گزشتہ کئی برسوں سے ایران پرحملہ کرنے کیلئے اسرائیل بہانے تلاش کررہاتھااوربالخصوص گزشتہ سال7/اکتوبرسے غزہ میں جس درندگی کاوہ اظہارکررہاہے،وہ مسلسل ایران کو اس جنگ میں گھسیٹنے کی کوشش کررہاتھااورایک طویل عرصے سے ایران کواشتعال دلانے کیلئے اس کے ایٹمی پروگرام پرحملوں کی دھمکیاں بھی دے رہا تھا جس میں بال آخر اسرائیل کامیاب ہو گیا ہے۔ اس سے قبل رواں برس اپریل کے آغازمیں ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے دوسینیئرکمانڈرشام کے دارالحکومت دمشق میں ایران کے قونصل خانے پر ہونے والے میزائل حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔ اسرائیل کی جانب سے اس حملے کی بھی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی تھی تاہم عام خیال یہی ہے کہ اس حملے کے پیچھے اسرائیل ہی تھا۔
ایرانی دارالحکومت تہران میں رواں برس 31 جولائی ایرانی وقت کے مطابق دوبجے حماس کے سیاسی رہنمااسماعیل ہنیہ کوان کے ذاتی محافظ کے ساتھ ایرانی صدرمسعودپزشکیان کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے بعد فوج کے زیرانتظام ایک مہمان خانے پر میزائل حملے میں شہیدکردیاگیاتھااوراب27ستمبر2024کواسرائیلی میزائل حملے میں حزب اللہ کے انتہائی مقبول رہنما 64 سالہ حسن نصراللہ ودیگرساتھیوں سمیت ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے جنرل عباس نیلفروشان کی شہادت کے بعدایران کے صبر کاپیمانہ لبریزہونے پربالآخر منگل جویہودیوں کے نئے سال کاپہلادن تھا،کی شب اسرائیل پرصرف 4سوسیکنڈمیں 200بیلیسٹک ایرانی میزائل حملوں کی بارش نے دنیابھرکی نظریں ایک بارپھرمشرقِ وسطیٰ پر مرکوز کردی ہیں جہاں ایک خونیں تنازع اب ہرگزرتے دن کے ساتھ مزیدخطرناک ہوتاجارہاہے۔
یادرہے کہ سٹاک مارکیٹس سے لے کرعالمی امورپرنظررکھنے والے تجزیہ کاروں تک سب ہی مشرقِ وسطی کی تازہ صورتحال اورفریقین کے اگلے قدم کے حوالے سے پیشگوئی کرنے کی کوشش کررہے ہیں اوراس بات پرپریشان ہیں کہ دنیاکی تین بڑی طاقتیں امریکا، چین اورروس اس تنازع کاحل تلاش کرنے میں بدستورکیوں ناکام ہیں۔7/اکتوبر کے حملوں کے بعدمشرقِ وسطیٰ میں بڑھنے والی کشیدگی اب غزہ،لبنان،یمن،شام کے بعد ایران تک پھیلتی ہوئی نظرآرہی ہے اوراسرائیلی حملوں میں اب تک حماس اورحزب اللہ کے سینیئررہنماں سمیت ہزاروں افرادشہیدہوچکے ہیں اوراب تواسرائیل کے دفاع کیلئے سینہ ٹھونک کر امریکابھی میدان میں اترآیاہے اور یقینا امریکاکیاتحادی بھی اسرائیل کی پشت پناہی کرتے ہوئے حزب اللہ،حماس اورایران کے خلاف کارروائیوں میں شامل ہو گئے ہیں۔
