Search
Close this search box.
پیر ,13 جولائی ,2026ء

رب کا احسان : پاکستان

یوم آزادی کی آمد آمد ہے۔ ستتر برس قبل پاکستان آزاد مملکت کی حیثیت سے عالمی نقشے پہ ابھرا۔ راقم اس طبقے سے تعلق رکھتا ہے جو پاکستان کو عطیہ خداوندی سمجھتا ہے۔ آزاد مملکت کی صورت میں رب کریم نے مسلمانان برصغیر کو ایک عظیم نعمت عطا فرمائی ہے۔ اس عطیہ خداوندی کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے۔ وطن عزیز میں رب کائنات کی بے پناہ رحمت کے جلوے کثرت سے دکھائی دیتے ہیں ۔ قدرتی وسائل پہ نگاہ ڈالیں تو دل سے صدا نکلتی ہے کہ تم اپنے رب کی کون کون سے نعمت کو جھٹلائو گے۔
جب مملکت کے قائم کرنے والوں نے مسلم قومیت کی شناخت اپناتے ہوئے اسلامی طرز حیات کو اختیار کرنے کا عہد کیا تو رب کریم نے بھی رحمتوں کے خزانے کھول دئیے۔ پاکستان ان گنے چنے ممالک میں سے ہے جنہیں قدرت نے سمندر ، زرخیز زمین ، دریا ، نہری آبپاشی نظام ، تیل گیس سمیت بیش قیمت معدنی وسائل، برفپوش کہسار ، صحرا اور قدرتی نظاروں سے مزین مسحور کن مقامات سے نوازا ہے۔پاکستان کی آبادی میں نوجوانوں کا تناسب 65 فیصد کے لگ بھگ ہے۔ افرادی قوت کے اس عظیم اثاثے کو حسن انتظام سے ملکی ترقی کی بنیاد بنایا جا سکتا ہے۔ ان نعمتوں کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے۔
مقام افسوس یہ ہے کہ آج کل ایک مخصوص طبقہ پاکستان میں شکر کے بجائے شکوے شکایت کی جانب مائل ہے۔ صرف آزادی کی نعمت کی قدر جاننی ہو تو اپنے ارد گرد دنیا کا جائزہ لینا چاہئے۔ مقبوضہ کشمیر میں شدت پسند ہندوستانی حکومتوں کے مظالم کا چرچا عالمی میڈیا میں ہو رہا ہے۔ ہندوستان کے دیگر علاقوں میں بی جے پی اور اس کی مادر تنظیم آر ایس ایس نے مسلمانوں سمیت تمام مذہبی اقلیتوں کا جینا حرام کر رکھا ہے۔ مسلمان خواتین کو حجاب استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ مساجد اور خانقاہوں کو بزور قوت مسمار کیا جارہا ہے۔ بابری مسجد کی طرز پر متعدد مساجد پر قبضہ کر کے انہیں مندر بنانے کے منصوبوں پہ علی الاعلان عملدرآمد کیا جا رہاہے۔ راشٹریہ سینک سنگھ کے کار سیوک یعنی نظریاتی کارکن کہیں بھی کسی بھی مسلمان پہ گئو ہتیا یعنی گائے ذبح کرنے کا الزام لگا کر سر عام ہجوم کے تشدد کا نشانہ بنا کر موت کے گھاٹ اتار سکتے ہیں۔ تقسیم کے وقت کانگریسی نیتائوں کے جھانسے میں آنے والی سکھ برادری بھی آج بھارت کے جبر و استبداد کا شکار ہے۔ بھارت میں ہی نہیں بلکہ بیرون ملک بھی مودی سرکار کرائے کے قاتلوں کے ذریعے سکھ راہنمائوں کو خالصتانی دہشت گرد قرار دے کر قتل کروا رہی ہے۔ آزادی جیسی انمول نعمت کی قدر جاننے کے لئے ان اقوام کی تاریخ پہ نگاہ ڈالیں جو مغربی اقوام کی کالونیاں رہ چکی ہیں یا اپنی متفرق کمزوریوں کی بدولت اپنے سے کئی گنا طاقتور اقوام کے رحم و کرم پر ہیں۔
