Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

کشمیر میں یوم سیاہ

بھارت مقبوضہ جموں وکشمیر میں برسوں سے حالات کو معمول کے مطابق ظاہرکرنے اور15اگست کوبھارت کے یوم آزادی کے موقع پر جشن آزادی کی تقریبات کی جھوٹی کہانیاںپیش کرنے کی کوشش کرہاہے جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق 2019میں جب بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والی دفعہ370کوختم کر دیا تھا، اس وقت سے یہ علاقہ سخت فوجی محاصرے میں ہے، مقامی لوگوں کو نقل و حرکت، اظہاررائے کی آزادی اور اجتماع پر سخت پابندیوں کا سامنا ہے۔اس کے باوجود بھارت دس لاکھ قابض فوجیوںکے سنگینوں کے سایے میں مقبوضہ جموں وکشمیرمیں جعلی تقریبات دکھانے کی کوشش کررہا ہے، پولیس اہلکاروں، سرکاری محکموں کے ملازمین اور یہاں تک کہ مقامی لوگوں کو ”ترنگا ریلیوں”میں شرکت پر مجبور کررہا ہے۔ جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے، مقامی لوگوں نے ان جبری تقریبات کی مسلسل مزاحمت کی ہے اور بہت سے لوگوں نے سچائی کو بے نقاب کرنے کے لیے سوشل میڈیا کا سہارا لیا ہے۔ ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بھارتی فورسز مقامی لوگوں کو بارہمولہ میں ایک ریلی میں شرکت پر مجبور کر رہی ہیں۔ اسی طرح 15اگست کو سرینگر میں سنسان گلیوں کی تصاویربڑے پیمانے پر شیئر کی گئیں جس سے بھارت کے بڑی بڑی تقریبات کے دعوئوں کی نفی ہوتی ہے۔بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ بھارت نے کشمیریوں کی سرزمین پر طاقت کے بل پر قبضہ جما رکھا ہے اور وہ مقبوضہ علاقے میں یوم آزادی کی تقریبات کے انعقاد کو کوئی حق نہیں رکھتا۔ غلام محمد خان سوپوری، مولانا مصعب ندوی، فیاض حسین جعفری اور سبط شبیر قمی نے سرینگر میں اپنے بیانات میں کہا کہ بھارت نے 1947 میں تقسیم برصغیر کے منصوبے او ر کشمیریوں کی خواہشات کو پامال کرتے ہوئے جموں وکشمیر پر قبضہ جما لیا ہے۔ انہوںنے کہا کہ کشمیریوںنے بھارتی قبضے کو یکسر مسترد کر رکھا ہے اور وہ اپنی آزادی کیلئے بے مثال قربانیاں دے رہے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ بھارت نے 1947سے اب تک لاکھوں کشمیریوں کو قتل اور ہزاروںکو لاپتہ کیا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ مودی حکومت نے مقبوضہ علاقے کو مکمل طور پر ایک فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر کے کشمیری مسلمانوں کے تمام سیاسی ، معاشرتی ، معاشی اور دینی حقوق سلب کر رکھے ہیں ۔ حریت رہنماؤں نے کہا کہ بی جے پی کی ہندو توا بھارتی حکومت مقبوضہ علاقے میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی ایک منصوبہ بند سازش پر عمل پیرا ہے۔انہوںنے کہا کہ کشمیریوں کا واحد قصور یہ ہے کہ وہ اپنے پیدائشی حق، حق خود اریت کا مطالبہ کر رہے ہیں جسکا نہ صرف عالمی برادری بلکہ بھارت نے بھی ان سے وعدہ کر رکھا ہے۔ انہوںنے کہا کہ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ بھارتی ہٹ دھرمی اور غیر حقیقت پسندانہ طرز عمل کا نوٹس لے اور کشمیریوں کو انکا ناقابل تنسیخ حق، حق خود ارادیت دلانے کے لیے اس پر دباؤ ڈالے۔دریں اثنا مقبوضہ جموں وکشمیر کے مختلف علاقے میں پوسٹر بھی چسپاں کیے گئے ہیں جن میں کہا گیا ہے ”بھارت نے جموں کشمیر پر کشمیریوں کی مرضی کے خلاف قبضہ کر رکھا ہے، بھارت جموں و کشمیر میں اپنا یوم آزاد ی منانے کا کوئی حق نہیں رکھتا، کشمیری حق خود ارادیت کیلئے بے مثال قربانیاں دے رہے ہیں، بھارت کشمیریوں کو انکا غصب شدہ حق دینے کے بجائے انہیں طاقت کے بل پر دبانے کی کوشش کر رہا ہے“۔پوسٹر سماجی رابطوں کی سائٹوں فیس بک ، ٹویٹر، وٹس ایپ وغیرہ پر بھی اپ لوڈ کیے گئے ہیں۔
کنٹرول لائن کے دونوں جانب اور دنیا بھر میں کشمیری آج بھارت کے یوم آزادی کو ”یوم سیاہ “ کے طور پر منا رہے ہیں جسکا مقصد عالمی برادری کو واضح پیغام دینا ہے کہ بھارت نے جموں وکشمیر پرطاقت پربل پر قبضہ جما رکھا ہے اور وہ علاقے میں اپنے یوم آزادی کی تقریبات کے انعقاد کا کوئی حق نہیں رکھتا۔مقبوضہ جموںوکشمیر میںبھارتی یوم آزادی پر مکمل ہڑتال کی گئی جسکی وجہ سے وادی کشمیر میں معمولات زندگی معطل رہے۔ لوگوں نے گھروں کی چھتوں اور گلیوں وغیرہ میں سیاہ جھنڈے لہرائے ۔قابض بھارتی انتظامیہ نے لوگوں کو بھارت کے خلاف احتجاجی مظاہروں سے روکنے کیلئے وادی کشمیر کو مکمل طور پر ایک فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر دیا ۔ اہم شاہروں اور چوہراہوں پر رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں ۔ لوگوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے رکھنے کیلئے ہیلی کاپڑوں ، سی سی ٹی وی او ڈرون کیمروں کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا گیا۔بھارتی فوجیوں ، پیرا ملٹری ، پولیس کے ایلیٹ سپیشل آپریشنل گروپ کے اہلکار وں نے سرینگر کے بخشی اسٹیڈیم کو مکمل طور پر اپنے حصار میں لئے رکھا۔جہاں بھارتی یوم آزادی کی نام نہاد تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ سرینگر کے تاریخی لالچوک کو بھی بھارتی فورسز نے حصار میں لئے رکھا ۔
دریں اثنا مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی طرف عالمی توجہ مبذول کرانے کے لیے آزاد کشمیر، پاکستان اور دنیا کے بڑے دارالحکومتوں میں بھی احتجاجی ریلیاں نکالیں۔ معاملہ صرف کشمی تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ ادھر برسلز میں بھارتی یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طور پر منانے کے لیے بھارتی سفارت خانے کے سامنے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔کشمیر کونسل یورپ کے زیر اہتمام ہونے والے مظاہرے میں تارکین وطن کشمیریوں اور پاکستانیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔شرکاءنے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر مظلوم کشمیریوں کے حق میں اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف نعرے درج تھے۔

یہ بھی پڑھیں