Search
Close this search box.
اتوار ,12 جولائی ,2026ء

چانسلری کا جنجال اور عدلیہ پہ یلغار

شہرت کی طلب آدمی کو کہاں کہاں خوار نہیں کرواتی!معاملہ سیاست کا ہو تو پھر کیا کہنے۔ عام مشاہدہ یہی ہے کہ سیاسی لیڈروں کے گرد خوش آمدیوں کا گھیرا رہتا ہے۔ استثنا ہر شعبے میں پایا جاتا ہے تاہم سیاست کے میدان میں خوش آمد کی کانٹے دار جھاڑیوں سے دامن بچا کے نکلنا آسان نہیں۔ مشہور لیڈروں کے سیاسی شجر پر موسمی پرندوں کے جھنڈ لگے رہتے ہیں۔ سیاسی فوائد کا پھل کھانے کے لئے یہ پرندے خوش آمد اور بیجا تعریف کی ہوا بھر کر لیڈر کی شخصیت کا غبارہ پھلاتے رہتے ہیں۔ البتہ یہ فصلی بٹیرے فطرتا ابن الوقت ہوتے ہیں۔ آزمائش کا دور شروع ہوتے ہی فوری اڑان بھر کر کسی محفوظ درخت کی ڈال پر بیٹھ کر مفادات کے دانے دنکے کی تلاش میں چونچ کا استعمال شروع کر دیتے ہیں۔ ہماری عبرتناک سیاسی تاریخ میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں کہ عروج کے دور میں خوش آمد کے ریکارڈ توڑنے والے فصلی بٹیرے زوال کے دنوں میں آنکھیں ماتھے پر رکھ لیتے ہیں۔ خوش آمد کا رواج ہمارے معاشرے میں کس حد تک سرائت کر چکا ہے اس کا اندازہ ان بھاری بھرکم القابات سے بھی لگایا جاسکتا ہے جو قصیدہ گو نما پیروکار اپنے لیڈروں کے لئے مشہور کر دیتے ہیں۔ کو ئی قائد عوام ہے تو کوئی فخر ایشیا !کسی کی خطابت کے ڈنکے براعظم ایشیاء میں بج رہے ہیں تو کوئی ملت اسلامیہ کا بلاشرکت غیرے راہنما ہے۔ ستم تو یہ ہے کہ یار لوگوں نے بانی پاکستان کو بھی نہیں بخشا ۔ مبالغے کی انتہا نہیں تو کیا ہے کہ موجودہ دور کے اوسط درجے کے لیڈروں کو جناح ثانی یا قا ئد اعظم ثانی جیسے بھاری بھرکم القابات سے پکارا جائے۔ ہر سیاسی جماعت کی صفوں میں خوش آمدی قصیدہ گو بکثرت موجود ہیں۔
آکسفورڈ یونیورسٹی کی چانسلر شپ پہ چھڑنے والی بحث سماج میں تیزی سے پروان چڑھتے شخصیت پرستی اور سیاسی قصیدہ گوئی کے رجحان کی تازہ مثال ہے۔ انہی منفی رجحانات سے نرگسیت جیسا مضر نفسیاتی عارضہ بھی جڑا ہے۔ خودپسندی کے مرض میں مبتلا حضرات جب بھی کسی سطح پہ سربراہانہ ذمہ داریاں ادا کریں تو عموما فیصلہ سازی میں مشاورت کے بجائے ذاتی سوچ کو مسلط کر کے شخصی آمریت کا ماحول پیدا کر دیتے ہیں۔ داخلی اور خارجی مسائل میں گھرے پاکستان کو استحکام درکار ہے۔ ایک سابق وزیراعظم کے غیر ملکی جامعہ کے اعزازی عہدے کے انتخاب میں حصہ لینے سے کیا فوائد حاصل ہو سکتے ہیں؟ سیاسی خوش آمدیوں کا فرمانا ہے کہ اس سے ملک کی نیک نامی ہوگی ۔ خوش آمدیوں کا سیاسی روزگار اسی طرز کی مبالغہ آرائی پہ منحصر ہے۔ تاہم یہ پہلو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ اعزازی عہدے کا ایسا انتخاب جس پہ جیت کا امکان انتہائی کمزور ہے آخر ملک کی نیک نامی کا باعث کیسے بنے گا ؟ اگر خوش آمدیوں کی دلیل مان لی جائے تو پھر شکست کی صورت ملک کی بدنامی کا بھی وسیع امکان ہے ۔ بلکہ بدنامی کا آغاز ہو بھی چکا ہے۔ ڈیلی میل نے سابق وزیر اعظم کے متعلق جو ذلت آمیز سرخی لگائی اس سے قوم کے سر شرم سے جھک گئے۔ سابق وزیر اعظم کی ذاتی شہرت متعدد منفی اور مثبت عناصر کا مرکب ہے۔ عقل سے پیدل خوش آمدیوں نے چانسلری کے چکر میں اپنے قائد کی ناقص کارکردگی اور متنازعہ نجی معاملات کی پٹاری بیچ چوراہے میں کھول دی ہے۔
عالمی میڈیا میں موصوف کے دہشت گرد اور شدت پسند عناصر کے لئے نرم گوشے کی دھوم مچی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق آکسفورڈ انتظامیہ کے پاس شکایتوں کا انبار لگ گیا ہے۔ یہ اعتراض ببانگ دہل کیا جارہا ہے کہ سابق وزیر اعظم کوئی متفقہ علیہ راہنما نہیں بلکہ متنازعہ سیاستدان ہیں۔ ساڑھے تین سالہ دور اقتدار سیاسی ناکامیوں اور انتظامی نالائقیوں کی داستان ثابت ہوا ۔ کے پی صوبے میں ایک عشرے سے زائدعرصے پہ محیط اقتدار کے بطن سے کرپشن اور اقربا پروری کی داستانیں جنم لے چکی ہیں۔ چانسلری کے امیدوار بذات خود متعدد مقدمات کا سامنا کرتے ہوئے اڈیالہ جیل میں رونق افروز ہیں۔ بزدار سائیں جیسے چپ سرکار وزیر اعلیٰ کے بعد اب کے پی میں گنڈاپوری طرز حکومت کے ذریعے گل ہائے رنگ رنگ کھلائے جا رہے ہیں۔ زلف درازوزیر اعلی زبان درازی میں بھی ید طولی رکھتے ہیں۔ فی الحال گورننس کے بجائے اپنے قائد محترم کے نقش قدم پہ چلتے ہوئے عدلیہ سے محاذ آرائی میں مصروف ہیں۔ انصافی نونہالان انقلاب نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جسٹس ہمایوں دلاور کے خلاف کردار کشی کی مہم جوئی کا آغاز کیا ہے۔ غیر جانبدار تجزیہ کاروں کا گمان غالب ہے کہ معزز جج کا جرم یہ ہے کہ انہوں نے چانسلری کے امیدوار کو کرپشن کیس میں رعایت فراہم نہیں کی۔ کردار کشی اور الزام تراشی کی یہ مہم انصافی دیگ سے باہر آنے والا ایک دانہ ہے۔ حکومت گنوانے کے بعد انصافی سوشل میڈیائی جتھے ہمہ وقت سیاسی مخالفین ، میڈیا ، عدلیہ اور ہر اس ریاستی ادارے کے خلاف ہرزہ سرائی میں مصروف ہیں جو چانسلری کے عہدے کے امیدوار کو ناقص کارکردگی کے آئینے میں اصل چہرہ دکھاتا ہے۔ جناب کا شوق منصب سلامت۔ بدنام جو ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا۔ خوش آمدی گروہ کی شان میں شاعر نے کیا خوب کہا :
معلوم نہیں ہے یہ خوش آمد کہ حقیقت
الو کو کوئی کہہ دے اگر رات کا شہباز

یہ بھی پڑھیں