(گزشتہ سےپیوستہ)
یادرکھیں!کسی بھی قوم میں انتہاپسندایسے ہی خواب دیکھتے ہیں جیسے اسرائیل میں انتہائی دائیں بازوکی صہیونی افرادکے ہیں۔اسرائیل کی ریاست قائم ہونے کے بعدیہودیوں کو ایک مذہبی ریاست کاتصوردوبارہ سے ملاہے کیونکہ پہلے یہودی جہاں بھی آبادتھے یاتووہ اقلیت میں تھے یاان ملکوں کے شہری تھے۔پہلی مرتبہ پاکستان کی طرح انہیں اسرائیل کی صورت میں ایک مذہبی ریاست کاتصورملاہے جہاں یہودی مذہب ہی ان کی قومیت کی بنیادبنااوریہی سے اس بحث نے جنم لیاکہ ’’چونکہ اب ہم نے اپنی مذہبی ریاست قائم کرلی ہے لہٰذااب ہم اسے روایتی حدوں تک لے کر جائیں گے‘‘۔
آج کے اسرائیل میں بہت کم افراد ’’جوانتہائی اقلیت میں ہیں‘‘وہ ایسی باتیں کرتے ہیں تاہم ان کامانناہے کہ عملی طورپر یہ اس لیے بھی ممکن نہیں کہ اسرائیل کے اردن جیسے ہمسایہ ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات ہیں جن کامطلب ہے کہ وہ ان ممالک کی سرحدی حدودکوتسلیم کرتاہے‘‘۔لیکن زمینی حقائق اسرائیلی ظالم وسفاک حکمرانوں پراس لئے یقین نہیں کرسکتے کہ سفارتی تعلقات تومصر،اردن کے ساتھ بھی ہیں لیکن اس کے باوجودآج تک ان کے علاقوں پراسرائیل کا ناجائز قبضہ موجودہے۔عرب امارت اورگلف کے ساتھ بھی اسرائیل کے سفارتی تعلقات قائم ہیں اورسعودی عرب کے ساتھ بھی ان کے پہلے سے کہیں زیادہ خوشگوار تعلقات ہیںاورملک کی تیسری جانب شام کے ساتھ بھی اسرائیل کا صرف گولان ہائٹس کاتنازع ہے اوراس کے علاوہ دونوں ممالک کے بیچ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔جویہ سمجھتے ہیں کہ سیاسی اورعملی طورپرگریٹراسرائیل کے قیام کی باتیں محض خیالی ہیں اور اسرائیل میں سنجیدہ سیاست دان اور تجزیہ کاراس بارے میں کبھی بات کرتے نظرنہیں آتے تاہم یہ فینٹسی ان طبقات میں ضرورموجودہے جوایک طرح سے پوری دنیامیں یہودیوں کی نشاطِ ثانیہ کاتصوررکھتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ اگراسرائیل ’’گریٹراسرائیل‘‘ کے منصوبے کوعملی جامہ پہناناچاہے تومغرب کااس پرکیاردِعمل ہوگا؟اس حوالے سے میں سمجھتاہوں اب تک مغرب، خاص طورپر امریکا نے زمینی حقائق کی تبدیلی اوراسرائیلی بستیوں کی توسیع کے حوالے سے کمزورردعمل کامظاہرہ کیاہے جس کاواضح ثبوت یہ ہے کہ اس سال کے شروع میں جب اسرائیل نے کچھ پرتشدد آباد کاروں کوبستیاں قائم کرنے کی منظوری دی تو’’بائیڈن انتظامیہ نے بہت نپے تلے اندازمیں ان کی مذمت کی تھی‘‘۔
مغرب میں اسرائیل کے حمایتی ممالک کی طرف سے ان اقدامات پرکوئی سنگین ردِعمل سامنے نہیں آیا،لہنداایک طرح سے مغربی ممالک کی جانب سے اسرائیل کو ’’گریٹراسرائیل‘‘کے خواب کوپوراکرنے کے لئے گرین لائٹ مل گئی ہے اور بااثراسرائیلی لیڈروں کی ایک بڑی تعداداس خواب کی تعبیرمیں لگی ہے تاہم گریٹراسرائیل کاقیام نہ مغرب اورنہ مغرب میں رہنے والے یہودیوں کوقابلِ قبول ہوگا۔جب1947 میں یہودیوں کے لئے اس ریاست کاقیام عمل میں آیاتواس وقت یہی خیال تھاکہ پوری دنیامیں انہیں استحصال کاسامنارہاہے لہٰذا انھیں ایک الگ ملک ملناچاہیے جہاں وہ اس طرح کے استحصال سے بچ کرزندگی گزارسکیں اورتمام مغربی ممالک اوراقوامِ متحدہ کے چارٹرمیں آج بھی مغربی کنارہ اور غزہ کومقبوضہ علاقے کہاجاتاہے اوراسے امریکااوربرطانیہ بھی تسلیم کرتے ہیں۔
گریٹراسرائیل کے منصوبے کے بارے میں جویہ خیال کرتے ہیں کہ اس خیالی منصوبے کی بات توایک طرف،ان مقبوضہ علاقوں کے علاوہ گولان ہائٹس جہاں اسرائیل1967 ء سے قابض ہے،اسے بھی تمام مغربی ممالک اوربین الاقوامی ادارے مقبوضہ علاقہ مانتے ہیں۔اس لئے ’’گریٹراسرائیل‘‘کی نہ توکوئی قانونی حیثیت ہے اورنہ اسرائیل کی پاس اتنی فوجی صلاحیت ہے کہ وہ ایسے منصوبے کومستقبل میں عملی جامہ پہنا سکے لیکن فرض کریں’’اگراسرائیل ایسی کوئی کوشش کرتابھی ہے تومغرب کی سیاسی وفوجی اجازت اور مدد کے بغیر یہ ممکن نہیں ہو سکتا‘‘۔ایک طبقہ یہاں پاکستان کے ان فرادکے بارے میں اپنابغض کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل کے اس مذموم ارادے کی صفائی پیش کرتے ہوئے یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’گریٹراسرائیل‘‘محض ایک فینٹیسی ہے جو مختلف شدت پسند گروہوں کے لئے ’’سیاسی لائف لائن‘‘کاکام کرتی ہے اوران کے نظریات کوزندہ رکھنے میں اوران کے لئے معاشرے میں اپنی اہمیت دکھانے میں کارگرہوتی ہے بالکل ویسے ہی جیسے پاکستان میں کچھ لوگ خلافت اوردنیابھرپرراج کرنے کاتصور رکھتے ہیں‘‘۔
ان کی اس غلط فہمی کودورکرنے کیئے زمینی حقائق کی طرف توجہ دلاتے ہوئے اتناہی عرض کروں گاکہ افغانستان میں روس کی شکست کے فوری بعد’’ون ورلڈ آرڈر‘‘کے خالق امریکا کے سابقہ خارجہ سیکرٹری ’’ہنری کیسنجر‘‘کے اس بیان کو ضرورذہن میں یادکرلیں جس میں اس نے واضح طورکہا تھا کہ روس کوامریکاکے مقابلے میں بطورعالمی طاقت کے شکست دینے کے بعد’’مذہب اسلام،مسلمان‘‘ ہمارا سب سے بڑادشمن ہے جس سے نمٹناانتہائی ضروری ہے‘‘۔یہ وہی ہنری کیسنجرہے جس کوچین سے ملانے کے لئے پاکستان نے ایک اہم کردارادا کیاتھالیکن1971 میں ان کی ساری ہمدردیاں ہمارے دشمن بھارت کے ساتھ تھیں۔یہ وہی کیسنجرہیں جن پریہ بھی الزام ہے کہ ان کی پالیسیوں کے سبب کمپوچیااورلاؤس پربے تحاشابمباری کی گئی۔انہوں نے چلی میں صدر آلندے کی منتخب مارکسسٹ حکومت کاتختہ الٹوانے میں بنیادی کرداراداکیا۔افریقااورلاطینی امریکامیں امریکانواز فوجی آمریتوں کی حمائیت کی۔مشرقی تیمورپر انڈونیشیا کے جبری قبضے کوتسلیم کیا۔بھٹو کوایٹمی ہتھیاروں کامنصوبہ ترک کرنے، ایٹمی پروگرام کویکسرختم نہ کرنے پرسنگین نتائج کی دہمکی دی۔کہاجاتاہے کہ کیسنجرکاعملیت پسند سفاک سیاست کانظریہ اس دنیامیں لاکھوں انسانوں کی ہلاکت کاسبب بنااوربعدازاں کیسنجرکے سفارتی شاگردوں نے اس عمل کواورسیقل کیا۔
انہوں نے1977ء میں کہاکہ اسرائیل کا تحفظ تمام آزادانسانوں کی مشترکہ ذمے داری ہے۔وفات سے تین ماہ پہلے اسرائیلی اخبار ماریف کوانٹرویودیتے ہوئے کہامیں ایک یہودی ہوں۔اس حیثیت میں آلِ یہوداوراسرائیل کی بقاء میراذاتی مسئلہ ہے۔ 2014ء میں عالمی جیوش کانگریس نے ہنری کیسنجرکی غیرمعمولی صلاحیتوں کے اعتراف میں انہیں صیہونی نظریے کے بانی کے نام پرقائم تھیوڈورہرزل ایوارڈسے نوازا۔اس موقع پراسرائیلی صدرآئزک ہرزوگ نے اسرائیل کے لئے ہمدردی اورمحبت رکھنے کے لئے ہنری کیسنجرکوسراہا۔
صہیونیت کے بانی تھیوڈورہرزل کے مطابق یہودیوں کی ارضِ موعود میں لبنان،شام،عراق، سعودی عرب،مصراوراردن کے علاوہ ایران اورترکی کے علاقے بھی شامل ہوں گے ۔ اقوامِ متحدہ نے1947ء میں فلسطین کویہودی اورعرب ریاست میں تقسیم کرکے بیت المقدس کوبین الاقوامی شہرقراردیاتھامگرسابق اسرائیلی وزیرِاعظم بیگن کاکہناتھاکہ فلسطین کی یہ تقسیم غیرقانونی ہے،بیت المقدس یہودیوں کاہے اور یہودیوں ہی کارہے گا۔اسرائیل میں ہردورمیں گریٹراسرائیل کے تصورکوپروان چڑھایاگیاہے۔ اسرائیلی یہودیوں کوباور کرایاگیاہے کہ آسمانی کتب میں جن علاقوں کاذکرہے وہ سب کے سب ان کے ہیں اورایک گریٹراسرائیل میں شامل ہوں گے۔ان تمام حقائق کے باوجوداگرمسلم حکمران اپنے اقتدارکوبچانے کے لئے آنکھیں بندکئے ہوئے ہیں توکبوترکی آنکھیں بندکرنے سے بلی کاشکارہونے سے بچ نہیں سکتا۔