ماضی قریب میں 14اگست یعنی یوم آزادی ‘ قیام پاکستان بڑے جوش وجذبے کے تحت منایاجاتاتھا۔ بچے‘ جوان‘ بزرگ اور خواتین اس موقع پر نہ صرف خوشی اور مسرت کا اظہارکرتے تھے‘ بلکہ مزار قائد پر حاضری دے کر یہ عہد کرتے تھے کہ وہ پاکستان کی ترقی و استحکام کیلئے مسلسل محنت کرتے ہوئے اس کو مضبوط اور مستحکم بنائیں گے۔ اوران جذبات کاعملی اظہار بھی ہوتا تھا۔ کیونکہ پاکستان کے عوام کو یہ حقیقت معلوم ہے کہ ’’ پاکستان ہے تو ہم ہیں‘‘ اگر خدانخواستہ پاکستان کو کچھ ہوا تو آگے سمندر اور بربادی ہے۔
لیکن اس دفعہ چودہ اگست کے حوالے سے عوام کے مختلف طبقات میں وہ خوشی ومسرت نظرنہیں آرہی ہے۔ جوماضی میں نظرآیاکرتی تھی اس کی سب سے بڑی وجہ ملک میں غیر معمولی بڑھتی ہوئی مہنگائی کے ساتھ ساتھ بے روزگاری کا عفریت نوجوانوں کے عزائم کو نگل رہاہے۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اس ملک کوچھوڑ کر جاچکی ہے اور اپنے ہنر سے ان ممالک کو ترقی اورخوشحالی سے ہم کنار کررہی ہے جہاں وہ کام کررہے ہیں۔ پاکستان کی یہ بدقسمتی ہے کہ یہاں ایسے سیاستداں اقتدار میں آتے ہیں یا پھرانہیں دھاندلی شدہ انتخابات کے ذریعے اقتدار میں لایا جاتا ہے۔ جن کا نہ تو پاکستان کے قیام یا تحریک پاکستان میں کوئی کردار تھا‘ بلکہ انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کی خوشامد کرکے اقتدار کی بھاگ ڈور سنبھالی‘ لیکن کیونکہ ان میں ملک چلانے کا کوئی تجربہ نہیں تھا اور نہ ہی انہیں عوام کے دکھ درد کا کوئی احساس تھا یہ لوگ صرف اقتدار حاصل کرنے کے بعد صرف اپنے لئے اور بے لگام کرپشن کرکے ملک کو عدم استحکام سے دوچار کردیا ہے تو دوسری طرف عوام کومعاشی وسماجی طور پر کسی قسم کا ریلیف نہیں مل سکا۔ اس وقت پاکستان میں دس کروڑ سے زائد عوام غربت اور افلاس کاشکار ہیں‘ جبکہ حکومت کے پاس ملک اور عوام کے معاملات کو سدھارنے اور سنوارنے کے سلسلے میں کوئی واضح روڈ میپ بھی نہیں ہے۔ موجودہ حکومت جس دھاندلی کے ذریعے اقتدار میں آئی ہے اس سے یہ امیدرکھنا کہ یہ ملک اور عوام کی بہتری کیلئے کوئی نمایاں کام کرے گی‘ صحرا میں اذان دینے کے مترادف ہے۔
حالانکہ قائداعظم محمد علی جناح نے قیام پاکستان کا واضح مقصدفلاحی ریاست کاقیام تھا‘ لیکن ان کا یہ نظریہ کسی بھی سیاستداں نے پورا نہیں کیا‘ بلکہ اس کو نظرانداز کرتے ہوئے صرف اپنے لئے اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کیلئے معاش اور روزگار کے دروازے ہموار کئے۔ رہ گئے عوام جن کی بے پناہ مالی اور جانی قربانیوں سے یہ ملک معروض وجود میں آیاہے‘ انہیں نہ صرف نظرانداز کیا گیا۔ بلکہ ان کے جائز مسائل حل کرنے کی طرف سنجیدگی سے توجہ بھی نہیں دی گئی‘ آج یہ مملکت خداداد اور اس میں بسنے والے 25کروڑ عوام جن تکلیف دہ حالات سے گزررہے ہیں ‘ ان کے احوال پرکسی قسم کا مزید تبصرہ کرنے کی گنجائش نہیں ہے‘ ستم بالائے ستم آبادی کا صرف ایک فیصد طبقہ پرتعاش زندگی بسر کررہاہے۔ اس پر نہ تو مہنگائی کا اثر ہوتاہے اور نہ ہی بجلی کے جعلی بلوں کا۔
