قرآن مجید میں اللہ تعالی نے انسان کو “خلیفہ” یعنی اپنا نائب مقرر فرمایا ہے۔ انسان کو زمین پر اللہ کے احکام کی پیروی کرتے ہوئے عدل، انصاف، اور امن کے فروغ کا ذمہ دار بنایا گیا ہے۔ اس حیثیت میں انسان کو یہ شعور دینا ضروری ہے کہ وہ صرف ایک جسم نہیں، بلکہ ایک ذمہ دار روح ہے جسے ایک خاص مقصد کے تحت پیدا کیا گیا ہے۔انسان کی اصل اور ابدی منزل عالم ابدی ہے۔ جہان جنت اور دوزخ کے جہان ہیں۔ جو اللہ سبحانہ و تعالی اپنی رحمت اور عدل سے اپنی مخلوق کو عطافرمائیں گے۔ جو مستقل اوردائمی قیام کا جہان ہوگا۔ جہان دکھ، غم، پریشانی ،کام محنت اوربیماری ، بڑھاپے اور موت کا کوئی تصور باقی نہ ہوگا۔ عیش و راحت اور خوشیوں کاجہان خدا تعالی کے کرم و عنائت سے خدا تعالی کے بندوں کو ہدیہ انعام ہوگا۔ اسلام کے مطابق، انسان کی اصل منزل اللہ کی طرف واپسی ہے۔ دنیاوی زندگی ایک امتحان کی مانند ہے۔
جہاں انسان کو اللہ کی اطاعت اور احکام کی پیروی کرنی ہوتی ہے تاکہ انسان اطاعت گزار ہو کر آخرت میں کامیابی کی منزل پہ فائز ہو سکے۔ دنیا کی زندگی ایک عارضی جگہ ہے، جہاں انسان کو آزمائشوں اور چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس زندگی کا مقصد اللہ کی بندگی اور اس کے احکام کی پیروی کرنا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالی نے فرمایا: “ہم نے انسان اور جنات کو صرف اس لیے پیدا کیا کہ وہ میری عبادت کریں )سورہ الذاریات: 56)۔) آخرت کی زندگی ہی انسان کی اصل منزل ہے۔ قرآن اور حدیث میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ دنیا کی زندگی ایک پل ہے جو آخرت کی طرف لے جاتی ہے۔ مومن کے لیے جنت اور نافرمان کافر کے لیے جہنم آخرت کی منزل۔ انسان کی سب سے بڑی کامیاب منزل اللہ کی قربت ہے۔ صوفیا کرام کے نزدیک، انسان کی زندگی کا مقصد “قرب الہی سے وصالِ الہی کی منزل مرادہے۔ یعنی اللہ کے قرب کو پانا ہے۔ یہ قربت دل کی پاکیزگی کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ نماز، ذکر، اور اللہ کے احکامات کی پیروی اور اطاعت قرب کی منزل مراد تک پہنچاتی ہے۔ لہذا انسان کو اپنی اصل منزل کی طرف گامزن رہنے کے لیے اللہ پر مکمل ایمان ، بھروسہ اور اس کی رضا پر راضی رہنا ضروری ہے۔ اللہ کی رضا کو حاصل کرنا ہی حقیقی کامیابی ہے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالی نے فرمایا: “اور وہ لوگ جنہوں نے اللہ کو راضی کیا اور اللہ ان سے راضی ہوا، وہی حقیقی کامیابی حاصل کرنے والے ہیں” (سورہ التوبہ: 72)
حقیقت انسان یہ ہے کہ وہ اللہ کی ایک خاص تخلیق ہے جسے دنیا میں ایک عارضی مقصد کے لیے بھیجا گیا ہے۔ اس کی اصل منزل اللہ کی رضا اور اس کی قربت حاصل کرنا ہے۔ دنیا کی زندگی فانی اور عارضی ہے، جبکہ آخرت کی زندگی دائمی اور ابدی ہے۔ انسان کو اپنی دنیاوی زندگی کو آخرت کی تیاری کے لیے استعمال کرنا چاہیے تاکہ وہ اپنی اصل منزل یعنی اللہ کی قربت اور جنت کی دائمی زندگی کو حاصل کر سکے۔ انسانی وجود کو اکثر پیدائش اور موت کی حدود میں دیکھا جاتا ہے۔ زمین پر گزارے گئے سال ایک سفر ہیں، جس میں نشوونما، سیکھنے اورخود شناسی شامل ہیں۔اللہ تعالی نے اپنی رحمت اور قدرت سے انسان کو پیدا کیا اور اسے اشرف مخلوقات کا تاج پہناکرمعزز مقام پر فائز کردیاجس پر بنی آدم کو اللہ کا ھمیشہ شکر گزار رہنا چاہئے۔ اور اپنے مقام کرامت کا پاس کرناچاہئے۔ اہل بصیرت جیسے عظیم بزرگ حضرت جلال الدین نے معرفت کی شاعری کے ذریعہ انسانی حقیقت اور اس باطن بیدار اہمیت اور ضرورت اور حقیق مقام اور منزل مراد و پانے کیلئے اپنے خالق و مال محبت اور طاعت و رضا مین غرق ہوجانے کی تعلیم و ہدایت بہت دلکش اور خوبصورت انداز مین بیان کی ہے۔ حضرت روم نے فرمایا ، اپنے آپ کو چھوٹا نہ سمجھو۔ اپنے اندر دیکھو؛ پور کائنات تمہارے اندر ہے”، جو تجویز کرتا ہےکہ ہرشخص کائنات کاایک جزو ہے، جس میں لامحدود امکانات اورانعکاسات ربانی ہیں۔ اسی طرح عظیم عالم اورصاحب عرفان صوفی حضرت محی الدین ابن عربی نے “انسانی مملکت” کی بات کی، جو اشارہ کرتی ہےکہ انسانوں کا ایک منفرد اور عظیم مقام ہے، جو صفات کے مظہر اور گہرے روحانی حقائق کو سمجھنے کے قابل ہیں لہذا ہمیں اپنے عالی مقام کا پاس و لحاظ رنا چاہے اور شیطانی چالون مین آکر اپنے مقام شرف کرامت سے نیچے گر کر اپنی اصل منزل جنت سے محروم ہو نے کی ہر شیطانی چال سے قدم قدم بچنا چاہئے تاکہ ہمیشہ کی ناکامی سے بچ جائین۔