Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

گریٹر اسرائیل کا منصوبہ: تاریخ، سیاست اور حقائق

میرے گزشتہ کالم میں’’گریٹراسرائیل‘‘کے تذکرہ کے بعدبے شمارپیغامات موصول ہوئے جس میں نوجوانوں کی اکثریت نے اس کی مزیدتفصیل کامطالبہ کیااورکئی قارئین اس کو اسرائیلی کی بے مہارطاقت اورپروپیگنڈہ کی برتری کے لئے ایک افسانوی کہانی قراردیتے ہیں۔یادرکھیں کہ ایک لکھنے والے کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ مقدوربھرتحقیق کے بعداپنے قارئین کومعلومات بہم پہنچائے جس کے لئے یقیناقارئین کی آرا بھی اپناایک مضبوط مقام رکھتی ہیں۔
پہلی مرتبہ گریٹراسرائیل کاتذکرہ 1967ء کی عرب اسرائیل جنگ کے بعدسامنے آیاتھالیکن اسرائیل کی طرف سے اس پرمکمل خاموشی اختیارکی گئی لیکن اس کی تردیدکبھی سامنے نہیں آئی لیکن گزشتہ دودہائیوں سے باقاعدہ یہودی اس مذموم منصوبے کی تائیدمیں لکھنے کے ساتھ الیکٹرانک میڈیاپر بھی گریٹر اسرائیل کاتذکرہ کھل کررہے ہیں جس کارواں برس جنوری میں اسرائیلی مصنف ’’ایوی لپکن‘‘کاانٹرویوعالمی طورپر بڑا وائرل ہوا جس میں اس نے کھل کر’’گریٹراسرائیل‘‘کے منصوبے پراپنے بیمارذہن کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا : فرات کے دوسری جانب کرد ہیں جوہمارے دوست ہیں۔ ہمارے پیچھے بحیرہ روم ہے اورہمارے آگے کرد،لبنان کواسرائیل کے تحفظ کی ضرورت ہے اور مجھے یقین ہے کہ ہم مکہ اور مدینہ اورطورِسیناپربھی قبضہ کریں گے اوران جگہوں کوپاک کریں گے۔ایک دن آئے گاجب ہماری سرحدیں لبنان سے لے کرسعودی عرب کے عظیم صحراؤں سے ہوتی ہوئی بحیرہ روم سے لے کر نہرِفرات (عراق) تک پھیلی ہوں گی۔
گریٹراسرائیل کے تصورکواس وقت زیادہ تقویت ملی جب غزہ میں زمینی کارروائی کے دوران اسرائیلی فوجیوں کے یونیفارم پر گریٹراسرائیل کے نقشہ کے بیج تھے جبکہ انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے اسرائیلی وزاراء کی طرف سے ’’داپرومسڈلینڈ،جس کا وعدہ کیاگیاہے‘‘کے نقشے میں اردن، فلسطین، لبنان، شام،عراق اورمصرکے کچھ حصوں پرقبضہ کرنا شامل ہے۔ اسرائیل میں بہت سے یہودی اس خطے کو ’’ایرٹز اسرائیل، یالینڈ آف اسرائیل‘‘کے نام سے جانتے ہیں اوریہ اسرائیل کی موجودہ سرحدوں سے کہیں بڑاجغرافیائی علاقہ ہے۔ یادرہے کہ گریٹراسرائیل کاتصورکوئی نیا خیال نہیں مگریہ تصورکہاں سے آیااور’’دا پرومسڈلینڈ‘‘میں کون کون سے علاقے شامل ہیں،یہ جاننے کے لئے ہمیں کئی سوسال پیچھے جاناپڑے گا ۔
گزشتہ برس اکتوبرمیں حماس اوراسرائیل کے درمیان کھلی جنگ ابھی ختم نہیں ہوپائی کہ اسرائیلی جارحیت کاشکارلبنان کے بعد اب یمن بھی ہوگیاہے جبکہ اسرائیل کے ٹارگٹ حملوں میں نئے منتخب ایرانی صدر کی تقریبِ حلفِ وفاداری میں شرکت کے لئے آنے والے حماس کے لیڈراسمعیل ہانیہ کی شہادت کے بعدخطے میں ایک نئی جنگ کا آغازہوگیاتھا اور اب لبنان میں حزب اللہ کے مشہوررہنماحسن نصراللہ کے ساتھ دیگرکئی اہم رہنماؤں کوشہیدکردیاگیاجس میں پاسدارانِ انقلاب کے ایک جنرل بھی شامل ہیں۔اقوام متحدہ میں امریکاسمیت کئی مغربی ممالک نے دنیاکی اشک شوئی کے لئے جنگ بندی کاتذکرہ توضرورکیالیکن جواب میں اسرائیل کی کاروائیوں میں مزیدشدت نظرآرہی ہے جس کے بعد گریٹر اسرائیل کی گونج میں بھی اضافہ دکھائی دے رہاہے۔