چنانچہ اس دفعہ77ویں یوم آزادی کے موقع پر عوام میں وہ جوش وجذبہ نہیں پایاجارہاہے جوماضی قریب میں دیکھنے میں آتاتھا۔ دنیا کے بیشتر دانشوروں نے یہ لکھاہے کہ عوام کے معاشی وسماجی حالات کو بہتر بنائے بغیر ملک میں کسی بھی قسم کااستحکام پیدا نہیں ہوسکتاہے۔ پاکستان اس کی مثال ہے‘ اس ناگفتہ صورت تحال کی ذمہ داری ہم سب پر عائد ہوتی ہے‘کیونکہ ہم نے قیام پاکستان کے فلسفے کو نظرانداز کرتے ہوئے اس کو اپنی پسند اور ناپسند کے تحت چلانے کی کوشش کی ہے ۔ اس ضمن میں مولانا فضل الرحمن کے اس بیان کا حوالہ دینا چاہتاہوں جوانہوں نے قومی اسمبلی کے فلور پر دیاتھا‘ مولانا صاحب نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ پاکستان کو بنانے میں اسٹیبلشمنٹ کا کوئی کردار نہیں تھا‘ یہ ملک قائداعظم کی قیادت میں غیر منقسم ہندوستان میں رہنے والے مسلمانوں نے عظیم قربانیوں کے نتیجے میں حاصل کیاتھا‘ لیکن مفاد پرست عناصر نے اقتدار حاصل کرکے اس کو قائداعظم کے نظریات سے دور کردیا۔ آج14 اگست کے پس منظر میں ملک میں جوافراتفری پائی جارہی ہے وہ اپنی جگہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔ اس وقت چند کرپٹ سیاستداں ملک کی تقدیر کے مالک بن گئے ہیں‘ جونہ تو عوام کے حالات بدلناچاہتے ہیں اور نہ ہی ان میں وہ جذبہ پایاجاتاہے۔ جیسا کہ میں نے بالائی سطور میں لکھاہے کہ پاکستان کا قیام ایک فلاحی ریاست سے وابستہ وپیوستہ تھا ‘ لیکن چند سالوں کے بعد جب بعض کرپٹ اور بدنام سیاستدانوں نے اس ملک کی باگ ڈور سنبھالی‘ تو ملک کا یہ حشر ہوا جو آج ہورہاہے۔ دس کروڑ عوام غربت وافلاس کے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں‘ جبکہ مہنگائی نے عوام کی معاشی کمر توڑ دی ہے‘ جرائم پیشہ عناصر اس صورتحال سے پورا پورا فائدہ اٹھارہے ہیں‘ جن کی پشت پناہی کچھ کرپٹ سیاستداں کررہے ہیں اور کچھ پولیس اہلکار بھی ۔
چنانچہ اس دفعہ14اگست کے موقع پر عوام میں وہ جوش وجذبہ دیکھنے میںنہیں آرہاہے ‘ جو ماضی میں اکثر وبیشتر نظر آیاکرتاتھا‘ اس افسوسناک صورتحال کے ذمے دار ہم سب ہیں ہم نے قائداعظم کے افکار کو نظرانداز کرتے ہوئے پاکستان کو ایک ایسے ملک میں تبدیل کردیاہے‘ جہاں کرپٹ سیاستداں راج کررہے ہیں اور عوام دو وقت کی روٹی کیلئے ترس رہے ہیں۔ کیا یہی قائداعظم کا پاکستان ہے؟ اور کیا ہم نے جان بوجھ کر قائداعظم کے نظریات سے انحراف کرتے ہوئے اس ملک کو ایسے عناصر کے حوالے کر دیا ہے جنہوں نے عوام سے دووقت کی روٹی کا سہارا بھی چھین لیاہے۔ ذرا سوچیئے۔