Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

ذہنی مریض

(گزشتہ سے پیوستہ)
ایک معاشرے کے پھلنے پھولنے کی امید کم ہوتی جارہی ہے۔وہ عورتیں جن کے ساتھ جنسی زیادتی اس لیے جائزقراردے دی جاتی ہے کیونکہ وہ ایک نچلی ذات سے تعلق رکھتی ہیں وہ جس نفسیاتی ڈپریشن سے گزرتی ہیں وہ کیسی اولادکوجنم دیں گی؟وہ بچے جنہیں دلت ہونے کی بناپرتعلیم کے حق سے محروم رکھاجاتا ہے، ان سے غلاظتیں صاف کروائی جاتی ہیں،وہ بڑے ہوکرکیسے ایک مفید شہری بن سکتے ہیں؟
ان کی ذہنی نشوونماکوپنپنے سے پہلے ہی روک دیاجاتاہے۔وہ دلت،شودراوراچھوت کے لفظ کواپنے ساتھ بڑے ہوتے دیکھااورصرف لاشیں اٹھانے، سڑکیں صاف کرنے، نالیاں اور گٹرکھولنے،برہمنوں کی چاکری کرنے میں زندگی گزاری ہووہ کیسے محب وطن ہو سکتے ہیں؟ان سے بغاوت کاگلہ کیسے کیاجاسکتاہے،جب ان کوجائز اوربنیادی حقوق سے محروم رکھاگیاہو؟یہ تمام غیرانسانی کھیل حکومتی جماعت کی ناک تلے کھیلا جاتا ہے اورہندوپسند تحریکیں اس کھیل کواپنے انتہا پسندانہ عمل اورنعروں سے اورہوادے رہی ہیں۔ انسان کی تکریم کوسب سے بڑانقصان اور سب سے بڑی رکاوٹ جو ہندوؤں کے ذات پات کاطبقاتی نظام ہے۔ہندوانہ نظام میں انسانوں کو پیدائش کی بنیادپراعلیٰ وادنی قرار دینے میں ان کی مذہبی کتاب’’منوشاستر‘‘میں انسان کی تخلیق کے بارے میں جس طرح کی من گھڑت روایات بیان کی گئی ہیں،وہ انسان کی خودتذلیل کررہی ہیں جس کااندازہ ذیل کے اقتباس سے لگایاجاسکتاہے۔
’’ابتدا میں ایک ہی روح تھی یہ روح جب اپنے اردگر دیکھتی ہے تواسے اپنے سواکچھ نظرنہ آتا۔یہ روح پکارتی یہاں میں ہوں تب اس لمحے’’مس‘‘ کا تصور قائم ہوا،وہ روح ایک ساتھی کی خواہشمند تھی۔اس نے ایک مرداورعورت کومربوط صورت میں بنایاپھر انہیں دوحصوں میں الگ کیا۔مرد شوہر بن گیااورعورت بیوی یعنی ابتدامیں مرداورعورت ایک ہی جسم تھے۔پھر ازدواجی تعلقات پیدا ہوئے جن کے نتیجے میں مخلوق پیداہوئی۔پھراس نے خیال کیاکہ ایک روح سے پیدا ہوتے ہوئے ازدواجی تعلقات کوقائم کرناغلط بات ہے۔اس لیے خودکوچھپالیااورگائے بن گئی۔ اس کاخاوندبیل بن گیاپھرصحبت سے گائے اوربیل پیداہوئے،پھر وہ گھوڑی بن گئی اوروہ گھوڑا،اوران کے اختلاط سے گھوڑے پیداہوئے۔اسی طرح تمام زندہ مخلوق پیداہوئی یہاں تک کے تمام کیڑے مکوڑوں کی بھی ایسے پیدائش ہوئی‘‘۔یہ عقیدہ یاسوچ انسانی تذلیل کے لئے کافی ہے۔
اللہ تعالیٰ جوکائنات ارضی کاخالق ومالک ہے، اس نے اپنی مملکت میں حضرت انسان کو اپنا خلیفہ بنایا۔ اسلام کہتاہے کہ انسان رب تعالی کی خصوصی تخلیق ہے اسے بہترین صورت میں پیداکیا بلکہ اس میں اپنی روح پھونکی جیساکہ قرآن میں ہے کہ’’پس جب میں اسے پوری طرح بنادوں اواس میں اپنی روح پھونک دوں تواسے سجدہ کرنا‘‘۔یعنی آدم کوتعظیمی سجدہ کروا کر انسانی عظمت کووقارکی دولت بخشتے ہوئے اشرف المخلوقات بنادیاجبکہ اس کے برعکس ہندو مذہب کے مطابق روح حواکی تھی،وہ تنہائی میں ڈر گئی توپھراس کی دلجوئی کی خاطرایک مرد کواس کے لئے پیدا کیایعنی ایک جسم سے مرداور عورت پیدا ہوئے جبکہ قرآن اس کے بارے میں ہماری رہنمائی ایسے کرتا ہے:’’اے لوگو!ہم نے تمہیں ایک مرداورایک عورت سے پیدا کیااور تمہیں شاخیں اورقبیلے کیا کہ آپس میں پہچان رکھو بیشک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والاوہ جوتم میں زیادہ پرہیزگارہے ‘‘۔
