Search
Close this search box.
پیر ,13 جولائی ,2026ء

دہشت گردی کے بدلتے رجحانات اور خطرات کا تجزیہ

(گزشتہ سے پیوستہ)
پاکستان میں دہشت گردی کرنے والے بلوچ دہشت گردوں اور دیگر قوم پرست تنظیموں کی اصطلاحات ہیں ، مثال کے طور پر فوج کو پنجابی فوج قرار دینا ، بلوچوں پر ظلم کادعویٰ کرنا،طالبان سے مل کر پشتونوں کو مارنے کا دعویٰ کرنا ، اور سب سے بڑھ کر کشمیر میں بھارت کے ساتھ ساتھ پاکستان اور چین کو بھی قابض قرار دینا یہ داعش کے ماضی کے بیانیہ سے سوفیصد الٹ ہے ۔ابھی پچھلے ماہ جولائی میں آنے والی ان کی نشریات میں وہ اپنے نام نہاد تصور کے تحت ہی سہی لیکن صرف اسلام کا نام استعمال کرتے تھے ، قوم پرستی ان کے نزدیک جرم تھا، بلکہ ٹی ٹی پی کے خلاف ان کی دلیل ہی یہ تھی کہ وہ پشتونوں کی بات کرتی ہے عالم اسلام کی نہیں ، گزشتہ ماہ ٹی ٹی پی کے خلاف کتابچے میں بھی یہی الزام لگایا گیا تھا ، اب یہ خود وہی الفاظ استعمال کر رہے ہیں ، جن پرانہیں اعتراض تھا ۔اس کا مطلب ایک ہی نکلتا ہے کہ ہینڈ لر دونوں کا ایک ہے ، اس نے داعش کو بھی وہی سبق پڑھادیا ہے ، جس پر پہلے ٹی ٹی پی کو لگایا ہوا تھا ۔ ورنہ اتنی جلدی تو پی ٹی آئی اپنا موقف نہیں بدلتی ۔ داعش کا پورا بیانیہ جو اس میگزین اور ویڈیو سے ظاہر ہو رہا ہے ،وہ اس خطہ میں بھارت اور امریکہ کے مفادات کی خاطر پاکستان ، چین اور طالبان کے خلاف استعمال ہونے والی تنظیمات کے بیانیہ کا چربہ ہے ، اگر صرف نام ہٹادیا جائے تو شناخت ممکن نہیں کہ یہ داعش کا بیانیہ ہے یا بی ایل اے ، ٹی ٹی پی، پی ٹی ایم یا ای ٹی آئی ایم کا ۔ داعش کے حوالہ سے یہ ایک ٹرننگ پوائنٹ ہے کہ طالبان کو وہ امریکی ایجنٹ کہتی ہے ، لیکن عملا ً وہ امریکی بیانیہ اپنا رہی ہے ۔
پورے خطے کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو دہشت گرد تنظیموں کے درمیان اختلافات کم اور اتحاد بڑھ رہا ہے ، بیانیہ بھی ایک ہوتا دکھائی دے رہا ہے ۔ داعش افغانستان سمیت کئی مقامات پر ٹی ٹی پی سے اتحاد کر چکی ہے ، دونوں مل کر وارداتیں بھی کر رہے ہیں ، دونوں کا ہدف پاکستان ، پاک آرمی اور خطے میں چینی مفادات ہیں ۔ تماشہ دیکھیں ٹی ٹی پی خود کو افغان طالبان کا دوست کہتی ہے ، لیکن افغان طالبان کی دشمن داعش سے اتحاد کر رہی ہے ، دوسری جانب داعش امریکہ کو دشمن کہتی ہے لیکن افغان طالبان کے خلاف امریکی پراکسی NRF کی اتحادی ہے ، بلکہ وہ ایک دوسرے سے تعاون کر رہے ہیں۔
داعش اور ٹی ٹی پی بلوچ دہشت گردوں کے ساتھ اچھے روابط رکھتی ہیں ، بلوچ دہشت گرد ایران کے دوست ہیں اور داعش ایران کی دشمن ، لیکن دونوں اتحادی ہیں ۔ پاکستان ، افغانستان ، تاجکستان اور ایران سرزمین استعمال کرنے والی دہشت گرد تنظیمیں خطے میں دہشت گردی کا ایک عجیب اتحاد بنا تی دکھائی دے رہی ہیں ، جس میں سب دہشت گرد کسی نہ کسی صورت ایک دوسرے کے اتحادی ہیں، دوسری جانب المیہ یہ ہے کہ حکومتیں آپس میں برسرپیکار ہیں۔ آنے والے دنوں میں دہشت گردوں کا یہ اتحاد سب کے لیے مسائل پیدا کرسکتا ہے۔
