Search
Close this search box.
هفته ,20 جون ,2026ء

زندگی کا عظیم مشن بلا استثنیٰ سب کا بھلا اور نیک خواہشات

زندگی ایک سفر ہے جو بہت سے اسباق سے بھرا ہوا ہے اور ان میں سے سب سے اہم حقیقت یہ ہے کہ دوسروں کے لئے بہترین خواہشات کرنا اور بھلا چاہنا اپنے لئے ہی اللہ کے انعامات لاتا ہے۔ قرآن و احادیث کے مطابق انسانوں میں سب سے بہتر وہ ہے جو دوسروں کا بھلا اور فائدہ چاہتا اور کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ محبوب اعمال وہ ہیں جو لوگوں کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔ زندگی نے مجھے سکھایا کہ سب کے لئے بغیر کسی استثنیٰ کے بہترین خواہشات رہیں۔
دوسروں کی خوشی میری خوشی کو متاثر نہیں کرے گی۔ ان کی دولت میری روزی کو نہیں کم کرے گی اور ان کی صحت میری صحت کو نہیں لے جائے گی۔ میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ وہ مجھے اور آپ کو دوسروں کے لئے سود مند بنائے۔ آئیے اس خوبصورت احساس کی گہرائی اور مضمرات کو سمجھیں اور اپنی زندگی کا مشن بنا لیں۔ ہم میں سے بہت سے لوگوں کے پاس سب سے بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ برکتوں کی قلت ہے۔ ہم اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ زندگی کی نعمتیں محدود ہیں اور دوسروں کی کامیابی یا خوشی ہماری اپنی کامیابی کو کم کرتی ہے۔ یہ ذہنیت حسد، مقابلہ اور بے چینی کو جنم دیتی ہے۔ تاہم زندگی نے مجھے سکھایا ہے کہ کائنات کی بنیاد سخاوت اور فیاضی پر ہے۔ خوشی، کامیابی اور فلاح و بہبود سب کے لئے کافی ہے۔
جب ہم اس حقیقت کو سمجھتے ہیں، تو ہم دوسروں کی کامیابیوں اور خوشیوں میں حقیقتاً خوشی محسوس کر سکتے ہیں بغیر کسی توقف کے۔دوسروں کے لئے بہترین خواہشات کرنا ایک ایثار کا عمل ہے جو ہمیں تبدیل کر دیتا ہے۔ یہ ہمارے دلوں کو کھولتا ہے، مثبت تعلقات کو فروغ دیتا ہے اور خیرخواہی کی لہر پیدا کرتا ہے۔ ایثار صرف بڑے اعمال میں نہیں ہوتا، یہ روزمرہ کی مہربانیوں میں، دوسروں کی فلاح و بہبود کے لئے خاموش دعائوں میں اور حقیقی مسکراہٹوں میں ہوتا ہے۔
حدیث میں ہے کہ دوسروں کو مسکراہٹ سے دیکھنا صدقہ ہے۔ یہ اعمال، اگرچہ چھوٹے نظر آتے ہیں، ہمارے اپنی خوشی اور اطمینان میں بہت بڑا کردار ادا کرتے ہیں۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ مہربانی کے اعمال ہماری ذہنی صحت کو بہتر بناتے ہیں، تنائو کو کم کرتے ہیں اور زندگی کی خوشیوں کو بڑھاتے ہیں۔ ہماری فلاح و بہبود دوسروں کی فلاح و بہبود کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ یہ جڑائو بہتسی روحانی روایتوں کا بنیادی اصول ہے۔ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بات پر زور دیا کہ جو کچھ ہم اپنے لئے چاہتے ہیں، وہی دوسروں کے لئے بھی چاہیں۔مثبت آرا ء ہماری زندگیوں اور ہمارے ارد گرد کے لوگوں کی زندگیوں پر گہرا اثر رکھتی ہیں۔ جب ہم دوسروں کے لئے بہترین خواہشات کرتے ہیں، تو ہم مثبتیت اور حمایت کا ماحول بناتے ہیں۔ اس سے ہماری اپنی زندگیوں میں بھی مثبت تجربات آتے ہیں۔ کشش کا قانون کہتا ہے کہ جیسا چاہتے ہیں، ویسا ہی ہمیں ملتا ہے، دوسروں کے لئے مثبت نتائج پر توجہ مرکوز کر کے، ہم خود کو اسی مثبتیت کے ساتھ ہم آہنگ کرتے ہیں۔ اس سے نہ صرف ہماری ذہنی اور جسمانی صحت بہتر ہوتی ہے بلکہ نئے مواقع اور ترقی کے دروازے بھی کھلتے ہیں۔
خدا سے ہمیں خوش رکھنے کی دعا کرتے ہوئے اس بات کو مد نظر رہنا چاہیے کہ حتمی طاقت ہمارے انسانی ہاتھوں سے باہر ہے۔ اللہ ہی اصل اور اعلیٰ طاقت ہے جس پر اعتماد ہمیں حسد، خوف اور مقابلے سے آزاد کرتا ہے۔ یہ ہمیں اپنی ذاتی ترقی پر توجہ مرکوز کرنے اور دوسروں کی زندگیوں میں خوشی بکھیرنے کی دعوت دیتا ہے۔ یہ یقین کہ خدا کی نعمتیں لامحدود اور ہر فرد کی راہ کے لئے مقدر اور مخصوص ہیں، یہ سوچ امن اور اطمینان کا احساس پیدا کرتی ہیں لیکن سب سے خوبصورت حقیقت یہ ہے کہ ہماری خوشی دوسروں کی خوشی سے کم نہیں ہوتی۔ حقیقت میں، بغیر کسی استثنیٰ کے سب کے لئے بہترین خواہشات کر کے، ہم مہربانی، فراوانی اور آپس میں جڑائو کی دنیا بناتے ہیں کہ دوسروں کو اٹھا کر، ہم خود کو اٹھاتے ہیں۔
اللہ ہمیں اس حکمت کو اپنانے کی توفیق دے اور ہمیں ایک دل عطا کرے جو سب کے لئے بہترین خواہشات کا احساس کرے، اس یقین کے ساتھ کہ ایسا کرنے سے ہم اپنی زندگیوں میں زیادہ خوشی، امن اور تسلی کو دعوت دیتے ہیں اوروں کا بھلا کرنے سے اپنا بھلا ہوتا ہے۔ ایک صوفی شاعر نے کہا تھا۔
کر بھلا کہ ہو بھلا
آئیے دوسروں کے ساتھ بھلا کرنا زندگی کا مشن بنا لیں۔ حدیث کے مطابق اللہ تعالیٰ کو بندوں کے سب سے پسندیدہ اعمال میں دوسروں کا بھلا کرنا ہے۔ ایک دوسری حدیث ہے۔ لوگوں میں بہترین وہ ہے جو دوسروں کو فائدہ پہنچائے یعنی ان کا بھلا کرے۔

یہ بھی پڑھیں