اسلام کی نظرمیں بطورانسان کسی کوبھی کسی پر فضلیت حاصل نہیں ہے جبکہ ہندومذہب میں ذات پات کے طبقاتی نظام نے اعلیٰ اورادنی کا معیارقائم ہے۔اسلام نے عزت وقاراوربہتر ہونے کی وجہ تقویٰ کوقراردیاہے جبکہ ہندومذہب میں عزت وقار اس شخص کے حصے میں آتاہے جوبرہمن کے ہاں پیدا ہو جبکہ شودر کے ہاں پیداہوناہی ذلت ورسوائی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ مسلمانوں کوتو اب بھی ملیچھ سمجھ کردلتوں سے بھی بدترسلوک کامستحق سمجھاجاتا ہے۔ہندوستان کی تقسیم کو77برس گزرگئے ہیں اورآج بھی جہاں انسانی تفریق کایہ حال ہے توخوددلت کوہندومذہب کاایک حصہ سمجھتے ہوئے ان سے یہ سلوک روارکھاجارہاہے تو اگر خاکم بدہن دوقومی نظریہ کی بنیادپرپاکستان کی تخلیق نہ ہوتی تومسلمانوں کاکیاحال ہوتا۔ ہمارے ہاں کے وہ ذہنی مریض جو یہ سمجھتے ہیں کہ ہندوستان میں مسلمان اکثریت کی بناپرایک بہترزندگی گزاررہے ہوتے تووہ اس بات سے ہی اندازہ لگالیں کہ مسلمان اوردلت مل کرہندوذہنیت کے مظالم سے چھٹکارہ پانے کے لئے دن رات دعائیں کررہے ہیں۔اگر ان حالات کے باوجودوہ پاکستان کے وجودِ مسعودکو تسلیم نہیں کرتے توان کے لئے بہترہے کہ وہ اپنا بوریابسترہندوماتاکے قدموں میں جاکر بچھا لیں۔ اس خبرکوبھی پڑھ لیں کہ سندھ سے جوسوافراد پاکستان کوچھوڑکروہاں اپنے رشتہ داروں کے پاس منتقل ہوگئے تھے،ایک سال کی مسلسل تذلیل کے بعدانہیں پاکستان جنت معلوم ہونے لگ گیااوروہ دوبارہ معافی وتلافی کے بعدواپس اپنے گاؤں میں آگئے ہیں۔مودی کی متعصب حکومت میں آج بھی ہندوستان کے بعض علاقوں میں مسلمانوں پراس قدرمظالم توڑے جارہے ہیں کہ ظالم اور سفاک ہندومسلمان خواتین اورمعصوم بچوں کوبھی معاف نہیں کررہے۔ جس کی وجہ سے مرد، عورتیں اور بچے بلبلا اٹھے ہیں کہ آخرکیاوجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں ان بے بس مردوں،عورتوں اوربچوں کی خاطرنہ لڑوجوکمزورپاکردبا لیے گئے ہیں اورفریاد کررہے ہیں کہ خدایاہم کواس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں،اوراپنی طرف سے ہماراکوئی حامی ومددگارپیدا کر دے۔ (النساء:۷۵)اس دعامیں کمزورمسلمانوں کی مظلومیت کانقشہ پیش کرنے کے ساتھ ان کی ہمدردی اورمدد کے لئے مسلمانوں پرجہادکی فرضیت واضح کی جارہی ہے۔ یاد رہے کہ اسلامی جہادکی بنیادی طورپرتین اقسام ہیں۔1۔دفاعی۔2۔ مظلوم مسلمان اورانسانیت کی مددکرنا۔3۔اللہ کے باغیوں کوسرنگوں کرکے پرچم اسلام کوسربلند رکھناکیونکہ زمین ومافیہااللہ کی ملکیت ہے لہذاباغی انسانوں کوسرنگوں کرنا اوررکھنااللہ والوں کی ذمہ داری ہے۔ہسپانیہ کی تاریخ گواہ ہے کہ جب عیسائی حکمران راڈرک نے اپنے ہی گورنر کی معصوم بچی کے ساتھ زیادتی کی توگورنرنے مجبورہوکراپنے ہم منصب مسلمان ملک کے سرحدی گورنر موسی بن نصیرکوخط لکھاجس کے جواب میں طارق بن زیاد نے اسپین پرحملہ کیاجس کے نتیجے میں تقریبا8سو سال تک اسپین امن وامان کاگہوارہ بنا۔ہسپانوی مؤرخ اسے ہسپانیہ کی تاریخ کاسنہری دور تصور کرتے ہیں۔ایسی ہی صورت حال سندھ میں جب مسلمان مسافروں پرداہرکے غنڈوں نے حملہ کیاتو ایک مسلمان بیٹی نے عراق کے گورنرحجاج بن یوسف کودہائی دی۔ حجاج نے اپنے بھتیجے محمدبن قاسم کومظلوموں کی مددکے لئے بھیجاجس سے تقریباًایک ہزار سال تک ہندوستان میں اسلام کا پھریرابلند رہا اوراس ملک میں وحدت پیداہوئی ۔لوگوں کوسیاسی،علمی شعورملنے کے ساتھ امن و سکون نصیب ہوااورپاکستان وجودمیں آیا۔اسی جہادکی ترجمانی قادسیہ میں جواس وقت ایرانی حکومت کا دارالحکومت تھا (البدایہ والنہایہ)میں حضرت ربیع ؒنے رستم کے سامنے ان الفاظ میں کی تھی:ہم خود نہیں آئے ہمیں بھیجاگیاہے تاکہ لوگوں کوجہالت کی تاریکیوں سے نکال کرنورایمان میں لاکھڑا کریں ۔عوام الناس کوبڑے لوگوں کے جوروستم سے نکال کر اسلام کے عادلانہ نظام میں زندگی گزارنے کاموقعہ فراہم کریں۔آج کی نوجوان نسل کویہ بتانااس لئے ضروری ہے کہ انہیں ’’دوقومی نظریہ ‘‘کی حقیقت کاادراک ہوسکے اوروہ مملکت خداداد پاکستان کے وجود کواپنے لئے ایک نعمت سمجھ کراس کی قدر کرسکیں۔

یہ بھی پڑھیں