اس صورتحال کو وضاحت سے دیکھیں تو ٹی ٹی پی خود کو افغان طالبان کا اتحادی قرار دیتی ہے یا کم از کم دشمن نہیں البتہ پاکستان کی دشمن ہے، اور ایران اور تاجکستان کے ساتھ اس کے کوئی اچھے یا برے تعلقات نہیں ہیں۔ این آر ایف کا ابھی تک ٹی ٹی پی سے کوئی تعلق نہیں ہے، لیکن یہ داعش کی اتحادی ہے، یہ تاجکستان اور ایران کی دوست ہے اور افغان طالبان کی دشمن ہے، اس کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ داعش پاکستان، ایران، افغانستان اور تاجکستان سب کی دشمن ہے۔ براس ایران اور پاکستان سے آپریٹ کرتی ہے ، پاکستان کی دشمن ہے لیکن ایران کی دشمن داعش کی اتحادی ہے ۔اب صورتحال یہ ہے دہشت گردی کے خاتمے امن کی بحالی اور ترقی اگر درکار ہے تو ان سب ممالک کو ایک مشترکہ حکمت عملی کے تحت دہشت گردی کے خلاف منظم ہونا پڑے گا ، ورنہ سب مار کھاتے رہیں گے ، خون بہتا رہے گا اور حکومتیں دست وگریباں رہیں گی ۔اس مسئلہ کو دوسرے پہلو سے یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ تمام ممالک کی افواج اور انسداد دہشت گردی کے ادارے اپنی اپنی سرحدوں تک محدود ہیں ، وہ دہشت گرد کے پیچھے ایک انچ بھی اپنی سرحد سے باہر نہیں جا سکتے ، لیکن دوسری جانب دہشت گرد تمام ممالک میں کہیں بھی چھپنے کے لیے آزاد ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں ۔ یہ مستقبل کی بہت خوفناک تصویر ہے۔ دہشت گردوں کے درمیان تعاون جس رفتار سے بڑھ رہا ہے ، اس میں محفوظ کوئی بھی دکھائی نہیں دیتا ، جو لوگ یا ممالک آج یہ سمجھ رہے ہیں کہ فلاں فلاں دہشت گرد ان کے خلاف نہیں ، یہ سب پاکستان اور چین کے دشمن ہیں ، انیں بہت جلد سمجھ آجائے گی کہ جنہیں وہ اپنا اتحادی خیال کر رہے ہیں ، وہی ان کے دشمنوں کو اسی طرح سے پناہ دیںگے ، جیسے وہ پاکستان کے دشمنوں کو پناہ دے رہے ہیں ۔ کوئی شبہ نہیں کہ اس وقت چین اور پاکستان تمام دہشت گرد تنظیموں کا ہدف ہیں ، داعش، ٹی ٹی پی، این آر ایف اور براس سب چین کے خلاف اور سی پیک کے دشمن ہیں، وہ ہر ملک میں چینی مفادات کو نشانہ بنائیں گے اور کوئی ملک اکیلا کچھ نہیں کر سکے گا۔ دہشت گرد اگر کسی ایک ملک میں جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں تو وہ تین ممالک میں پناہ لینے کے لیے آزاد ہوں گے۔المیہ یہ ہے کہ پاکستان اور چین میں دہشت گردی کے خلاف تعاون کی صورتحال وہ نہیں جو ہونی چاہئے، حالیہ دہشت گردی کی بڑی اور بنیادی وجہ پاکستان کا چین سے اتحاد اور سی پیک ، یعنی چینی مفادات ہیں ، لیکن اس دہشت گردی کےخلاف اگرکوئی سینہ سپر ہےتوصرف پاکستان کے عوام اور پاکستان کی فورسز ہیں ،چین کو خطے میں اپنے مفادات کے خلاف دہشت گردی کے سدباب کے لئےجس طرح سے پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوناچاہئے وہ نہیں کھڑا ، وہ بھی صرف پاکستان کو ہلا شیری دے رہا ہے ، ذمہ داری نہیں نبھاہ رہا ۔ اگر چین ذمہ داری لے اور دہشت گردوں کو پناہ دینے والے ممالک پر صرف دبائو ڈالنے کی آپشن اختیار کرے اور چینی تعاون کو دہشت گردوں کے خلاف ایکشن سے مشروط کردے تو ٹی ٹی پی اور براس کا مسئلہ حل ہوتے دیر نہیں لگے گی ۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ آگ اور خون کی اس جنگ میں پاکستان تنہا لڑ رہا ہے ، اور انشا اللہ جلد سرخرو بھی ہوگا ۔

یہ بھی پڑھیں