یہی دن تھے، یہی مہینہ،یہی موسم اور یہی ڈی چوک،یہی سیاسی میلے ٹھیلے ،اسی طرح حکومت کے ایوان ماتم کدے بنے ہوئے تھے ، بس سال 2019ء کا تھا۔ پی ٹی آئی حکومت کا دوسرا سال تھا ۔ناتجربہ کار وزرا ءنئے نت نئے تجربات کرنے میں مصروف اور روز ایک نیا پنڈورا بکس کھول کر نابلوغیت کا برملا اظہار کر رہے تھے اس یقین کے ساتھ کہ ایک غیر مرئی ہاتھ ان کے سروں پر ہے انہیں کسی خطرے کا سامنا نہیں ،ناں ہی ان کی حکومتکسی ناگہانی حادثے کا شکار ہو سکتی ہے ۔ایک طرف یہ عالم تھا اور دوسری جانب مولانا کے ڈنڈا بردار دار جنونی کارکن چاروں اور دندناتے پھرتے تھے ،وہ بھی کسی خوف ،کسی ڈر میں مبتلا نہیں دکھائی دیتے تھے ۔مولانا نے بھی ببانگدہل یہ اعلان کر دیا تھا کہ “جلد ہی عوام کا ایک بحر بے کراں سمندر بپھرے طوفان کی صورتاسلام آباد میں اترے گا اور مقتدرہ کی بیساکھیوں پر کھڑی حکومت کو خس و خاشاک کی طرح بہا لےجائے گا۔دوسری طرف جیل کی سلاخوں کے پیچھے کھڑے میاں نواز شریف مکافات عمل کے سزاوار تھے ۔جبکہ چھوٹے میاں کمر کے درد سے صاحب فراش بستر پر پڑے کاکنوںکی کن سوئیاں لے رہے تھے ۔ادھر شہید ماں کا لڈلابیٹا،زرداری کالال بلاول مولانا سے بھی پہلے عوامی تحریک چلانے پر مصر تھا ۔ایک میڈیا یعنی اظہار رائے کے دروازے تھے جو رہ گئے تھے جنہیں پی ٹی آئی کی حکومت بند کرنے بارے ابھی چپ تھی مگر اتنی بھی نہیں کہ اسے بے لگام چھوڑ دیا جاتا ۔حکومت ایک تذبذب اور مخمصےمیں تھی کہ بھڑوں کے ان چھتوں کو چھیڑا جائے یا ابھی ماحول کا مزید جائزہ لیاجآئے کہ آگے آنے والے موسم کی طرح ٹھنڈا پڑجاتا ہے یااس سرگرمی میں اور شدت آتی ہےہاں بلوچستان کے سرد گرم سے آشنا اور ملک کے سیاسی حالات پرگہری نظر رکھنے والے حکومتی اتحادی سردار اختر مینگل کے تیوربھی تو بدلے بدلے لگ رہے تھے۔ حکومت کے ارادے بھی شانت محسوس نہیں ہورہے تھے ۔وہ عوامی رائے کے پیمانے کوناپ رہیتھی کہ عوام کیا چاہتے ہیں، جن سے تبدیلی کے نام پر ووٹ لیا گیا۔اسمیں کوئی شک نہیں اس کامیابیکے پیچھے کچھ مضبوط ہاتھ ضرور تھے اور وہ ہا تھ ابھی حکومت کو تنہا چھوڑنے کے حق میں نہیں تھے وہ تبدیلی کے خواب کے کچھ کچھ خود بھی خوگر تھے۔مگر لگتا تھا یہ بیل منڈھے چڑھنےوالی نہیں۔اور اب وہی مولانا ہیں اور ویسا ہیگرما گرم ماحول ،مگر فریق تبدیل ،کل کے دشمن آج کے دوست ،مگر مولانا میزان کے پلڑوں میں نہیں اپنے وزن پر کھڑے ،ہاں مگر یہ ضرور لگتا ہے اس بار انہوں نے جوبھی حاصل کی بھاری قیمت ہوگی بے مول وہ پہلے بھی کبھی نہیں رہے ۔ان کا بنیادی سیاسی فلسفہ خالی ہاتھ رہنے کا کبھی نہیں رہا۔سب بھی دیکھیں بظاہر وہ حکومت مخالف دھڑے کی سوچ کی طرف داری کرتے نظر آتے ہیں ،مگر ملاقاتیں وزیراعظم اور دیگرن لیگی رہنمائوں سے بھی جاری رکھے ہوئے ہیں ،اپنا کوئی پتہ بےوقت کھیلنا تو کیا شو کرنا بھی نہیں چاہتے ۔چھبیسویں آئینی ترمیم کا کامل مسودہ اب ان کےپاس ہے وہ اس سے ذہنی ہم آہنگی کی بار بار نفی فرما چکے ہیں مگرکچھ شرطوں پر اس پر تصدیقکی مہر بھی لگا سکتے ہیں ۔یہاںمجھے آج پھر مرحومہ پروین شاکر کا ایک کمال شعر یاد آرہا ہے کہاس شرط پہ کھیلوں گی پیا پیار کی بازی جیتوں تو تجھے پائوں ہاروں تو پیاتیریاب دیکھیں ،جوں جوں 25 اکتوبر قریب آتا جارہا ہے اندیشے بڑھتے جارہے ہیں ،مخمصے فروتر ہورہے ہیں سیاسی پنڈت کوئی واضح جسچرنہیں دے رہے ۔خود بھی تذبذب میںپوری قوم کو بھی تذبذب کی سان پر چڑھایا ہوا ہے ،حکومت تاحال ٹس سے مس نہیں ہورہی ،یاران نکتہ داں یہ کہتے ہیں کہ اوپر والےڈٹ جانے پر تلے ہوئے ہیں اور چیفجسٹس ایکسٹنشن لینے نہ لینے کےبیچ رکے ہوئے ہیں ۔حالات بہر حال 2019ء سے آگے بڑھ چکے ہیں۔ن م راشد نے کہا تھا”سال ہا سال سے بدلا نہیں سائے کامقام ”