بد قسمتی سے دو قومی نظریے کی بنیاد پہ قائم ہونے والا پاکستان جلد ہی قائد اعظم کے سائے سے محروم ہو گیا۔ رفتہ رفتہ ملک کی باگ ڈور مفاد پرست عناصر کے تسلط میں آگئی۔ جناح اور اقبال کا پاکستان اٹھائی گیروں اور استحصال کرنے والی اشرافیہ کے قبضے میں چلا گیا۔ آج کا معاشی ، انتظامی اور سیاسی بحران ستتر سالہ بد اعمالیوں کا نتیجہ ہے۔ ملکی زبوں حالی کو بنیاد بنا کر پاکستان پہ دشنام طرازی کرنے والے طبقات نا انصافی کرتے ہیں۔ قائد اعظم اور حکیم الامت حضرت اقبال نے آزادی کی جدوجہد اس لئے تو نہیں کی تھی کہ ملک پہ بدعنوان عناصر قابض ہو سکیں۔ جس دو قومی نظریے کی بنیاد پہ پاکستان وجود میں آیا اس میں کوئی نقص نہیں۔ اصل نقص تو پاکستان میں سیاست کی آڑ میں مفاد پرستی اور کرپشن کا بازار گرم کرنے والوں میں ہے۔ پاکستان تو عطیہ خداوندی ہے۔ پاکستان میں کوئی خرابی نہیں ۔ اصل خرابی تو پاکستان کو چلانے والوں میں ہے۔ سوشل میڈیا کے محاذ پہ خیالی انقلاب کے معرکے بپا کرنے والے فارمی کامریڈ قیام پاکستان پہ خامہ فرسائی کرنے کے بجائے اپنے اپنے پسندیدہ قائدین کی کار کردگی کا تنقیدی جائزہ لیں۔ قوم کی گردن میں کرپشن اور بیرونی قرضوں کا طوق کسی اور نے نہیں بلکہ نا اہل حکمرانوں اور بدعنوان نوکر شاہی نے ڈالا ہے۔ اپنے پسندیدہ لیڈروں کی نا اہلیوں کا غصہ پاکستان پہ نکالنا جائز نہیں۔ دو قومی نظریے کے ناقدین بھارت میں ہندوتوا کی لہر اور مودی سرکار کی مسلم دشمن مہم جوئی پہ توجہ فرمائیں تو انہیں قیام پاکستان کی اہمیت خود بخود سمجھ آجائے گی۔
سوشل میڈیائی انقلابیوں کا وہ جتھا جو ہمہ وقت افواج پاکستان پہ تبرہ بازی میں مشغول ہے اسے بھی چاہئے کہ عراق‘ لیبیا اور شام کے حالات پہ غور کرتے ہوئے کسی تعمیری سر گرمی میں حصہ ڈالے۔ مانا کہ آج پاکستان سیاسی و معاشی عدم استحکام کا شکار ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ سدا یہی حالات رہیں گے۔ تمام مسائل کا حل اتحاد ، ایمانداری ، جفاکشی ، حکمت و دانائی میں پنہاں ہے۔ یہ وہی پاکستان ہے جسے عالم اسلام کی پہلی ایٹمی قوت ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ ایک دور میں کرکٹ‘ ہاکی‘ اسکواش ‘کشتی رانی اور سنو کر کے عالمی اعزاز پاکستان کے پاس تھے۔ پاکستانی ہنر مندوں ، ڈاکٹروں ، اساتذہ اور انجینئر ز کی مہارت کا دنیا بھر میں چرچا تھا۔ یاد رکھئے کہ پاکستان کسی غیر ملکی امداد اور معاونت کے بغیر خالص جذبہ ایمانی کی بنیاد پہ قائم ہوا تھا۔ یہ ملک اسلام کی بنیاد پہ قائم ہوا تھا اور اسلام سے وابستہ رہنے میں ہی اس کی بقا ہے۔ پاکستان کوئی نظریاتی مغالطہ نہیں بلکہ رب کا احسان ہے۔

یہ بھی پڑھیں