Search
Close this search box.
پیر ,08 جون ,2026ء

بیت المقدس پکار رہا ہے !

سفید ریش ،ضعیف ،کمزور وناتواں بوڑھا چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا ’’اٹھو! بیت المقدس تمہیں پکار رہا ہے، غزہ کی مائیں بہنیں اور بیٹیاں تمہیں پکار رہی ہیں، لبنان تمہیں صدائیں دے رہا ہے! مرد پیر اسرائیل کے ظلم و جبر اور ننگی جارحیت کے خلاف نکالی گئی ریلی سے مخاطب تھے ، دفعتاپولیس نے پر امن ریلی پر فائرنگ کھول دی ،پل بھر میں کئی گولیاں بوڑھے بابے کے سر پر سے گزر گئی ںوہ نہ تو ڈرا،نہ ہی خوفزدہ ہوا۔ اس نے دکھ آمیز لہجے میں کہا’’ہم اپنے مظلوم فلسطینی مسلمانوں کےساتھ کئے جانے والے خونریز تشددکے خلاف اکٹھے ہوئے ہیں،چند روز قبل وزیراعظم پاکستان جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ایک جذباتی تقریر کر چکے ہیں، انہوں نے اس بین الاقوامی فورم پر اسرائیل کے وحشیانہ فعل پر ، اس کی درندگی اور بہیمیت کی ، واشگاف الفاظ میں تردید کی ، آجاسی وزیر اعظم کی پولیس اسرائیل کے خلاف احتجاج کرنے والے ہم نہتے لوگوں پر گولیاں برسارہی ہے ، ہم وزیراعظم کے اس منافقانہ رویئے کی مذمت کرتے ہیں،ہماری حکومت سے اسرائیل مردہ باد اور فلسطین زندہ بادکے نعرے برداشت نہیں ہوئے، اسرائیل نواز حکومت نے ہماری باپردہ احتجاجی خواتیں اور بچوں پر تشدد کیا ،لاٹھی ،گولی کی سرکار نے اپنا اصل چہرہ عیاں کردیا‘‘ ۔ امت مسلمہ کی واحد ایٹمی قوت کی یہ پالیسی در ندگی کا ساتھ دینے والے امریکہ کی خوشنودی کےلئے تھی ،آئی ایم ایف سے قرضہ کی منظوری کے شکریہ کے لئے تھی ،وہ قرضہ جس کا ایک کثیر حصہ حکمران ٹولے کے ارمان پورے کرنےوالوں پر لٹایا جائے گا،مقابل جماعتوں کے اراکین اسمبلی کی خریداری پرصرف کیا جائے گا ،آئینی عدالت کےکے ڈرامے کی تکمیل پر خرچ کیا جائے گا ،وکلاء تنظیموں کو رام کرنے کے راستے ہموار کرنے کے عزائم پورے کرنے کے لئے استعمال کیا جائے گا ،اسٹیبلشمنٹ کے اللوں تللوں کے حرص و آذ اور تمنائوں کو پورا کرنے کی راہ پر لٹایا جائے گا ۔ملک کی تعمیر و ترقی تو ہمارے حکمرانوں کا اصلی خواب ہی نہیں رہا ،ان کا کام قیدی نمبر 804 کے کےحق میں مظاہرہ کرنے والی صنف ناتواں کو حراست میں لیکر ان پر دستی بم پھوڑنے کے مقدمات تک محدود ہو کر رہ گیا وہ اعلی تعلیم یافتہ عمر رسیدہ خواتین جو جبر کے خلاف احتجاج کررہی تھیں ان کو چودہ دن کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیاگیا ہے ،وہ جج جس سے یہ احکامات جاری کروائے گئے وہ ا پنےآرڈرز پر مضحکہ خیز ہونے کا خوداعتراف فرما رہا تھا۔کتنے افسوس کی بات ہے مغرب کاتاریخ دان ہمارے بارے میں کیا لکھے گا،مغربی مستشرقین جو پہلےہی ہمارے دین کو آڑے ہاتھوں لیتے ہیں ،وہ لاالہ الا اللہ کے نام پر بننے والے پاکستان کے مذہب اسلام پرکتنے رقیق حملے کریں گے؟ مگر ان حکمرانوں کو کیا معلوم تاریخ کیا ہے،تاریخ لکھنے والوں کی ترش بیانی قوموں پر کیا اثرات مرتب کرتی ہے ،ان کے حالات و واقعات کو کس تلخ نوائی کی سان پر چڑھاتی ہے ۔پاکستان کے وجود میں آجانے کےبعد کسی حکمران نے اس مسئلے کوقابل توجہ بنایا ہی نہیں ،ہر ایک اپنے اپنے باد خواں و باد فروشوں کے شکم کی آگ بجھانے میں ہی لگا رہا،ہماری تاریخ کے یہ مردہ اسپ جدوجہد زندگی میں کمال دکھانے کے قابل ہی نہیں ،افسوس تو یہ بھی ہے کہ ایک عظیم وکیل جس نے مضمحل قوی و بیمار حالت دکھنے باوجود استعمار کے پنجہ استبداد سے یہ سر سبز و شاداب ملک چھین کر ہمیں دے دیا آج تک ان جیسا کوئی وکیل اور قانون دان بھی پیدا نہ ہوسکا جو جمہوریت اور شخصی آزادیوں کا مقدمہ ہی لڑ سکتا۔بدقسمتی ہماری یہ بھی رہی کہ ہمیں ڈھنگ کا کوئی حکمران بھی میسر نہ آیا بانیان پاکستان کے بعد ہم آمریتوں کی چکیوں میں پستے رہے ایک وڈیرے کے بیٹے نے ہمیں روٹی ،کپڑے اور مکان کا خواب دکھا یا، اس کی بیٹی اپنے کندھےپر ایک متوسط درجے کے زمیندار کے بیٹے کا ہاتھ لئے اقتدار میں آئی تو اس کے ٹین پرسنٹ کا الزام سر پر دھرے شہادت کی موت ماری گئیں، ایک لوہا کوٹنے والے کا لوہے کا تاجر بیٹا حکمران بنا تو سیاستدانوں کی خرید و فروخت کا بازار گرم رکھنے کے رواج کو فروغ دیا، پھر کھیل کے میدان کے شناور کو سیاست کی بساط پر سیاست، سیاست کھیلنے کا تجربہ کیا گیا، بے رحمی اور ملک دشمنی کا یہ کھیل چھہتر برس سے جاری ہے اور ابھی تک کوئی صورت نظر نہیں آتی کہ ملک کس منطقی نتیجے تک پہنچے گا۔ اسرائیل کا ایجنٹ تو قیدی نمبر 804 کو قرار دیا گیا اور اسرائیل کی جارحیت کے خلاف مذمتی ریلی نکالنے والوں پر تشدد مسلم لیگ ن کی حکومت کروا رہی ہے، بیت المقدس پکار رہا ہے آخر اسکا پاسبان کون بنے گا۔ واللہ اعلم

یہ بھی پڑھیں