Search
Close this search box.
پیر ,13 جولائی ,2026ء

ار شد ند یم کا گولڈ میڈل اور ما ئیں

صا حبو، آپ کئی با رپڑھ چکے ہوں گے اور میں بھی ۔ مگر دل ہے کہ اس بڑی خو ش خبر ی سے بھر تا ہی نہیں، اس لئے میں بھی دہراتا ہوں کہ آپ پھر پڑھیں کہ92.97کی گولڈن تھرو کر کے ارشد ندیم نے تاریخ رقم کردی ہے اور اولمپکس میں نیا ریکارڈ بنا دیا ہے۔ ٹریک اینڈ فیلڈ میں پاکستان کا یہ پہلا گولڈ میڈل بھی ہے۔ ندیم ارشد نے مینز جیولین تھرو ایونٹ کے فائنل میں 92.97میٹر ریکارڈ فاصلے پر نیزہ پھینک کر نیا اولمپک ریکارڈ بنایا۔ اولمپک گیمز میں پاکستان نے 32 برس بعد کوئی میڈل جیتا ہے جب کہ سونے کا میڈل 40 سال بعد حاصل کیا ہے، ارشد ندیم کو انفرادی مقابلوں میں پاکستان کو پہلا گولڈ میڈل دلانے کا بھی اعزاز حاصل ہوا۔
ظا ہر ہے دنیا بھر سے ارشد کو مبارک اور سلا مت کے پیغا ما ت ملے چلے جا رہے ہیں ۔مگر ان مبارکوں اور سلا متوں میں سب سے بڑا مبارک با د کا پیغام بھا رتی کھلا ڑی نیر ج چو پڑا کی ماں کا ہے۔ اس عظیم ماں کا کہنا تھا کہ ارشد بھی میرا بیٹا ہے۔اورپھر نیرج کی ماں نے اور ارشد کی ماں نے ایک دوسرے کو مبارک با د دے کر پا کستان اور بھارت کے درمیان خیر سگا لی کی نئی بنیا د رکھ دی۔ اب دعا ہے کہ دونوں ممالک حکو متی سطح پر بھی مائوں کے جزبوں کو اپنا ئیں۔
بہر حال اب وا پس آ تا ہوں پیرس اولمپکس کی جا نب۔ توپاکستان نے پیرس اولمپکس میں حصہ لینے کے لیے کھلاڑیوں کا جو دستہ بھیجا، اس میں سے صرف ارشد ندیم کو ہی پاکستان کی واحد میڈل امید قرار دیا جارہا تھا، ایتھلیٹس گیمز میں پاکستان کے 7 کھلاڑیوں نے حصہ لیا، 6 تو کوالیفائنگ مرحلے میں ہی آخری نمبروں پر رہے اور ایونٹ سے باہر ہوگئے۔ اس سے پاکستان کے کھلاڑیوں کی صلاحیت اور اہلیت کا بھی اندازہ ہوتا ہے جب کہ ان کھلاڑیوں کا انتخاب کرنے والوں کے معیار اور شناخت کرنے کی صلاحیت کا بھی پتہ چل جاتا ہے۔ پاکستان میں وفاقی سطح پر کھیل کی وزارت ہے، اس وزارت میں یقینا افسران اور ملازمین بھی ہوں گے، جنھیں قومی خزانے سے تنخواہیں بھی ادا کی جاتی ہوں گی لیکن یہ وزارت کیا کرتی ہے، اس کا دائرہ اختیار کیا ہے، اس وزارت کے وزیر، سیکریٹری اور دیگر افسران و اہلکار اپنے ڈیوٹی آورز کیسے گزارتے ہیں، اس کے بارے میں حکومت کو کوئی وائٹ پیپر یا کوئی اور فہرست ضروری جاری کرنی چاہیے تاکہ اس ملک کے ٹیکس پیئرز کو بھی پتہ چل سکے کہ ملک کو وزارت کھیل کی ضرورت ہے بھی کہ نہیں؟ اسی طرح ہاکی فیڈریشن، فٹ بال فیڈریشن اور کبڈی فیڈریشن بھی موجود ہے ان پر بھی سرکاری خزانے سے پیسہ خرچ ہو رہا ہے لیکن نتائج توقعات سے کم ہیں۔ ہاکی کے زوال اور فٹ بال کی پستی کے بارے میں گاہے بگاہے خبریں آتی رہتی ہیں لیکن اس حوالے سے کبھی کوئی ٹھوس اور مثبت لائحہ عمل دیکھنے میں نہیں آیا جب کہ کبڈی کے کھیل پر تو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی توجہ ہی نہیں ہے۔ افسر شاہی اس کھیل کو دیہی طبقے کی تفریح سمجھتے ہیں۔ افسر شاہی کے کل پرزے چونکہ گالف، ٹینس، اسکواش، چیس، گھڑ دوڑ یا کرکٹ کھیلتے اور دیکھتے ہیں، اس لیے افسر شاہی کی نظر میں باقی سب کھیل فضول اور غیرمہذب ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان عالمی کھیلوں میں بڑا نام نہیں بن سکا ہے۔ پیرس اولمپکس میں میڈلز کی تعداد کے حوالے سے چین اور امریکا کی تو بات چھوڑیں، ایران کے ٹوٹل میڈلز کی تعداد 6 ہے جن میں 2 سونے کے میڈل شامل ہیں۔ فلپائن بھی ایک پسماندہ ملک ہے۔ اس کے میڈلز کی تعداد 4 ہے جس میں 2 سونے کے میڈل ہیں۔ افریقہ کے ملک کینیا کے ٹوٹل میڈل 5 ہیں جن میں ایک سونے کا تمغہ بھی شامل ہے۔ ان اعداد وشمار کو دیکھ کر پاکستان کی معیشت کی حالت کا بھی بخوبی اندازہ ہوتا ہے اور پاکستان کی حکومتوں کی ترجیحات کا بھی بآسانی پتہ چل جاتا ہے۔ پاکستان میں پارلیمنٹیرینز کے لیے اربوں روپے کے ترقیاتی فنڈز مختص کیے جاتے ہیں، وزراء، مشیران اور معاونین کی بھی بھرمار ہے، ان پر بھی سرکاری خزانے سے خرچ کیا جاتا ہے لیکن ایسے کام جن سے ملک کی عزت اور شان بڑھے، ان پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے۔ جتنے پیسے کرکٹ بورڈ کے پاس ہیں، اگر اس کا بیس فیصد بھی والی بال، بیڈمنٹن، ٹیبل ٹینس اور اتھلیٹکس پر خرچ کیا جائے، محنتی پروفیشنلز کو ملازمت دی جائے، تو چند برسوں میں پاکستان ان کھیلوں میں عالمی پوزیشن حاصل کر سکتا ہے۔
پھر لکھتا ہو ں کہ اس سارے منظرنامے میں پاکستان کے لوگوں نے ارشد ندیم کی والدہ اور دوسرے نمبر پر رہنے والے بھارتی کھلاڑی نیرج چوپڑا کی والدہ کے تبصروں کو بہت پسند کیا ہے۔ درحقیقت متنازع سرحد کے اطراف کی دو ماؤں کی طرف سے ارشد کی یادگار کامیابی کوگلے لگانا سب سے زیادہ شاندار اورجاندار لمحات تھے۔ دنیا بھر کے کروڑوں لوگوں کا انسانیت پر یقین اس وقت زندہ ہوگیا جب ارشد ندیم اور نیرج چوپڑا کی ماؤں نے نتائج کو خوش اسلوبی کے ساتھ قبول کیا اور دونوں کو اپنا ’’بیٹا‘‘ قرار دیا۔ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ آج کی مادیت پسند دنیا میں ایسے رویے ناپید ہوچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں