(گزشتہ سے پیوستہ)
چونکہ ہم اصلاً انسان ہیں نہ کہ مسلمان ہندووغیرہ،تومعلوم ہواکہ مذہب انسانوں کی بنیادی صفت اورقدرمشترک نہیں۔اسی کلیدی دلیل(پہلے و اصلاً انسان ہویامسلمان وہندو)کی بنیادپریہ لوگ مذہب کواجتماعی زندگی سے بیدخل کرنے کا مقدمہ کھڑا کرتے ہیں۔یہ جو کچھ کہاگیا اسے سمجھ لیاجائے توسیکولرڈسکورس کی بنیادی غلطی واضح ہوجائے گی۔
اسے(اللہ نے)کس چیزسے بنایا؟نطفے سے بنایاپھراس کااندازہ مقررکیا۔پھراس کے لئے رستہ آسان کردیا۔پھراس کو موت دی پھر قبرمیں دفن کرایا۔پھرجب چاہے گااسے اٹھا کھڑا کرے گا۔ (عبس:18-22)
اب آئیے ان تمام دلائل کے بعداپنے ارضِ وطن کے حالات پرایک نگاہ دوڑاتے ہیں:
سوال یہ ہے کہ معاشرے کی موجودہ ذہنیت کو کیسے بدلاجائے۔پاکستان میں سول سروس برطانوی دورکی میراث ہے۔اسے برطانوی راج کے نفاذکے لئے انگریزوں نے تیارکیاتھا جو خودکوہرحال میں عوام سے برترخیال کرتی تھی لیکن نہ توہم اس نظام میں اصلاح کر سکے اورنہ ہی سیاستدانوں کاکوئی لائق تحسین کرداررہا ہے۔ موجودہ پاکستان اقتصادی لحاظ سے عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں،یہاں تک کہ خطے میں بھی تمام معاشرتی اشارے میں مقابلہ نہیں کیاجا سکتا۔ شہریوں کے لئے اشرفیہ کے استعمال کردہ الفاظ توہین آمیز ہیں ۔ ریاست اورشہریوں کے مابین ایک اچھی طرح سے طے شدہ معاشرتی معاہدہ کی ضرورت ہے جوحکم رانوں،مالکوں اورشہریوں کے لئے یکساں پابند ہو۔
پاکستان میں اکثریہ دہائی دی جاتی ہے کہ ملک پرزیادہ عرصہ فوج نے حکمرانی کی لیکن یہ بات بھی حقیقت ہے کہ ملک کی ترقی کازیادہ دورانہی فوجی حکمرانوں کے دورکوگناجاتا ہے۔ چین کی کامیابی کاایک عنصریہ ہے کہ حکمرانی میں زیادہ ترافراد ماہرہیں۔یہاں تک کہ چین کے موجودہ صدرکیمیکل انجینئرہیں۔برطانوی راج میں میرٹ پرسختی سے مشاہدہ کیاگیا۔ اب ہمارے پاس تمام سرکاری ملازمین کے لئے سیاسی تقرریوں اورسیاسی مجبوریاں ہیں۔ ہم میں سے بیشتر لوگ اس تصورکی پیروی کرتے ہیں کہ معاشرہ میں عزت کامعیار ڈالرکے حصول میں ہے اوراس خواہش میں جائزوناجائزکی کوئی تمیزنہیں رکھی جاتی اورڈالرکی تلاش میں سرکاری ملازمین بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔ ڈالرکی تلاش کے بعد کیسے اہلیت، دیانت، انصاف کی محنت اورمیرٹ کے فیصلوں کی توقع کی جاسکتی ہے۔ لہٰذاہمیں معاشرے کی ذہنیت کوبھی بدلنے کی ضرورت ہے۔
زمینی حقائق کوسمجھنے کی کوشش کیجئے۔غیبی مددنہ اسپین کے وقت آئی،نہ خلافت عثمانیہ کوبچانے کے لئے آئی،نہ اسرائیل کا قیام روکنے کے لئے آئی،نہ بابری مسجدکے وقت آئی،نہ عراق اور شام کے وقت آئی,نہ میانمارکے وقت آئی،نہ گجرات کے وقت آئی،نہ کشمیر کے لئے آئی۔ پھر بھی گھروں اورمسجدوں میں بیٹھ کرغیبی مددکی صدائیں دی جارہی ہیں؟غیبی مددجنگ بدر میں آئی جب1000 کے مقابلے میں313 میدانِ جنگ میں اترے۔غیبی مدد جنگ خندق میں آئی جب اللہ کے محبوبﷺنے پیٹ پر2پتھر باندھے اورخود خندق کھودی اور میدانِ جنگ میں اترے۔
دنیاکاقیمتی لباس پہن کر،مال وزرجمع کرکے، لگژری ایئرکنڈیشنڈگاڑیوں میں بیٹھ کر(انہی کافروں کی بنائی ہوئی مصنوعات زیر استعمال لاکر)،جھک جھک کرلوگوں کے ہاتھ چومنے کی خواہش لے کر،لوگوں کی واہ واہ کی ہنکارکی خواہشات لئے مسجدوں کے منبروں پربیٹھ کربددعائیں کرکے غیبی مددکے منتظرہیں؟طاغوت کے نظام پرراضی اورپھرغیبی مدد کے منتظر؟؟اللہ کی زمین پراللہ اوراس کے محبوبﷺکے نظام کے نفاذکی جدوجہدکی بجائے صرف نعت خوانی،محفلِ میلادیاتسبیح کے دانوں کودس لاکھ بیس لاکھ گھماکرغیبی مددکے منتظرہیں؟ آفاقی دین کوچندجزئیاتِ عبادت میں محصورومقیدکرکے غیبی مددکے منتظر ہیں؟
خودکواوردوسرے مسلمانوں کومجاہدبنانے کی بجائے مجاوربناکر،خوب پیٹ بھرکرفربہ جسم لئے غیبی مدد کے منتظرہیں؟جہادفی سبیل اللہ اورجذبہ شہادت سے دوررہ کراوردوررکھ کر مسلمانوں پرہونے والے ظلم وجبر اورمصائب ومشکلات دیکھ کراللہ دشمن کوغرق کردے، اللہ دشمن کوتباہ وبربادکردے۔یااللہ مظلوموں کی مدد فرما۔ یااللہ دشمنوں کوہدایت عطافرما دے اور اگر ان کے نصیب میں ہدایت نہیں توانہیں غرق کردے جیسی بددعائوں پر اکتفا کرکے سکوت اختیارکرلینے اورسکون سے نوالہ ترحلق سے نیچے اتارکرپھر دوبارہ پیٹ بھرکر گہری نیند سونے والے غیبی مددکے منتظرہیں؟یعنی سب کچھ اللہ کے ذمہ لگاکراور خودکنارہ کشی اختیارکرکے غیبی مددکے منتظرہیں؟ میدان جہادمیں اترنے سے ڈرتے اور کتراتے ہوئے آسمانوں سے فرشتوں کے نازل ہوکرمسلمانوں کی غیبی مددکے منتظرہیں؟ایسی صورت میں غیبی مددنہیں صرف عذاب ہی آئے گاجوہم ناعاقبت اندیش حکمران، بداندیش افسران، ذخیرہ اندوزی،ناجائزمنافع خوری،جھوٹ،کم تولنا،ملاوٹ، خودغرضی ودیگرمعاشی ومعاشرتی برائیوں کی شکل میں بھگت بھی رہے ہیں!خواب غفلت سے بیدارہوں، علم، کردار وجہد مسلسل سے اپنے مہربان رب سے رجوع کریں اورمددطلب کریں تب جاکرآپ اشرف المخلوقات کا مطلب سمجھ سکیں گے کہ میں کون ہوں۔