شیکسپیئر نے کہاتھا ’’کسی سے ہمدردی کی توقع نہ کرو ، دوسروں کے لئے مت جیئو کیونکہ تمہاری ذات پہلے ہے، اپنی خوشی کو لوگوں یا چیزوں کے ساتھ مت جوڑو اپنے لئے ایک وطن بنائو تاکہ کسی کے بچھڑنے سے تمہیں پر دیس کا احساس نہ ہو، کیونکہ آسمان سے کوئی شخص نہیں آئے گا جو تمہاری تاریکی کوروشنی میں بدل سکے، خود اپنے لئے روشنی بنو،تم ہی ہو جو اپنی روح کو خوش کرسکتے ہو اور بکھرنے کے بعد اسے دوبارہ ترتیب دے سکتے ہو ،لہذا خود کے لئے سب کچھ بنو ‘‘۔ ویلیئم شیکسپیئر مغربی دنیا کا عظیم ترین مصنف اور ڈرامہ نگارتھا مگر اس نے اس اقتباس میں آدھا سچ بولا۔وہ پندرہویں اور سولہویں صدی کا اہم مصنف مانا جاتا ہے ۔مگر اس کا جینے کا فلسفہ بامعنی نہیں ہے، اس میں خود غرضی جھلکتی ہے وہ فرد کو اپنےلئے جینے کا درس دیتا ہے، وہ اپنی خوشی کو لوگوں یا چیزوں کے ساتھ جوڑنے کی بات نہیں کرتا اس کے برعکس اسلام پر جینے والوں کا فلسفہ ہی الگ ہے اس کی سب سے بڑی اور تاریخی مثال مواخات مدینہ ہے، جس پر آج بھی پوری انسانیت کی تاریخ حیران ہے۔ شیکسپیئر نے آسمان سے کسی شخص کے آنے سے انکار کیا ہے، بالکل ٹھیک آسمان سے جب بھی آیا پیغام آیا کو ئی شخص نہیں اتارا گیاکہ زمین پر جاکر لوگوں کی حالت زار کو اچھا کرو اور آسمان سے جتنے بھی پیغام آئے وہ انسانیت کی کامل بھلائی پر مشتمل تھے۔ مگر افسوس ان پیغامات کی ابدی روح کا ادراک کرنے میں مغرب نے ہمیشہ ٹھوکر کھا ئی تاہم مغرب ٹھوکر کھانے کے باوجود کامیاب ہےاور ہم تاحال ’’بھٹکے ہوئے آہو‘‘۔ آخر اس کی وجہ تسمیہ کیا ہے؟ ہم کیوں ایک ایسے بھنور میں میں گردش کر رہے ہیں کہ ہماری حالت سنبھلنے کو نہیں آرہی۔ لیکن ایک بات شیکسپیئر نے خوب کی ہے کہ ’’تم ہی ہو جو اپنی روح کو خوش کر سکتے یو اور بکھرنے کے بعد اسے دوبارہ ترتیب دے سکتے ہو۔‘‘ یقینا یہ آب زر سے لکھنے والی بات ہے اسی لئے شیکسپیئر نے اپنے وقت ہی کی نہیں بعد کی نسلوں کو متاثر کیا ہے اور اب تک کر رہا ہے۔ ہمارا مفکر ہو یا دانشور وہ اس بات کو کیوں نہیں سمجھتا؟ کیونکہ اس نے آسمان سے آنے والے پیغام کو طاق نسیاں پر رکھ دیا ہے اور اس کی تشریح کرنے والے شخص کی تعلیمات کے ساتھ اخلاص کا رشتہ قائم نہیں رکھ سکے۔ اسی لئے زندگی کے ہر موڑ پر آکر ہم راستہ بھول جاتے ہیں۔ پھر ہم ٹامک ٹوئیاں مارنی شروع کر دیتے ہیں۔ جیسے ہمارے جید و غیر جید سیاستدان آج کل کر رہے ہیں۔ ہمارے کسی طبقہ زندگی میں ایسے لوگ نہیں ملتے جو مسائل کی روح کو سمجھ سکیں۔ اس لئے ان کے خیالات و افکار بے معنی اور لایعنی حالت میں لوگوں کے سامنےعیاں ہوتے ہیں۔ ہمارا شاعر ہو یا، استاذ مفکر ہو یا دانشور یا سیاسی مدبر وہ اپنے شکم کے حصار سے نہیں نکل سکتا، وہ اپنےمفادات اور اپنی مراعات کو ترجیحی تصور کرتا ہے۔ یوں معاملات پے در پے بگڑتے چلے جاتے ہیں۔ ایک سیاستدان جو خود کو بہت بڑا سیاسی مدبر تصور کرتے ہیں اور رائے عامہ بھی ان کے بارےحسن زن رکھتی ہے انہیں کارزار افراط و تفریط میں فٹ بال کی طرح ادھر سے ادھر پھینکا جارہا، ان کی جماعت اس تفاخر سے پھولی نہیں سماتی کہ اس کا قائد آسمان سیاست کا ستارہ بنا ہوا ہے، کونسا درد ان کو لاحق ہے؟ دین کا، وطن کا یا اپنی دنیا کا، یہ سب پر عیاں ہے۔ بڑے چھوٹے سب صحافی تمسخر کے رن سجائے ہوئے ہیں مگر حضرت والا توسن تند رفتار کی طرح شہروں شہروں کے اسفار اور انجمن آرائی میں مصروف ہیں، انہیں جگ ہنسائی کی کوئی پروا نہیں، قوم کا غم انہیں کھائے جارہا ہے، شاید عالم برزخ میں شیکسپیئر ان کے بارے میں کوئی ایسا ڈرامہ لکھ رہا ہو جسکا میں تھیم یہی ہوگا کہ ’’تم ہی ہو جو اپنی روح کو خوش کرسکتے ہولہذا خود کے لئے سب کچھ بنو‘‘۔