Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

ایران اسرائیل تنازعہ:عالمی چیلنج

(گزشتہ سے پیوستہ)
اس کی واضح مثال یہ ہے کہ اگرایک طرف امریکامشرقِ وسطیٰ میں کسی بڑی جنگ کوروکنے کی کوشش کررہاہے تو دوسری طرف بطوراتحادی جہاں وہ اسرائیل کو عسکری طاقت بڑھانے کے لئے اربوں ڈالرفراہم کررہاہے وہاں اس نے اپنی تمام فورسزکواسرائیل کے دفاع کاحکم دے دیاہے گویاامریکاتواس جنگ میں ایک فریق بن گیاہے جس کی وجہ سے اس کے جنگ بندی کے حالیہ بیانات کی قلعی کھل کرسامنے آگئی ہے۔گذشتہ ہفتے اسرائیل نے کہا تھاکہ امریکاکی جانب سے آٹھ ارب70کروڑڈالرکاامدادی پیکچ ملاہے تاکہ وہ اپنی عسکری مہمات کوجاری رکھ سکے۔
چینی تھنک ٹینک تائیہی انسٹٹیوٹ کے سینئر فیلواینارتانجین کے مطابق ایک طرف امریکا جنگ بندی کی بات کرتاہے لیکن دوسری جانب وہ (اسرائیل کو) اسلحہ،گولہ باروداور انٹیلی جنس سپورٹ فراہم کررہا ہے جس کااستعمال خواتین اور بچوں سمیت ہزاروں عام شہریوں کے قتل کے لئے کیا جا رہاہے۔امریکااب تو جنگ بندی کی بات کررہاہے لیکن ماضی میں اس کی جانب سے اقوامِ متحدہ میں جنگ بندی کی قراردادوں کوویٹوبھی کیاگیاہے۔اس حوالے سے امریکی محکمہ خارجہ کی برطانوی نمائندہ مارگریٹ میکلوئیڈنے عالمی میڈیا کو بتایاکہ ہم نے اسی قرار دادکی مخالفت کی جس میں حماس کی دہشت گردی کونظراندازکیاگیایاجس میں اسرائیل کے حقِ دفاع کونظراندازکیاگیا۔دوسری جانب روس اور چین جیسی دیگربڑی طاقتیں بیانات کی حدتک توایسے حملوں کی مذمت کرتی ہوئی نظرآتی ہیں جن سے خطے میں کشیدگی بڑھنے کاامکان ہولیکن ان کی جانب سے اب تک کوئی عملی اقدامات دیکھنے میں نہیں آئے۔
حالیہ برسوں میں دنیابھرمیں چین کااثرورسوخ بڑھتاہوانظرآرہاہے۔اس اثرورسوخ کی مثال گذشتہ برس چین کی کوششوں کے باعث تقریباً سات برسوں بعد ایران اورسعودی عرب کے تعلقات بحال ہونے کے علاوہ خطے میں سب سے بڑے معاشی پارٹنرکے ہیں اور شدیدترین سرحدی تنازعہ کے باوجود انڈین خبررساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق یہ دوطرفہ تجارت جو 2001ء میں 1.83 ارب امریکی ڈالرزتھی وہ رواں سال کے 11ماہ میں بڑھ کر123ارب ڈالرتک پہنچ گئی ہے۔
لیکن لبنان میں اسرائیلی حملے میں حسن نصر اللہ سمیت حزب اللہ کی متعدد سینیئر رہنمائوں کی ہلاکت کے بعدعالمی سیاست میں چین کی خارجہ پالیسی میں احتیاط اوراعتدال کایہ حال ہے کہ اس نے صرف اتنا ہی کہا کہ وہ لبنان کی خود مختاری اورسکیورٹی کیخلاف ورزی کی مخالفت کرتاہے اورعام شہریوں کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کی مذمت کرتاہے۔چین کی وزارتِ خارجہ کایہ بھی کہناتھاکہ لبنان اوراسرائیل کے درمیان کشیدگی غزہ میں تنازع کے سبب بڑھی ہے اوریہ کہ چین کوخطے میں بڑھتے تناپرتشویش ہے۔چین تمام متعلقہ فریقین خصوصاًاسرائیل سے درخواست کرتاہے کہ وہ صورتحال کودرست کرنے کے لئے اقدامات اٹھائیں اوراس تنازع کوبے قابو ہونے سے روکیں۔