صیہونیت کے بانی تھیوڈورہرزل کے مطابق ’’پرومسڈلینڈ‘‘یاگریٹراسرائیل کے نقشے میں مصر میں دریائے نیل سے لے کرعراق میں نہرِفرات تک کے علاقے شامل ہیں یعنی فلسطین، لبنان، اردن،عراق، ایران،شام،مصر، ترکی اور سعودی عرب بھی گریٹر اسرائیل کاحصہ ہوں گے۔ 1947ء میں اقوام متحدہ نے فلسطین کودوالگ الگ یہودی اورعرب ریاستوں میں تقسیم کرنے کی منظوری دی اوربیت المقدس کوایک بین الاقوامی شہر قراردیاگیا۔اس کے بعداسرائیلی سیاستدان اور سابق وزیراعظم مینیچم بیگن نے کہاتھاکہ ’’فلسطین کی تقسیم غیرقانونی ہے۔یروشلم ہمارادارالحکومت تھا اور ہمیشہ رہے گااورایرٹزاسرائیل کی سرحدوں کو ہمیشہ کے لئے بحال کیاجائے گا‘‘۔
اخبارٹائمزآف اسرائیل میں’’زایونزم 2.0 تھیمز اینڈپروپوزلزآف ریشیپنگ ورلڈسیو یلائزیشن‘‘ کے مصنف ایڈرئن سٹائن لکھتے ہیں کہ گریٹراسرائیل کامطلب مختلف گروہوں کے لئے مختلف ہے۔اسرائیل میں اورملک سے باہررہنے والے یہودیوں کے لئے گریٹراسرائیل کی اصطلاح کامطلب مغربی کنارے(دریائے اردن)تک اسرائیل کی خودمختاری قائم کرناہے۔اس میں بائبل میں درج یہودیہ،سامرہ اور ممکنہ طورپروہ علاقے شامل ہیں جن پر1948ء کی جنگ کے بعدقبضہ کیاگیا۔اس کے علاوہ اس میں سینائی،شمالی اسرائیل اور گولان کی پہاڑیاں شامل ہیں۔
اس حوالے سے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر گہری نظررکھنے والی اورواشنگٹن میں مقیم پالیسی تجزیہ کارتقی نصیرات کے مطابق’’گریٹراسرائیل کاتصور اسرائیلی معاشرے میں رچابساہے اور حکومت سے لے کرفوج تک اسرائیلی معاشرے کے بہت سے عناصراس کے علمبردارہیں۔ اسرائیلوں کامانناہے کہ اسرائیل بائبل میں درج حوالوں اورتاریخی اعتبارسے ان زمینوں کاحقدار ہے جونہ صرف’’دریاسے سمندرتک ‘‘ بلکہ ’’دریا سے دریا تک‘‘پھیلی ہوئی ہیں۔ یعنی دریائے فرات سے دریائے نیل تک اوران کے درمیان تمام علاقے۔ اگرچہ گریٹراسرائیل کے تصورکے پیچھے اصل خیال یہی ہوسکتاہے مگرآج کے اسرائیل میں ایک زیادہ حقیقت پسندانہ سوچ یہ ہے کہ اس میں اسرائیل کی سرحدوں سے باہرکے وہ علاقے مغربی کنارے کے علاقے،غزہ اور گولان کی پہاڑیاں بھی شامل ہیں جن پراس نے طویل عرصے سے قبضہ کررکھاہے۔تاہم برطانیہ کی برمنگھم یونیورسٹی میں مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہراور ’’کنگ فیصل سینٹرفارریسرچ اینڈاسلامک سٹڈیز‘‘ کے ایسوسی ایٹ فیلوعمرکریم گریٹراسرائیل کو’’محض ایک افسانوی تصور‘‘ مانتے ہیں۔یہودی مذہب کے مطابق گریٹر اسرائیل سے مرادمشرقِ وسطیٰ میں وہ تمام قدیمی علاقے ہیں جوسلطنتِ عثمانیہ کاحصہ تھے اورجہاں یہودی آبادتھے۔جب بنی اسرائیل مصرسے نکل کرآئے تھے تواس وقت ان کا مرکز فلسطین تھاجہاں آ کروہ آباد ہوئے،اسرائیلی حکومت اسے آج بھی جودیہ صوبے کاحصہ مانتی ہے اوراس کے علاوہ گریٹراسرائیل میں وہ تمام علاقے شامل ہیں جہاں جہاں یہودی آبادتھے۔
