Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

میں کون ہوں؟

عام طورپرہیومن کاترجمہ انسان کرکے یہ سمجھا جاتاہیکہ انسان توبس انسان ہی ہوتاہے، چاہے مشرق کاہویامغرب کامگریہ معاملہ اتناسادہ نہیں بلکہ پیچیدہ ہے۔درحقیقت ہرتہذیب (نظام زندگی) کاایک اپنامخصوص تصورانفرادیت ہوتاہے۔اس تصورانفرادیت کے تعین کی بنیاداس سوال کاجواب ہے کہ’’میں کون ہوں؟‘‘زندگی کامقصدکیا ہے، خیرکیاہے شر کیا ہے وغیرہ جیسے سوالات کاجواب اسی بنیادی سوال کے جواب سے طے پاتے ہیں)۔ بالعموم تاریخی طورپراس سوال کاجائزمقبول عام جواب یہ رہاہے کہ’’میں عبد(مسلمان) ہوں ‘‘اور طویل عرصے تک اسی تصورانفرادیت کوانسانیت کاجائزاظہارسمجھاجاتارہاہے۔اگرچہ پچھلے ادوار میں اس کے برعکس جواب دینے والے افراداور معاشرے بھی موجودرہے ہیں البتہ اکثریت معاشرے(جیسے تمام مذہبی معاشرے)اسی مذہبی تصور انفرادیت پرمبنی تھے۔
سترھویں اور18ویں صدی عیسوی کے یورپی معاشروں میں تحریک تنویرکے زیراثراس سوال کاایک اورجواب عام ہوناشروع ہوا (جوآج ان معاشروں میں بہت راسخ ہوچکا) جس کے مطابق ’’میں عبدنہیں بلکہ آزاد اورقائم بالذات ہو‘‘اس تصور ذات کی ابتدا ڈیکارٹ کے جملے’’میں سمجھتا ہوں اس لئے لگتاہے‘‘سے ہوتی ہے،جس کے مطابق کائنات کی واحد ہستی جواپنے ہونے کاجواز خود اپنے اندررکھتی ہے نیزجوہرقسم کے شک وشبہ سے بالاتراور منبع علم ہے وہ اکیلی ذات’’میں‘‘یعنی ہوں)۔اس آزاداورقائم بالذات تصورذات کو تنویری فکرمیں’’ہیومن‘‘کہاجاتاہے۔ہیومن اپنی بندگی کی نفی اورصمدیت کادعویٰ کرتاہے،دوسرے لفظوں میں ہیومن ’’اللہ کا باغی‘‘تصورذات یاانسان ہے۔
مشہورمغربی فلسفی فوکوکہتاہے کہ’’ہیومن‘‘انسانی تاریخ میں پہلی بارسترھویں صدی میں پیداہوا ۔ ۔ ۔ ان معنی میں نہیں کہ اس سے قبل دنیامیں انسان نہیں پائے جاتے تھے اورنہ ہی ان معنی میں کہ یہ کوئی زیادہ عقل مندانسان تھااورپہلے کیانسان جاہل وغیرہ تھے بلکہ ان معنی میں کہ اس سے قبل کسی انسانی تہذیب اورنظام فکرمیں آزادی کوانفرادیت کے جائزاظہار کا مقصدسمجھااورقبول نہیں کیا گیا(گویایہ کفروالحادکی ایک جدید شکل تھی)۔اس سے قبل انسانیت کیلئے لفظ’’مین کائنڈ‘‘(اللہ کی رعایاومخلوق )استعمال کیاجاتا تھا، ہیومینیٹی کاتصور سترھویں صدی میں وضع کیاگیا۔ہیومن ازم کا ڈسکورس درحقیقت اسی تصورہیومن سے نکلتاہے جس کے مطابق انسانیت کی بنیادی صفت آزادوقائم بالذات ہوناہے اورعقل کا مطلب اس انسانی آزادی میں اضافے(یعنی انسان کوعملاقائم بالذات بنانے )کوبطورمقصدحیات قبول کرناہے۔ ہیومینیٹی جدید مغربی الحادکانہایت کلیدی تصورہے اور تنویری فکر سے برآمدہونے والے مختلف مکاتب فکر(مثلا لبرل ازم،سوشل ازم،نیشنل ازم وغیرہم) اسی تصورہیومینیٹی کے مختلف نظرئیے،تعبیرات وتوجیہات ہیں۔