دوسری جانب روس ہے جوکہ اس خطے میں ایران کااہم اتحادی بھی ہے،اس کابھی اس تنازع میں حل کے لئے کوئی مؤثر کردارتاحال نظرنہیں آیاہے،تاہم مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پراس نے مذمت پراکتفا کیا ہے۔ پیرکوکریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہاتھاکہ روس حزب اللہ کے سربراہ کی ہلاکت کی مذمت کرتاہے اوریہ کہ اس کے سبب مشرقِ وسطیٰ میں بڑی جنگ کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ روس ایسی تمام کاروائیوں کی مذمت کرتاہے جس کے سبب خطے کی صورتحال مزیدکشیدگی کاشکارہوجائے۔
امریکی تھنک ٹینک سٹمسن سینٹرکی فیلوبار براسلاو ن کے مطابق2022ء میں روس کے یوکرین پرحملے اورروس پر امریکی پابندیوں کے بعددونوں ممالک کے تعلقات انتہائی بگڑچکے ہیں۔چین اورامریکاکے تعلقات میں موجودہ سرد مہری بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اورایسے میں چین کیوں مشرقِ وسطیٰ میں تنازع کے خاتمے کے لئے امریکاکے ساتھ تعاون کرے گا؟ لیکن اس کے جواب میں اینارتانجین کہتے ہیں کہ چین اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ امریکاکویاجوہری طاقت کے حامل اسرائیل کوڈکٹیٹ کرسکے۔چین نے ہمیشہ ہی جنگ بندی کامطالبہ کیاہے اورایسے مذاکرات کی حمایت کی ہے جس سے (اسرائیل اورفلسطین کے مسئلہ کا)دوریاستی حل ممکن ہوسکے۔خیال رہے دہائیوں سے یہی سمجھا جاتا رہاہے کہ اسرائیل کے پاس جوہری ہتھیارموجودہیں لیکن اس کی جانب سے کبھی اس بات کی تصدیق یاتردیدنہیں کی گئی لیکن چین کے بیان سے صاف ظاہرہے کہ ایٹمی قوت کوڈکٹیٹ کرناکس قدرمشکل ہوتاہے،کیاکبھی پاکستان کے مقتدرحلقوں نے اللہ کی عطاکردہ اس نعمت کے فوائدکے بارے میں سوچاہے؟
امریکا میں5نومبر2024ء کوصدارتی انتخابا ت ہورہاہے جس میں امریکی نائب صدرکملاہیرس اورٹرمپ کے درمیان کانٹے کامقابلہ متوقع ہے۔سٹمسن سینٹرسے منسلک باربرا سلاون کہتی ہیں کہ بائیڈن انتظامیہ اسرائیل حامی مؤقف رکھتی ہیں۔جوبائیڈن اسلحے کی فراہمی کو محددوکرکے اسرائیل پراصل دباؤڈالنے میں ہمیشہ ہچکچاہٹ کاشکاررہے ہیں۔اب جب امریکی الیکشن صرف چند ہی ہفتے دورہے تومیرانہیں خیال کہ بائیڈن یاکملاہیرس دونوں اسرائیل کے مخالف سخت فیصلوں کی تجویز کریں گے کیونکہ اس سے ٹرمپ کودوبارہ صدر بننے میں مددمل سکتی ہے۔جوبائیڈن کی طرف سے اسرائیل کی سلامتی کی مکمل ذمہ داری کابیان باربراکے بیان کی کھلی تائید بھی کرتاہے۔دوسری طرف اگرآپ کویادہو تو بطورصد ر ٹرمپ نے2017ء میں یروشلم کواسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرلیاتھاجس پرمتعدد ممالک نے تحفظات کااظہارکیاتھاتاہم باربراکہتی ہیں کہ اگرکملاہیرس جیت جاتی ہیں توکیاپتا ، غزہ اورلبنان میں جنگ بندی کے لئے امریکی دباؤبڑھتاہوانظرآئے لیکن اس سب کادارو مدارا س پر ہو گاکہ اسرائیل اورایران اس تنازع کے موجودہ مرحلے میں کہاں لکیرکھینچتے ہیں۔
ماضی قریب میں عالمی رہنماایران اورخطے میں اِس کے اتحادیوں بشمول حماس اورحزب اللہ پرزور دیتے رہے ہیں کہ وہ اسرائیل کے خلاف ایسے جوابی حملوں سے بازرہیں جوخطے میں مزیدکشیدگی کوبھڑکاسکتے ہیں۔ایران میں اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت کے بعد برطانیہ، فرانس اورجرمنی نے ایک مشترکہ بیان میں ایران پر زور دیاتھاکہ وہ اسرائیل کے خلاف کارروائی سے گریزکریں تاہم ایران نے اس درخواست کو ’’ضرورت سے بڑی درخواست‘‘ قرار دیاتھالیکن ان ممالک کی اسرائیل کوجدیدترین اسلحہ کی سپلائی اورمالی اعانت کے ساتھ منافقت کایہ عالم ہے کہ انہوں نے ایک مرتبہ بھی اپنی ناجائزاولاد اسرائیل کی درندگی کی مذمت نہیں کی جس کی وجہ سے عالمی امن کوشدیدخطرات لاحق ہوگئے ہیں۔
لبنان میں حسن نصراللہ کی ہلاکت کے بعد ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نصیر کنعانی نے اپنے بیان میں کہاتھاکہ ایران لبنان یاغزہ میں اپنی فورسز نہیں بھیجے گا۔ایران کی رضا کار فورسزکو بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ لبنان اورفلسطینی علاقوں میں موجود فائٹرز جارحیت کے خلاف اپنا دفاع کرنے کی صلاحیت اور طاقت رکھتے ہیں۔دوسری جانب امریکی حکام بھی تسلیم کرتے ہیں کہ جنگ بندی کے لئے امریکی کوششیں ابھی تک ناکافی ہیں۔امریکی محکمہ خارجہ کی برطانوی نمائندہ مارگریٹ میکلوئیڈ کے مطابق جب تک جنگ بندی نہیں ہو گی تب تک میں یہ نہیں کہوں گی کہ امریکی حکومت نے کافی کام کیاہے۔ہم سمجھتے ہیں وہ تنازع جواسرائیل اورحماس کے درمیان میں ہورہاہے وہ سفارتکاری سے حل ہوناچاہیے ۔ انہوں نے اسرائیل اورلبنان سے آنے والی خبروں کوتشویش ناک قراردیتے ہوئے کہا کہ ’’سات اکتوبرکے بعدامریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن مشرقِ وسطی کے گیارہ دورے کرچکے ہیں کیونکہ امریکاکی خواہش ہے کہ یہ معاملہ سفارتکاری سے حل ہو‘‘۔لیکن جنگ کے بڑھتے ہوئے شعلے جس تیزی کے ساتھ عالمی امن کوتباہ کرنے کے لئے آگے بڑھ رہے ہیں،یہودی نژادامریکی وزیرخارجہ انٹونی بلنکن کی گیارہ دوروں کاہی تونتیجہ ہے۔
یادرہے کہ ایران کی جانب سے اسرائیل پرحملے ایک ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جبکہ لبنان پرفضائی حملوں کے ساتھ ساتھ اسرائیل زمینی حملے کا آغازبھی کرچکاہے اوراس نے شام اوریمن پربھی فضائی حملوں کاآغازکردیاہے۔ایسے میں کیا خطے میں ایک نئی اوربڑی جنگ چھڑسکتی ہے اورکیاایران اوراسرائیل کے درمیان براہِ راست کھلی جنگ خطے کے دوسرے ممالک کوبھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے جن کاکردار بظاہر غیرجانب ہی نظرآرہا ہے جبکہ ایران نے برملاان ملکوں کواسرائیل کاحامی قراردیتے ہوئے خوفناک نتائج کی دھمکی بھی دی ہے؟

یہ بھی پڑھیں