عمرکامانناہے کہ گریٹراسرائیل ایک ایسی فینٹیسی ہے جوپریکٹیکل نہیں،مگریہودیوں سے زیادہ صیہونی سیاست میں اس کابہت ذکرملتاہے۔’’عملی طورپر اسرائیلی، فلسطین کے تمام مقبوضہ علاقوں سمیت مقبوضہ مغربی کنارے اورغزہ کواپناحصہ مانتے ہیں لیکن اگر صرف ’’فینٹیسی‘‘کی بات کی جائے توگریٹراسرائیل میں جزیرہ نماعرب یعنی آج کے سعودی عرب، عراق، اردن، مصرکے کچھ علاقے اس میں شامل ہیں۔ ’’داپرومسڈ لینڈ‘‘کے متعلق عمرکریم بتاتے ہیں کہ جب حضرت یوسف ؑکے دورمیں یہودی مصرمیں آبادہوئے تب ان کی حکمرانی فلسطین سے لے کربلادِشام(آج کاشام) اورفرات کے کچھ علاقوں تک تھی اورعرب ریاستیں نہ ہونے کے باعث ان کااثرورسوخ کئی علاقوں تک تھااورگریٹراسرائیل کا تصوریہیں سے آیاہے کہ ’’بنی اسرائیل کی اولادجہاں جہاں پلی بڑھی ہے وہ سب علاقے ہمارے ملک کاحصہ ہوں‘‘۔عملی طورپریہ ممکن نہیں ہے اوراب گریٹراسرائیل کامطلب صرف مقبوضہ علاقے ہیں جن میں فلسطین کے مقبوضہ علاقوں سمیت مقبوضہ مغربی کنارے اورغزہ شامل ہیں۔
2023ء میں دائیں بازوکے اسرائیلی وزیر بیزلیل سموٹریچ کے پیش کردہ’’گریٹراسرائیل‘‘کے نقشے میں تواردن بھی شامل تھاجس کے باعث سفارتی تنازع کھڑاہوگیاتھا۔یادرہے کہ اسرائیلی وزیرنے پیرس میں ایک تقریرکے دوران گریٹر اسرائیل کاایک نقشہ پیش کیاتھاجس میں اردن اورمقبوضہ مغربی کنارے کو اسرائیل کاحصہ دکھایاگیاتھا۔اردن نے ’’بیز لیل‘‘ پر دونوں ممالک کے درمیان امن معاہدے کی خلاف ورزی کاالزام لگاتے ہوئے شدیداحتجاج کیاتھا۔ حقیقت یہ ہے کہ سموتریچ ہویابین گویر،جن حلقوں کی وہ نمائندگی کرتے ہیں وہ اسی تصورکواسرائیل کاجائزمستقبل سمجھتے ہیں۔
انہوں نے اسی تصورکااستعمال کرتے ہوئے نیتن یاہوکی موجودہ حکومت میں غیر قانونی اسرائیلی آباد کاروں کومسلح کرنے ،ان کی حمایت اورتحفظ فراہم کرکے اسے حقیقت میں بدل دیاہے۔یہ غیرقانونی اسرائیلی آبادکارزبردستی فلسطینیوں کے زیتون کے باغوں کو جلا کر، انہیں ان کے گھروں سے بے گھر کرکے اور ڈرا دھمکاکر انہیں اپنی حفاظت کے لئے بھاگنے پر مجبور کررہے ہیں اورمغربی کنارے میں نئی بستیاں قائم کر رہے ہیں۔ حماس کے اسرائیل پرکیے گئے7اکتوبروالے حملوں کے بعدان عناصر(غیرقانونی مسلح اسرائیلی آبادکاروں)نے نمایاں اثرورسوخ اورطاقت حاصل کرلی ہے اوروہ اسرائیلی فوج(آئی ڈی ایف)اورنتن یاہوکے وزراکی حفاظت میں اس ایجنڈے پرکام کررہے ہیں۔اکثرانہیں ’’غیرریاستی عناصر‘‘پکاراجاتاہے لیکن انھیں کچھ بھی پکارلیں،حقیقت یہی ہے کہ انہیں براہ راست وزیراعظم نتن یاہوکی حمایت حاصل ہے جس نے اس سال جولائی میں5300نئی بستیوں کے قیام کی منظوری دی تھی۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں