ہونے کے علاوہ غیر معمولی مالی مراعات بھی حاصل تھیں۔ ان کا ایک کام حزب اختلاف کی جماعتوں کے کارکنوں کو مسلسل ڈرادھماکررکھناتھا۔
تاہم جس کوٹےکےخلاف نوجوان طلبا نےحسینہ واجدکی حکومت کے خلاف انقلابی اقدامات کئے، ان میں عام شہری بھی شامل ہوگئے تھے کیونکہ بنگلہ دیش کی اکثریت بنگلہ دیش میں بھارت کی ’’ حکمرانی‘‘ کی شدید مخالف تھے ۔ صحافت پر غیر معمولی پابندیاں عائد کردی گئی تھیں نیز جن صحافیوں نے بھارت کے خلاف اپنے خیالات کااظہار کیا انہیں یا تو جیلوں میں ڈال دیا گیا یاپھر انہیں نوکریوں سے فارغ کرادیا گیا تاہم یہ بات لکھنا ضروری ہے کہ حسینہ واجد کی حکومت میں گارمنٹ انڈسٹری نے خاصی ترقی کی تھی لیکن فائدہ بھارتی اور مقامی سرمایہ دار اٹھارہاتھا جبکہ ایک عام محنت کش کے لئے دو وقت کی روٹی کاحصول مشکل ترین مسئلہ بن چکاتھا۔ یہی وجہ تھی کہ بنگلہ دیش سے ایک بڑی تعداد ملک چھوڑ کر غیر ملکوں کی جانب پناہ لینے پرمجبور ہوگئی تھی۔
تاہم جس طرح نوجوان طلبا نےحسینہ واجد کی پالیسیوں کے خلاف مظاہرے کئے اور اس یقین کے ساتھ کہ اس بھارت نواز ظالم حکومت کوجاناچاہیے۔ دوسرے بنگلہ دیشی فوج طلبا تحریک کی حمایت کررہی تھی، یہی وجہ تھی کہ فوج نے مظاہرین پرگولی چلانے سے انکار کردیاتھا، جو مظاہرین مارے گئے ہیں تقریباً تین سو کے قریب وہ سب پولیس کی کارروائیوں کے ذریعے ہلاک ہوئے ہیں۔ بہرحال اب حسینہ واجد کی بھارت نواز فسطائی حکومت کا خاتمہ ہوچکاہے۔ ان کی جگہ ایک عبوری سیٹ اپ قائم کیا گیاہے جس کے سربراہ نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر یونس ہونگے۔ فوج عبوری سیٹ اپ میں ایسے افراد کو سامنے لائے گی جو بھارت نواز نہیں ہونگے اور نہ ہی ان کاتعلق مجیب الرحمن کی جماعت عوامی لیگ سے ہوگا، یقینا بنگلہ دیش میں یہ انقلاب بھارت کےلئے ایک تازیانہ ہے، بھارت نے حسینہ واجد کی حکومت کی خارجہ اور داخلی پالیسی پر مکمل قبضہ کیاہواتھالیکن اب شاید ایسا نہیں ہوسکے گا۔ بھارت تمام تر کوششوں کے باوجود ماضی کی طرح اب بنگلہ دیش میں اپنا اثر ورسوخ قائم نہیں کرسکےگا۔ دراصل بنگلہ دیش میں نوجوانوں نے جو انقلاب برپا کیاہے۔ اس کے اثرات بہت عرصے تک اس خطے میں محسوس کئے جائیں گے۔ بعض ترقی پذیرممالک میں حکومتیں عوام کے مسائل کونظرانداز کرتے ہوئے صرف اپنے ذاتی مفاد کے لئے کام کرتی ہیں اور ان ممالک کے عوام کو سبز باغ دکھاکر ان کے وسائل پرقبضہ کرکے انہیں محکوم بنالیتے ہیں۔
چنانچہ بنگلہ دیش میں رونما ہونے والے انقلاب سے پاکستانی عوام خاصے متاثر ہوئے ہیں‘ وہ بھی چاہتے ہیں یہاں ایک ایسی حکومت وجود میں آئے جس پر دھاندلی اور کسی قسم کے کرپشن کا الزام نہ ہو اور نہ ہی قرضہ لے کر مملکت کاکاروبار چلایاجائے، اس وقت پاکستان کے عوام معاشی وسماجی طور پر بہت زیادہ پریشان ہیں، حکومت وقت ان کے دکھ درد کا مداوا کرنے میں ناکام نظرآرہی ہے۔اس لئے ارباب اختیار کو چاہیے کہ مملکت خداداد میں موجودہ حالات کو بہتر بنانے کے سلسلے میں نئے شفاف الیکشن کرائےجائیں تاکہ نئی حکومت نئے جذبے اور اتحاد کے ساتھ پاکستان کے عوام کے مسائل کو پائیدار بنیادوں پر حل کرسکے۔ ذرا سوچیے!

یہ بھی پڑھیں