اگر پاکستان کے بڑے لوگ یعنی ارباب اختیار یہ سمجھ رہے ہیں کہ پاکستان میں سرمایہ کاری آئے گی‘ صحرا میں اذان دینے کے مترادف ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ ملک میں پایا جانے والا سیاسی عدم استحکام ہے‘ یہ صورتحال گزشتہ تین سالوں سے جاری وساری ہے اور اگر موجودہ صورتحال ایسے ہی برقرار رہتی ہے تو بیرونی سرمایہ کے علاوہ اندرونی سرمایہ کاری بھی نہیں آئے گی۔ موجودہ حکومت یعنی پی ڈی ایم ٹو جتنی بھی کوشش کرلے سرمایہ کاری تو کجا سرمایہ ملک سے باہر جارہاہے‘دراصل عوام اور خواص دونوں سوچ رہے ہیں کہ کیا انتخابات میں جو دھاندلی ہوئی ہے اور جس کے نتیجے میں موجودہ حکومت وجود میں آئی ہے ‘ کیا اس غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر کوئی ملک پاکستان میں سرمایہ کاری کرے گا؟ مزید برآں دوست ممالک بھی اب اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ پاکستان میں متنازعہ انتخابات سے تشکیل پانے والی حکومت پائیدار نہیں ہوسکتی ہے جبکہ اس صورت میں ملک میں سیاسی استحکام پیدا ہوسکتاہے؟ عوام کا ایک بڑا طبقہ اس حکومت کو جائز حکومت ہی تصور نہیں کرتاہے۔ ان کا خیال ہے کہ 8فروری کے عام انتخابات میں عمران خان کی جماعت پی ٹی آئی بھاری اکثریت سے جیت چکی ہے‘ لیکن الیکشن کمیشن نے ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت ووٹوں کی گنتی میں ہیرا پھیری کی ہے۔ اور جس کو عوام کی اکثریت نے ابھی تک تسلیم نہیں کیاہے۔ جس کی وجہ سے سیاسی سطح پر ڈیڈ لاک موجود ہے جومسلسل سیاسی عدم استحکام کا سبب بن رہا ہے۔
دوسری طرف موجودہ حکومت عمران خان کی جماعت پی ٹی آئی سے مذاکرات کرناچاہتی ہے۔ لیکن عمران خان اس کے لئے تیار نہیںہیں کیونکہ وہ حکومت کو عوام کی نمائندہ حکومت تسلیم نہیں کرتے ہیں۔اس ہی قسم کا تصور موجودہ حکومت کے بار ے میں عالمی سطح پر بھی پایاجاتاہے۔ چنانچہ بیرونی سرمایہ کار ان ہی ملکوں میں سرمایہ کاری کرتاہے جس پر اس ملک کے عوام کا اعتماد حاصل ہو‘ نیز جب پاکستانی سرمایہ کار اپنے ہی ملک میں سرمایہ کاری نہیں کررہاہے تو بیرونی سرمایہ کار کیوں ایسا کرے گا اور کیوں کرپاکستان آئے گا؟
دوسری طرف پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کے سلسلے میں یہ بھی ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ دوست ممالک بھی پاکستان میں سرمایہ لانے میں ہچکچاہٹ محسوس کررہے ہیں جس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ یہاں سیاسی استحکام موجودنہیں ہے بلکہ ارباب اختیار کے مابین پائے جانے والے گہرے اختلافات کی وجہ سے پاکستان میں سیاسی ومعاشی معاملات بہت زیادہ گھمبیر ہوگئے ہیں۔ بلکہ جنرل(ر) فیض حمید کی گرفتاری اور اس کی تشہیر سے عوام اور خواص دونوں کے ذہنوں میں گہرا اضطراب پایاجارہاہے۔ حالانکہ جنرل (ر) فیض حمید کے ساتھ جوکچھ بھی ہوا ہے وہ آرمی ایکٹ کے تحت ہوا ہے۔ لیکن مسلم لیگ(ن) کے وزیروں نے اپنے بیانات کے ذریعے اس کو سیاسی معاملہ بنادیاہے جس کی وجہ سے ملک میں مزید سیاسی عدم استحکام پیداہواہے۔ مزید براں مسلم لیگ(ن) کے قائد نوازشریف نے جنرل (ر) فیض حمید کی گرفتاری کے فوراً بعد اپنے ایک بیان میں کہاہے کہ انہیں جنرل(ر) باجوہ اور جنرل (ر) فیض حمید دونوں نے ایک سازش کے ذریعے اقتدار سے بے دخل کیاہے۔ چنانچہ میاں صاحب کے اس بیان نے پاکستان کی سیاست میں مزید غیر یقینی صورتحال پیداکردی ہے‘ ایسا محسوس ہورہاہے کہ نوازشریف ابھی تک ’’ مجھے کیوں نکالا‘‘ کے حصار سے باہرنہیں نکلے ہیں۔ بلکہ وہ اپنے بیانات کے ذریعے گزرے ہوئے وقت کو واپس لاناچاہتے ہیں وقت کبھی واپس نہیں آتاہے۔ نیز نوازشریف جو توقعات ے کر لندن سے پاکستان وارد ہوئے تھے‘ وہ بھی پوری نہیں ہوسکی ہیں۔ جس کی وجہ سے جہاںوہ ذہنی طور پر سخت اذیت میں مبتلا ہیں‘ تودوسری طرف ان کے بھائی شہباز شریف کی کارکردگی سے جہاں پاکستان کے عوام مطمئن نہیں ہیں‘ وہیں خود نواز شریف بھی ان کی کارکردگی سے ناخوش ہیں۔ ان کی بیٹی مریم نواز وہی کچھ کررہی ہے جس کا ’’حکم‘‘ یا ہدایت نوازشریف دیتے ہیں‘ لیکن اس کے باوجود پنجاب میں سیاسی حالات میں کوئی نمایاں تبدیلی دیکھنے میں نظرنہیں آئی ہے۔ یہ ملک کا بہت بڑا المیہ ہے۔ ایک ہی خاندان کے لوگ پاکستان میں اقتدار پر قابض ہیں اور اسٹیبلشمنٹ کے تعاون سے اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں لیکن کارکردگی صفر ہے۔ دراصل موجودہ حکومت کے ساتھ ساتھ ارباب اختیار ملک کے معاشی ومعاشرتی جمود کی ذمے داری عمران خان کی جماعت پی ٹی آئی پر ڈال رہے ہیں حالانکہ عمران خان اس وقت جیل میں ہیں‘ اقتدار سے بہت دور ہیں لیکن اس کے باوجود حکومت کی ناقص کارکردگی کاالزام بھی عمران خان پر عائد کیاجا رہا ہے۔ دراصل موجودہ حکومت سیاسی عدم استحکام کوختم کرنے کیلئے عمران خان سے بات چیت کرناچاہتی ہے۔ بلکہ اس کی دیرینہ خواہش یہی ہے۔ لیکن خان صاحب موجودہ حکومت کے ساتھ کسی بھی قسم کی بات چیت کرنے کو تیارنہیں ہیں‘ کیونکہ موجودہ حکومت نے دھاندلی کے ذریعے اقتدار حاصل کیاہے‘ پی ٹی آئی کا مینڈیٹ چرایاہے‘ جب تک پی ٹی آئی کو اس کا مینڈیٹ واپس نہیں دیاجائے گا ‘اس وقت تک حکومت سے بات چیت نہیں ہوسکتی ہے۔
میں نے اپنے گزشتہ کالموں میں لکھاتھا کہ مملکت کاکاروبار ذاتی پسند یا ناپسند کی بنیاد پر نہیں چلتاہے اور نہ ہی محلاتی سازشوں کے ذریعے مملکت کو سیاسی استحکام نصیب ہوسکتاہے‘ یہی وجہ ہے کہ جہاں ایک طرف عوام میں مہنگائی اور بے روزگاری کی وجہ سے شدید مایوسی پائی جارہی ہے اور جس کا ابھی تک ازالہ نہیں ہوسکاہے‘ تو پھر سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ یہ تکلیف دہ معاشرتی وسماجی صورتحال کب تلک جاری رہے گی؟ میرے خیال کے مطابق عمران خان کو راضی کرنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ فی الفور شفاف انتخابات کرادیئے جائیں تاکہ عوام کااعتماد بحال ہوسکے اور اس کے نتیجے میں مملکت کاکاروبار بھی چل سکے۔ لیکن شاید مسلم لیگ(ن) اور ان کی ہم خیال‘ ہم پیالہ اور ہم نوالہ جماعت پی پی پی کو یہ حکمت عملی قبول نہیں ہے۔ کیونکہ انہیں اس بات کا ادراک ہے کہ اگر شفاف طریقے سے انتخابات ہوگئے تو پی ٹی آئی بہ آسانی دو تھائی اکثریت حاصل کرلے گی۔ جبکہ ایسا نظر بھی آرہاہے لیکن انہیں کون سمجھائے کہ اقتدار آنی جانی چیز ہے ‘ اگر عمران خان عوامی ووٹوںکے ذریعے اقتدار میں آبھی گئے تو وہ اتنی آسانی سے ملک کے موجودہ سیاسی ومعاشی حالات ٹھیک نہیں کرسکیں گے۔یہ ایک حقیقت ہے جس کو میں لکھ رہاہوں۔ تاہم اس صورت میں عوام کے دلوںاور ذہنوں میں جو بے چینی پائی جارہی ہے وہ دور ہوجائے گی۔ اور پاکستان ایک صحیح سمت کی طرف رواں دواں ہوجائے گا۔ لیکن اگر کسی گہری سازش کے ذریعے عمران خان کو سیاسی منظر سے ہٹانے کی کوشش کی گئی تو یہ طریقہ مملکت پاکستان کے حق میں بہتر ثابت نہیں ہوگا اور نہ ہی اس طرح ملک میں سیاسی ومعاشی استحکام پیدا ہوسکتاہے۔ ذرا سوچیئے۔