جولوگ تصورذات کے تعین میں ایمانیات کی بنیادی اہمیت سے ناواقفیت کی بناپریہ کہتے ہیں کہ’’انسان توبس انسان ہے‘‘وہ انتہائی سطحی بات کرتے ہیں(زندگی کامقصد،خیروشر،علم ،حق اور عدل کے تصورات،معاشرتی وریاستی نظم کی تشکیل وغیرہم اس سوال کاجواب تبدیل ہونے سے یکسرتبدیل ہوجاتے ہیں)۔آسان مثال سے سمجھئے کہ حضرت عیسٰی بطورایک معین شخصیت مسلمانوں اور عیسائیوں میں مشترک ہیں(کہ دونوں تاریخی طورپرایک ہی مخصوص شخصیت کوعیسیٰ مانتے ہیں)مگران کے درمیان چودہ سو سال سے وجہ اختلاف ’’تصور عیسٰی‘‘ ہے نہ کہ’’شخصیت عیسٰی‘‘ (یعنی ایک کے یہاں عیسٰی ابن اللہ ہیں جبکہ دوسرے کے یہاں عیسٰی رسول اللہ)۔ اگرکوئی یہ کہے کہ’’عیسٰی توبس عیسٰی ہیں،مسلمان اورعیسائی بلاوجہ دست وگریباں ہیں‘‘تویقیناوہ ایک غیرعلمی بات کرے گا۔اسی طرح ہیومن کوبھی انسان کہنااور مسلمان کوبھی انسان کہناایسی ہی کنفیوژن کاشکار ہوناہے،ظاہرہے وہ انسان جوخودکو
اللہ کابندہ اوروہ جوخودکواللہ سمجھتاہے بھلاکیسے یکساں زندگی(معاشرہ وریاست)تعمیرکرسکتے ہیں؟
یہ آپ سے کہیں گے کہ’’پہلے ہیومن(انسان) بنوبعدمیں مسلمان‘‘یہ سیکولروں کی عوام الناس کوپھانسنے کی ایک دیرینہ خوشنما دلیل ہے۔آپ ان سے پوچھئے کہ’’اچھابتاؤمسلمان ہونے سے قبل انسان ہونے کاکیامطلب ہے؟‘‘دیکھئے مسلمان ہونے کامطلب یہی ہے ناکہ ’’میں اصلاًوحقیقتًااللہ کابندہ ہوں۔‘‘بتائیے کیامیری اس حقیقت سے ماوراء اورماقبل بھی میری کوئی ایسی حقیقت ہے جس کاآپ مجھ سے اقرار کروانا چاہتے ہیں؟
ہم نے انسان کو نطفہ مخلوط سے پیداکیاتاکہ اسے آزمائیں توہم نے اس کوسنتادیکھتابنایا۔ (اور)اسے رستہ بھی دکھادیا۔(اب)وہ خواہ شکرگزارہوخواہ ناشکرا۔(انسان:2-3)
دراصل یہ بات کہنے والوں کی عظیم ترین اکثریت کواس بات کامطلب ہی معلوم نہیں ہوتا۔’’میں کون ہوں‘‘فی زمانہ اس کے دوغالب جواب ہیں۔ایک یہ کہ میں اللہ کابندہ ( مسلمان) ہوں،دوسرایہ کہ میں آزادوقائم بالذات ہوں۔ مسلمان ہونے سے قبل انسان ہونے کی دعوت کا اصل مطلب اسی بات کااقرارکرواناہے کہ’’میں اصلاً آزادہوں‘‘۔ پھر یہ جوخودکومسلمان سمجھاجاتا ہے یہ اس آزاد ہستی کے اپنے ارادے کے تحت اختیارکردہ اپنی ذات کے بارے میں کچھ تصورات ہیں جواصل حقیقت نہیں،اصل حقیقت میراوہ ارادہ ہے جو حقیقت تخلیق کرتاہے۔
اوراللہ ہی نے تم کوتمہاری ماں کے شکم سے پیداکیاکہ تم کچھ نہیں جانتے تھے۔اوراس نے تم کوکان اورآنکھیں اوردل،اعضابخشے تاکہ تم شکرکرو(النحل:78)