بظاہرتوامریکا،برطانیہ اوریورپی یونین میں شامل متعددممالک نہ صرف غزہ بلکہ لبنان میں بھی جنگ بندی کی کوششیں کررہے ہیں لیکن یہ کوششیں تاحال کارگرثابت نہیں ہوئی ہیں۔ امریکا سمیت متعددممالک کویہ اندیشہ ہے کہ غزہ اورلبنان میں لڑی جانے والی جنگ پورے مشرقِ وسطیٰ میں پھیل سکتی ہے جبکہ گذشتہ ہفتے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنی تقریر کے دوران امریکی صدرجوبائیڈن نے کہاتھاکہ باقاعدہ جنگ کسی کے بھی مفاد میں نہیں۔اس مسئلے کاسفارتی حل اب بھی ممکن ہے بلکہ کثیرالمیعادسکیورٹی کویقینی بنانے کاراستہ بھی یہی ہے لیکن تمام تراپیلوں کے باوجوداسرائیل نے غزہ اورلبنان میں اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں اوراب ایران کے حملے کے بعداس کی جانب سے ایک بارپھرایران پرحملے کی دھمکی دی ہے۔
سات اکتوبر2023کے بعد سے جہاں غزہ پراسرائیل کی مسلسل بمباری کے نتیجے میں غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اب تک کم ازکم 40,602 افرادشہیدہوچکے ہیں ،94 ہزارسے زائدافراد زخمی ہیں جبکہ لاکھوں بے گھرہوچکے ہیں وہیں ستمبر2024میں لبنان پر اسرائیلی فضائی حملوں میں مارے جانے والوں کی تعداد ایک ہزارسے زیادہ ہے۔ غزہ کی پٹی میں گذشتہ ایک سال سے زائدعرصے میں حماس کے خلاف کی گئی زمینی کارروائیوں کے دوران اسرائیل کے درجنوں فوجی ہلاک وزخمی ہوئے ہیں جبکہ حزب اللہ کی جانب سے سات اکتوبرکے بعدسے اسرائیل پرراکٹس داغے جانے کاسلسلہ بھی جاری رہاہے اوراسرائیلی وزیراعظم کا دعویٰ ہے کہ گذشتہ ایک برس کے دوران حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل کے مختلف علاقوں پرمجموعی طورپرآٹھ ہزارسے زیادہ راکٹ داغے جاچکے ہیں۔یمنی حوثی بھی غزہ جنگ کے آغاز کے بعد سے بحیر احمر میں اسرائیل آنے اورجانے والے بحری جہازوں کونشانہ بناتے آئے ہیں۔اس سے قبل رواں برس اپریل کے آغاز میں ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے دو سینیئر کمانڈر شام کے دارالحکومت دمشق میں ایران کے قونصل خانے پر ہونے والے میزائل حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔اسرائیل کی جانب سے اس حملے کی بھی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی تھی تاہم عام خیال یہی ہے کہ اس حملے کے پیچھے اسرائیل ہی تھا۔
دوسری طرف لبنان کامحاذگرم ہونے سے قبل امریکااسرائیل اورحماس کے درمیان جنگ بندی کروانے کیلئے مذاکرات کی کوشش بھی کرتارہاہے،تاہم یہ مذاکرات تاحال تعطل کا شکارہیں لیکن عالمی تجزیہ نگارامریکاکے ایسے بیانات کوشک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں لیکن ابھی بھی نیتن یاہوکی جانب سے جاری ہونے والے بیانات کودیکھ کرصاف پتہ چلتاہے کہ جنگ بندی کے مطالبات اورسفارتی کوششوں کااسرائیل پرکوئی اثرنہیں ہورہا۔پیرکو سوشل میڈیا ’’ایکس‘‘ پرشیئرکیے گئے ایرانی عوام کے نام تین منٹ کے ویڈیوپیغام میں اسرائیلی وزیراعظم کاکہناتھاکہ مشرقِ وسطیٰ میں کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں اسرائیل نہیں پہنچ سکتا، کوئی ایسامقام نہیں جہاں ہم اپنے لوگوں اورملک کی حفاظت کیلئے نہیں جاسکتے۔نیتن یاہونے ایرانی عوام کومخاطب کرتے ہوئے مزیدکہاکہ’’ ہرگزرتے لمحے کے ساتھ(ایرانی) حکومت معززفارسی عوام کوتباہی کے قریب لے جارہی ہے۔جب ایران بالآخرآزادہو جائے گاتو سب کچھ بدل جائے گااوردونوں قومیں امن سے رہ سکیں گے۔جنونی ملاؤں کواپنی امیدیں اورخواب کچلنے نہ دیں،آپ بہتری کے مستحق ہیں۔ایرانی عوام جان لیں کہ اسرائیل آپ کے ساتھ کھڑاہے۔ہم ساتھ مل کرخوشحال اورپرامن مستقبل دیکھیں گے‘‘۔
ایران کے میزائل حملوں کے بعدیہ سوال پیداہوتاہے کہ دنیاکی بڑی طاقتیں آخراس تنازع میں شامل فریقوں کوفائربندی پررضامند کیوں نہیں کرپارہیں اورامریکاکے علاوہ روس اورچین جیسی عالمی طاقتیں اس معاملے پرکوئی مثرکردارکیوں ادانہیں کرپارہیں؟
مشرقِ وسطیٰ اوربین الاقوامی خارجہ پالیسی پرنظررکھنے والے ماہرین اورتجزیہ کاروں کاکہناہے کہ امریکا،روس اورچین جیسے ممالک کے درمیان عدم تعاون اورامریکاکی اندرونی سیاست کچھ ایسے عوامل ہیں جس کے سبب اسرائیل کوجنگ بندی کیلئے قائل کرنامشکل ہورہاہے۔کیا امریکا،چین اورروس کے درمیان اختلافات اسرائیل کوروکنے میں ناکامی کی وجہ ہیں؟یااس خطے میں چین کابڑھتاہوامعاشی اثرورسوخ روکنامقصودہے؟کیونکہ اس خطے میں چین نے بڑی کامیابی کے ساتھ ایران اورسعودی عرب کے درمیان یمن میں جاری ایک تلخ جنگ کوختم کرانے میں ایک اہم کرداراداکیاہے جویقینا امریکی اسلحہ سازکمپنیوں کیلئے سراسر جہاں ایک خسارہ کی شکل اختیارکرگیاہے وہاں ایران پرعالمی پابندیوں کے باوجود چین 27 مارچ 2021ء میں ایران کے ساتھ اسٹرٹیجک تعاون کے25 سالہ معاہدے پردستخط کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔یہ طویل المدتی معاہدہ امریکی پابندیوں کی وجہ سے شدید مشکلات کے شکارایران کودرپیش کئی متنوع اقتصادی امورکااحاطہ بھی کرتاہے۔یہی وجہ ہے اپنی ضرورت کاوافرتیل ایران سے خریدتاہے۔
اس سے قبل 2001 میں ایران نے روس کے ساتھ بھی زیادہ ترجوہری توانائی کے شعبے میں تعاون کے ایک معاہدے پردستخط کیے تھے مگر اس معاہدے کی مدت صرف دس سال تھی۔بعدمیں اس معاہدے میں دومرتبہ پانچ پانچ سال کیلئے توسیع کردی گئی تھی۔چین اورایران کے باہمی تعلقات میں کافی زیادہ گرم جوشی پائی جاتی ہے اور2019میں دونوں ممالک نے روس کے ساتھ مل کر شمالی بحرہندمیں کی جانے والی مشترکہ بحری مشقوں میں بھی حصہ لیاتھا۔بیجنگ اورتہران کے باہمی تعلقات اتنے گہرے ہیں کہ حالیہ برسوں میں دونوں کے مابین تجارت کاسالانہ حجم تقریبا20بلین ڈالرتک پہنچ چکاہے۔قبل ازیں2014میں اس تجارت کی سالانہ مالیت تقریبا52بلین ڈالررہی۔اس لئے کسی حدتک یہ کہاجاسکتاہے کہ حالیہ جنگ بندی میں کسی بھی صورت میں چین کی جنگ بندی میں کسی بھی کوشش کوامریکاکامیاب نہیں ہونے دے گااوریوکرین جنگ کی بناپرروس کے راستے میں بھی امریکاسب سے بڑی رکاوٹ بنے گا۔
(جاری ہے)