Search
Close this search box.
پیر ,13 جولائی ,2026ء

نامراد کراچی

ہمارے ایک دیرینہ دوست خالد فاطمی نے حال ہی میں ایک کتاب بدعنوان نامرادکراچی لکھی ہے ۔ یہ کتاب دراصل کراچی والوں کا نوحہ ہے۔ اس کتاب کی عوامی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ بیشتر کتاب فروخت کرنے والوں کے پاس اسکی کاپیاں موجود نہیں ہیں۔ اس کالم میں کتاب سے ہٹ کر یہ لکھناچاہتاہوں کہ اس وقت پاکستان کے سب سے بڑے شہر کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ حالانکہ یہ شہر مختلف قسم کے ٹیکسوں کی مد 60فیصد ٹیکس ادا کرتاہے۔ نیز اس شہر کی بڑی خوبی یہ ہے کہ یہاں پاکستان کے مختلف علاقوں سے لوگ روزگار کی تلاش میں آتے ہیںاور پھر یہیں کے ہوکررہ جاتے ہیں‘ اس وقت کراچی میں پٹھانوں کی آبادی پشاورسے زیادہ ہے جو کراچی کے بیشتر کارخانوں میں کام کرتے ہیں جبکہ ٹرانسپورٹ پران کا مکمل قبضہ ہے۔ اگر یہ محنت کش پٹھان کراچی کے ٹرانسپورٹ نظام کو اپنے تئیں نہ سنبھالیں توکراچی کا پورا نظام تھم جاتاہے بلکہ پورا کراچی رک جاتاہے۔
اس وقت کراچی کے عوام کی اکثریت پینے کے صاف پانی‘ بجلی ‘ گیس سے محروم ہیں۔ اس اذیت ناک صورتحال کے خلاف کراچی کے باسیوں نے احتجاج بھی کیاہے بلکہ اب بھی کررہے ہیں‘ جس میں جماعت اسلامی سب سے زیادہ فعال ہے۔ باقی دیگر پارٹیوں کے لوگ تماش بین بنے ہوئے ہیں۔حالانکہ پی پی پی گزشتہ پندرہ سالوں سے اس شہر کا نظم ونسق سنبھالے ہوئے ہے‘ لیکن ابھی تک یہ شہر کسی مسیحا کا انتظاکررہاہے تاکہ ان کے دیرینہ مسائل جس میں پینے کا صاف پانی‘ بجلی کی لوڈشیڈنگ سے نجات اور ذریعے حمل ونقل بھی شامل ہیں‘ حل ہوسکیں۔ اس پس منظر میں کراچی کے عوام نے ان مسائل کے حل کے سلسلے میں احتجاج بھی کیا ہے۔ ریلیاں بھی نکالیں‘ لیکن اس کاکوئی اثر نہیں ہوا۔ اس وقت بھی کراچی کے بیشتر سڑکیں ٹوٹی پھوٹی ہیں جن پر کاریا موٹرسائیکل چلانا مشکل ترین مسئلہ بناہوا ہے۔ حالانکہ اس وقت کراچی کامیئر پی پی پی کا مرتضیٰ وہاب ہے ‘ لیکن اس نے بھی کوئی ایسا کام نہیں کیاہے جس سے عوام خوش ہوجائیں۔ لگتاایسا ہے کہ پی پی پی نے کراچی کو اپنے ذہین سے اتاردیاہے‘ اس ہی لئے یہاں ترقیاتی کام نہیں ہورہے ہیں۔
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری بھی پی پی پی کی نمائندگی کرتے ہیں‘ لیکن انہوں نے بھی کراچی کے ان مسائل کے حل کیلئے توجہ نہیں دی۔ یہی وجہ ہے کہ کراچی اب ایک گھوسٹ شہر بن گیاہے۔ جہاں رات کو نکلنا خطرے سے خالی نہیں ہے۔ جرائم پیشہ عناصر بہت زیادہ سرگرم ہوگئے ہیں۔ اکثر پولیس کے ذریعے مارے بھی جاتے ہیں۔ پولیس کے اہلکاربھی مرتے ہیں‘ لیکن ابھی تک ان جرائم پیشہ عناصر سے نجات نہیں ملی ہے۔ اس ضمن میں کراچی کے صنعتکاروں اور تاجروں نے ہڑتال بھی کی ہے‘ حکومت سے مذاکرات بھی کئے‘ لیکن حالات میں کسی بھی قسم کی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ حالانکہ اس وقت بھی کراچی وفاق کو60فیصد ریونیو دیتاہے‘ جبکہ اس شہر کو حکومت سنجیدگی سے اس کے مسائل حل کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی ہے ۔ صرف پریس کانفرنس کرکے عوام کو یہ تاثر دینا کہ بہت جلد کراچی کے معاشرتی اور سماجی مسائل حل ہوجائیں گے ‘ ایک دیوانے کا خواب لگتاہے۔ نیز یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ پی پی پی اس شہر کے مسائل کو حل کرنے میں اس لئے دلچسپی نہیں لے رہی ہے۔ کیونکہ اس شہر سے پی پی پی کو ووٹ نہیں ملتے ہیں۔ لیکن اس منطق سے کراچی کے شہری اتفاق نہیں کرتے ہیں۔کراچی بنیادی طور پر سب کا شہر ہے‘ یہ ایک منی پاکستان ہے۔ جس سے ہرفرد اپنی ضرورت اور محنت کے تحت مستفید ہورہاہے۔ لیکن اس کے باوجود یہ شہر سیاستدانوں کے علاوہ بیورو کریسی کی رڈار میں نہیں ہے چنانچہ شہر کی حالت زار کوسدھارنے اور سنوارنے کیلئے حکومت ’’بے بس‘‘ نظرآرہی ہے۔ حالانکہ پی پی پی کو اس شہر اور صوبے سے کسی بھی قسم کی مزاحمت کا سامنا نہیں ہے۔ یہ پارٹی ایک بے تاج بادشاہ کی طرح حکومت کررہی ہے جبکہ مستند ذرائع کے مطابق کرپشن اپنے عروج پر ہے‘ اس ضمن میں ایم کیو ایم (پاکستان) بھی مجبور نظرآرہی ہے۔ حالانکہ کسی زمانے میں یہ مقبول جماعت تھی لیکن اب صفر ہوکر رہ گئی ہے لیکن اب کون آگے بڑھ کرکراچی کے ان گوناگوں مسائل کو حل کرے گا؟اس وقت مہاجر قیادت نہ ہونے کے برابر ہے۔محض حکومت کے ساتھ شامل ہوجانا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ بڑی بات کراچی کے باسیوں کے مسائل حل کرنے سے مشروط ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کراچی کے باسی ایک بند گلی میں کھڑے ہوگئے ہیں‘ دائیں بائیں دیکھتے ہیں‘ لیکن کوئی بھی ان کے ساتھ مصافہ کرنے کو تیار نہیں ہے۔
چنانچہ کراچی کے باسیوں کے مسائل کو کس طرح حل کیاجاسکتاہے۔؟ میرے خیال کے مطابق اس کا صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ اس شہر کی تمام سیاسی پارٹیوں کو مل کر اچی کے مسائل کے حل کیلئے زور دار احتجاج کرناچاہیے تاکہ حکومت ان کے مسائل کو حل کرنے کے سلسلے میں کسی قسم کی پیشرفت کرسکے اور عوام مطمئن ہوسکیں ۔اگر کراچی کے عوام کو بجلی‘ پانی اور گیس کی فراہمی معقول انداز میں دستیاب ہونے لگتی ہے تو اس صورت میں کراچی بے پناہ ترقی کرے گا‘ کراچی کے باسیوں نے اس شہر کو بہتربنانے کے سلسلے حکومت کے سامنے کئی تجاویز رکھی ہیں جن پر عمل پیرا ہوکر اس شہر کے حسن کو دوبارہ بحال کیاجاسکتاہے۔ شرط صرف اتنی ہے کہ Political willہونی چاہیے ‘ بصورت دیگر آئندہ یہ شہر مزید برباد ہوسکتاہے۔ ذرا سوچیئے

یہ بھی پڑھیں