یہ بات اچھی طرح سمجھناچاہئے کہ انسان ہونامیری اصل نہیں بلکہ’’اللہ کابندہ‘‘ہونے کی ممکنہ صورتوں میں سے بس ایک صورت ہے۔میرے وجودیعنی ’’ہونے‘‘کی امکانی صورتیں یہ تھیں کہ میں درخت ،جانور،پہاڑ،پتھریاپھرفرشتہ وجن،مگرمیں کچھ بھی ہوتااپنے وجودکی ہرامکانی صورت میں اللہ کابندہ( مخلوق) ہی ہوتا۔اس کائنات میں میرے وجود کا ایسا کوئی امکان نہیں جہاں میں اصلاًاللہ کے بندے کے ماسواء کچھ اوربھی ہوتا۔انسان ہونا میری اصل نہیں بلکہ میرے لئے ایک حادثہ ہے، ان معنی میں کہ اللہ نے جس حال میں چاہا مجھے پیدا کیااوروہ مجھے انسان بنانے پرمجبورنہ تھا،یہ محض اس کا فضل ہے۔پس یہ سوال کہ’’اصلامسلمان ہویا انسان‘‘تواس کابالکل واضح جواب یہ ہے کہ اصلاًاورحقیقتاًمیں اللہ کابندہ(مسلمان) ہوں، انسان حادثاتی طورپرہوں۔میں لازم’’اللہ کے ساتھ ہونا‘‘ہوں،نہ کہ اس سے ماوراکوئی ہستی۔ اپنے انسان ہونے کوڈیفائن کرنے کا اس کے علاوہ میرے پاس کوئی دوسراحوالہ نہیں،سوائے اس کے کہ میں خود مختاریت کادعویٰ کروں۔
’’میں کون ہوں‘‘اس سوال کاجواب میں جونہی اللہ کے حوالے کے بغیردینے کی کوشش کرتاہوں میں لازماًخودکواللہ سے ماوراو ماقبل وجودفرض کرلیتا ہوں اوریہی الحادکی بنیادہے۔ اللہ کاوجودمیرے شعور انسانیت سے ماقبل ہے،لآاِلہ اِلااللہ اسی بات کااقرارہے۔ ’’مسلمان بننے سے قبل انسان بنو‘‘اسی کلمے کاانکارہے۔(لاالہ الاالانسان) پھر جب یہ واضح ہوچکاکہ’’میری اصل انسان ہونانہیں بلکہ اللہ کابندہ(مسلمان)ہوناہے‘‘تومناسب معلوم ہوتاہے کہ اب ایمان اورکفرکی حقیقت بھی واضح کردی جائے نیزیہ بھی کہ اللہ کابندہ ہونا کیونکرمسلمان ہونے کے ہم معنی ہے۔
اورانسان کی اوراس کی جس نے اس(کے اعضا)کوبرابرکیا۔پھراس کوبدکاری(سے بچنے) اورپرہیزگاری کرنے کی سمجھ دی۔کہ جس نے (اپنے)اس(یعنی روح)کوپاک رکھاوہ مرادکو پہنچا۔اورجس نے اسے خاک میں ملایاوہ خسارے میں رہا۔(الشمس:7-10)
جان لیں کہ اصلاًوحقیقتاًہرانسان اللہ کابندہ ہی ہے،چاہے وہ اس کااقرارکرے یاانکار،کسی انسان کااس حقیقت سے انکارکرناکائنات میں اس کے حقیقی مقام کوبدل نہیں سکتا۔اگروہ زبان ودل سے اس حقیقت کااقرارکرلے تومومن ومسلم کہلاتاہے اوراگرانکارکرے تو کافر۔جان لیں کہ کافرکفرکرکے کسی نئی حقیقت کودریافت نہیں کرتابلکہ اپنی حقیقت کا انکار کرتاہے،اسی لئے تو’’کافر‘‘ (حقیقت کوچھپانے و جھٹلانے والا)کہلاتا ہے۔ پھرجب یہ واضح ہواکہ اصلاًمیں بندہ ہوں تواب سوال پیداہوتاہے کہ بطورانسان میں بندہ کیسے بنوں ؟ تواس کاجواب ہے:
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں