یہ تو اچھا ہوا کہ پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت نے اتفاق رائے سے اپنی احتجاجی تحریک کو شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس تک موخر کر دیا یہ بانی پی ٹی آئی کا ایک صائب فیصلہ ہے جو مستقبل میں ان کی جماعت اور کارکنوں کے لئے بہتری کا باعث بنے گا ۔لیکن گزشتہ سے پیوستہ اظہاریئے میں جن خدشات کا اظہار کیا گیا تھا وہ تمام تر انتظام اور اہتمام کے ساتھ بین السطور رواں رکھے گئے اس طرح کہاجاسکتا ہے کہ ملکی وقار کے حوالے سے پی ٹی آئی کا کردار مثبت رہا اور مسلم ن اپنی شاطرانہ روایات سے باز نہ رہ سکی اس نے جہاں اپنے ایونٹ کی کامیابی کے لئے کوششیں کیں وہیں ریشہ دوانی کا عمل جاری رہا۔بتایایہ جارہا ہے کہ پی ٹی آئی آئی کے بارہ سے چودہ اراکین اسمبلی کو حکومتی واردات کے لئے آمادہ وتیارکر لیا گیا ہے جبکہ پی ٹی آئی کے ذرائع ابھی بھی مصر ہیں کہ خانیوال کے ظہور قریشی اور ساہیول یا اوکاڑہ کے عثمان کے علاوہ ایک اور رکن اسمبلی کو قائل کرلیا گیا ہے ان کے سوا کسی پیش رفت کے ثبوت بظاہر عیاں نہیں ہیں اور اگر مسلم لیگ ن کے بہیمانہ موقف کو تسلیم کر لیا جائے تو مولانا کے تحفظات کے بڑھ جانے کا امکان خارج از قیاس نہیں لگتاکہ ان کے مادی مفادات پر کاری ضرب پڑے گی اور انہیں دونوں جانب سے نقصان اٹھانا پڑجائے گااور یہ مولانا کے سیاسی فلسفے کے بالکل خلاف ہے ۔
بہر حال جیسا کہ قبل از وقت پیشین گوئی کردی گئی تھی کہ حکومت اپنے ایونٹ کے دوران درپردہ واردات کرنے کے سارے اسباب جمع کر لے گی ۔اب مولانا کی کتھا گت کا کیا بنے گاہڈی کے نگلنے کے لئے حکومت کو مولانا سے زیادہ قیمت چکانی پڑے گی اس لئے بازار میں منڈی لگا دی گئی ہے نرخ نامے بھی سنا ہے جاری کردیئے گئے ہیں اب ملک کی سب سے بڑی عدالت کے حقوق سلب کرنے کی کیا قیمت لگتی ہے یہ آنے والا وقت بتائے گا ۔
ماضی میں بھی لا منسٹر اس دلالی میں ملوث رہے بلکہ ن لیگ نے تو اپنے ایسی ایک دلال کو جو بریف کیس لئے صوبہ ،صوبہ گیا اور صلے کے طور پر اسے ملک کا صدر بنایا گیا اور آج بھی انہیں کے خاندان کے انعام یافتہ افراد یہ فریضہ سر انجام دے رہے ہیں اور ان کی پیشانی عرق انفعال سے بھی مبراہے کہ شاد کامی کے لئے علامات کے اظہار پر قابو پالینا بھی ایک ہنر ہے جو (ن) لیگ کے اہل ہنر ہی زیادہ جانتے ہیں وہ قلم کے مجاور ہی کیوں نہ ہوں۔ ن لیگ کے رہنما ڈاکٹر طارق فضل نے نجی ٹی وی کے اینکر کے روبرواعتراف کیا کہ آئینی ترمیم کو منظور کرانے کی سازش اور ایونٹ کی کامیابی کے لئے الگ الگ ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں اور دونوں ٹیمیں اپنے مشن میں کامیاب ٹھہرنے کے اعزاز سے سر فراز ہوں گی یوں ایک طرف پی ٹی آئی کانامساعد صورت حال پر قابو پانے کا وعدہ اور دوسری طرف ن لیگ کی بدعہدی ،دونوں کمال کامرانی کے زمرے میں آتے ہیں۔ویسے مولاناکے بدلے ہوئے تیور توکراچی روانگی سے پہلے ہی اشارے دے رہے تھے کہ اپنا وزن ترازو کے کس پلڑے میں ڈالیں گے اور زبان خلق بھی یہ گواہی دینے لگی تھی کہ مولانا جن کا ایک پائوں حکومتی عہدے داروں کے مے خانوں میں تھا دوسرا پائوں اپوزیشن کے میکدوں میں تو گویامولانا دونوں طرف کے مفادات سمیٹنے کے چکر میں تھے ،اب شائد حکومت کی ضرورت نہ ہونے کی صورت میں وہ پی ٹی آئی کی احتجاجی تحریک کے لئے ہراولدستہ بننے کو ترجیح دیں ۔
گو بعض حلقے ابھی بھی یہ ماننے پر تیار نہیں کہ آئینی ترمیم کا پہاڑ آسانی سے سر کر لیا جائے گا۔ ن لیگ حکومت نے جہاں شنگھائی تعاون تنظیم کی کامیابی کا سہرا اپنے سر سجایا ہے وہیں آخرکار اسے جمہوری قوتوں کے سامنے جلد یابدیر گھٹنے ٹیکنے ہی پڑیں گے ۔یہ نہیں کہ وہ سپریم کے آئینی حقوق کو لقمہ تر سمجھ کر آسانی کے ساتھ نگل لے گی ۔اظاریئے کے دامن میں وسعت ہوتی تو علی امین گنڈہ پور اور حماد اظہر کے جھگڑے کی روداد سنائی مگر اس مناقشے کو تھوڑا اور طول پکڑنے دیں سب خودبخود کھل جائے گا کہ تیز رو گنڈہ پور دھیمے مزاج کے حماد اظہر میں کس معاملے پر اختلاف تلخی کی صورت آشکار ہوا۔