Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

میں کون ہوں؟

(گزشتہ سے پیوستہ)
جوشخص اسلام کے سوا کسی اوردین کاطالب ہوگاوہ اس سے ہرگزقبول نہیں کیاجائے گااورایسا شخص آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں ہوگا(العمران:85)
یعنی جس کسی نے اپنی انسانیت کے اظہارکیلئے اسلام کے علاوہ کوئی طریقہ اختیارکیاتوایسے طریقے سے ظاہرکی گئی انسانیت رب کے یہاں مقبول نہ ہوگی،چنانچہ میری انسانیت معتبرتب ہوگی جب میں اسے بندگی کے اظہارکاذریعہ بناؤں اوربندگی کے اظہار کاطریقہ جاننے کامعتبرطریقہ صرف وہ پیغام ہے جسے اللہ نے اپنے آخری رسولﷺ پر نازل کیا ۔ اس ایک طریقے کے حوالے کے سوا اظہار بندگی کے سب طریقے مردودہیں۔
جب یہ واضح ہواکہ میں اللہ کابندہ ہوں،تواللہ کایہ بندہ میں تنہائی(پرائیویٹ لائف)میں بھی ہوں اورلوگوں سے تعلقات قائم کرنے کے بعد (پبلک لائف میں)بھی۔یہ عقلی مخمصہ کسی طورقابل قبول نہیں ہوسکتاکہ تنہائی میں بطورانسان تومیں اورمیری بیوی اللہ کے بندے ہیں لیکن جونہی ہم تعلق قائم کرلیتے ہیں توہم اللہ کے بندے اوراس کے حکم کی اطاعت کے پابندنہیں رہتے۔ ایسی بات صرف ایساہی انسان قبول کرسکتاہے جوعقلی طورپر قلاش ہوچکاہو۔میں اگرواقعی اللہ کابندہ ہوں تو اپنی زندگی کی ہرحیثیت میں ہوں۔ اپنے سے باہر کسی غیرکومخاطب کرنے کی میرے پاس اس کے سوا کوئی بنیادوحوالہ ہی نہیں نیزنہ ہی اللہ کے نازل کردہ پیغام سے باہر میرے پاس حقوق کے تعین کاکوئی ایسادائرہ ہے کہ جس میں خودکورکھ کرمیں کسی سے ہم کلام ہوسکوں۔
میں جب بھی کسی کو خطاب کرتاہوں تواس بنیادپرکرتاہوں کہ اس بابت اللہ کاحکم مجھ سے کیا تقاضاکرتاہے،میں جب بھی کسی غیرمسلم کوخطاب کرتا ہوں تواسی حق کی طرف دعوت دیتاہوں نہ کہ اس سے ماوراء حقوق کی کسی تفصیلات کے فریم ورک میں ان سے مکالمہ کرتاہوں چنانچہ میں کسی غیرمسلم کاحق زندگی اس لئے نہیں مانتاکہ ہر انسان کو بطور مجردانسان کچھ ایسے فطری حقوق حاصل ہیں جن کی پابندی مجھ پرلازم ہے، ہرگزبھی نہیں بلکہ ایسا اس لئے مانتاہوں کیونکہ یہ اللہ کاحکم ہے اورجس کی پاسداری مجھ پرلازم ہے۔حق کے تعین کاحق نہ تومیں اپنی ذاتی زندگی میں رکھتاہوں اورنہ اجتماعی میں،محمد رسول اللہ کے اقرارکایہی مطلب ہے۔
اب یہ جومسلمانیت کے بجائے انسانیت کا حوالہ دیتے ہیں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ایک مرتبہ ان کی اصل بات،جس کاخودان میں سے بہت سوں کوبھی ادراک نہیں،آپ کے سامنے رکھ دی جائے۔میں اپنے انسان ہونے کے بار ے میں مختلف بنیادی حوالے رکھ سکتا ہوں،مثلاًایک یہ کہ میں اصلاوسب سے پہلے راجپوت ہوں،یایہ کہ میں اصلاپنجابی ہوں، یایہ کہ میں اصلاپاکستانی ہوں، یا یہ کہ میں اصلا مزدور یاسرمایہ دارطبقے کانمائندہ ہوں،یایہ کہ میں اصلاً مسلمان ، ہندویا عیسائی ہوں۔اپنی ذات کے ادراک کیلئے میں جوبھی حوالہ اختیارکرتاہوں،اسی کی بقا وغلبے کے لئے جدوجہد کرنے کااخلاقی جوا ز رکھتا ہوں ۔
اب یہ آپ سے کہیں گے کہ تم اصلایہ سب نہیں ہوبلکہ یہ سب توتمہاری اصل کااظہارہیں۔اب آپ ان سے پوچھئے کہ بتاوپھراصل میں میں کیا ہوں؟تویہ آپ سے کہیں گے کہ اصل میں تم ایک آزادوخودمختار (قائم بالذات)ہستی ہوجسے یہ حق ہے کہ وہ اپنے ارادے سے خیرکومتعین کرے۔پس مسلمان ہونایہ اصل نہیں بلکہ صرف اپنے ارادے کے تحت ایک خیر کو ڈیفائن کرلیناہے۔یہ واحدخیر نہیں بلکہ خیر کے لاتعداد تصورات میں سے بس ایک ہے۔یعنی اللہ کاحوالہ چھوڑدو،زمین پراپنے ارادے سے بنائے ہوئے خیرکے حوالوںکو اپنائو، اسی کے لئے جدوجہد کرو۔یہ ہے ان کے نزدیک انسان ہونے کااصلی معنی،جس کایہ شعوری یاغیر شعوری طورپراقرارکروانا چاہتے ہیں۔
ہیومن رائٹس ہیومن کے حقوق ہیں، ہیومن کا عقیدہ یہ ہے کہ انسان ایک خودمختاروقائم بالذات وجودہے۔انسان کے بارے میں ایسا عقیدہ رکھنے والے کوملحدکہاجاتاہے۔اس ملحدکامفروضہ ہے کہ اصول عدل کے ادراک کے لئے لازم ہے کہ ہرشخص اپنے مذہب سے انکار کرکے پہلے خودکوقائم بالذات وجودفرض کرے،یعنی عدل کیا ہے اس کا جواب معلوم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہرشخص پہلے ملحدہو جائے (لاک سے لے کررالزتک سب ہیومنز کایہی مانناہے)،ظاہرہے اس الحادی پس منظرکے ساتھ جواصول عدل اورحقوق کی تفصیلات طے کی جائیں گی وہ الحادی ہی ہوں گی۔اس ملحد(ہیومن )کااصرارہے کہ عدل وانصاف انہی حقوق کانام ہے جوہم ملحدین نے طے کئے ہیں نیز دنیاکا ہر مذہب وروایت اسی قدرحق ہے جس قدریہ ان اصولوں کی تصدیق کرتے ہوں لہٰذادنیا کے تمام مذاہب و روایتوں کے حامل انسانوں پر لازم ہے کہ وہ انہی اصولوں کے مطابق فیصلے کریں۔اگرکوئی مذہب یافکران الحادی اصولوں کے طے کردہ حقوق کومعطل کرنے کی بات کرے تویہ اسے جبروظلم قراردیتے ہیں لیکن خودیہ ملحدین دنیاکے سب مذاہب اورروایتوں کے طے کردہ حقوق معطل کرکے ان پربالجبراپنے اصول مسلط کرنے کی کوشش میں رہتے ہیں چونکہ ہیومن رائٹس الحادی فریم ورک کے طے کردہ اصول ہیں لہذاہیومن رائٹس کے فروغ سے الحادہی کا غلبہ ہوتاہے۔ آخری بات عقیدے کے جن چند اسباق کایہاں ذکرکیاگیاانہیں خوب اچھی طرح سمجھ رکھنا چاہیے کیونکہ جدیدالحادنے عقیدوں میں جو اجاڑ پیدا کیاہے اس کاسبب اسی نوع کے خوشنمادعوے واصطلاحات ہیں جنہیں دہرادہراکر لوگ خودبھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کوبھی گمراہ کرنے کاباعث بنتے ہیں۔ اوپر جو تفصیلات پیش کی گئیں یہ سیکولرحضرات کے اس مقدمے کوردکرنے اور اس کی غلطی واضح کر نے کیلئے پیش کی گئیں کہ معاشرے وریاست کی بنیاد اس قدر پر رکھناچاہئے جوسب انسانوں میں مشترک ہو۔ (جاری ہے )

یہ بھی پڑھیں