غداری، غداری ایک مکروہ رویہ ہے جو مختلف تہذیبوں اور تاریخی ادوار میں موجود رہا ہے ۔یہ بنیادی طور پر جنگی حالات میں پایا جانےوالا ایک عمل ہوتا ہے مگر سماجی سیاسی حالات میں بھی اس کا نفوذ جاری رہتا ہے ۔غداری کے واقعات مختلف تہذیبی ادوار میں بھی پائے جاتے رہے ہیں تاہم یہ اس وقت عام طور پر بڑھ جاتے ہیں جب داخلی اقتدار کی کشمکش تیز ہوجائے۔اگر ہم غداری کے عمل کا تہذیبی طور پر جائزہ لیں تو مختلف ادوارمیں تہذیبوں کے اندر بھی اس بیماری کے اثرات ملتے ہیں، مثلاً روم کی تاریخ میں ہمیں ایسے واقعات مل جاتے ہیں کہ جب سلطنت روما کے زوال رونما ہونے شروع ہوئے تو رومی سلطنت کےمختلف حکمرانوں کو متعدد غداریوں کا سامنا کرنا پڑا اور اکثر و بیشتر حکمران اپنے قریبی درباریوں ،بااعتماد جرنیلوں اور سپاہ کی طرف سے ایسے شاخسانوں کا بہت نقصان اٹھانا پڑا۔جولیس سیزر کی غداری تاریخ روم کا اہم واقعہ ہے کہ اس کے انتہائی قریبی ساتھی بروٹس سمیت سینٹ کے متعدد ساتھیوں کو غداروں کی سازش کے نتیجےمیں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔اگر اسلامی خلافت میں جھانکا جائے تو عباسی خلافت کے قیام کےدوران غداریوں کے کئی واقعات ملتے ہیں۔
بنوامیہ اور بنو عباس کے درمیان ہونے والی اندرونی سازشوں کے پیچھے غداری ہی کے ایسے واقعات تھے جن کی وجہ سے بنو امیہ کا خاتمہ ہوا۔اسی طرح سلطنت مغلیہ بھی غداری کے واقعات کی سان پر چڑھی رہی ۔شاہ جہان کے بیٹے دارہ شکوہ اور اورنگ زیب کے درمیان جب جانشینی کا تنازعہ کھڑا ہوا تو دارہ شکوہ کی صفوں میں پائے جانے والے اس کے اپنے دوست نما دشمنوں نے غداری کی جس کی بنا پر دارہ شکوہ کو شکست کی ہزیمت سے دوچار ہونا پڑا۔مرہٹوں اور راجپوتوں کی غداری کے واقعات سے بھی مغلیہ تاریخ اٹی پڑی ہے ان اتحادیوں کی غداری ہی نے سلطنت مغلیہ کو کمزورو ناتواں کیا۔ اسی طرح یورپ پر نظر ڈالی جائے تو برطانیہ اور فرانس کی سلطنتوں کوکمزورکرنے کے پیچھے بھی غداریوں کےعوامل ہی کارفرما تھے جنہوں نے بھائیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ نبرد آزما کردیا ۔ چارلس اول کو اس کی افواج میں پائےجانےوالے غداروں ہی نے تختہ دار پر چڑھوایا۔سلطنت عثمانیہ کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو عثمانی شہزادوں کی آپس کی جانشینی کی مبازرتوں میں بھی غداروں کی سازشوں کا ہاتھ تھا ۔
اسی طرح قدیم چینی تاریخ بھی غداروں کی سازشوں سے خالی نہیں رہی جہاں مختلف شاہی خانوادوں کے درمیان غداروں کے پیدا کئےہوئے مناقشتوں کی وجہ سے اقتدار کی کشمکش عروج پر رہی ۔چینی تاریخ میں سب سے مشہور غداری کیوزونگ جیسے غداروں کی ہے جنہوں نے اقتدار کے ایوانوں میں ہمیشہ نقب زنی کی ۔اس لئے یہ کہنا بعید از قیاس نہیں کہ آج وطن پاک بھی غداروں کی آماجگاہ بنا ہوا ہے جنہیں زیر زمین چھپادیا گیا ہے نیچے تہہ خانوں میں حکمرانوں نے انہیں عیش و عشرت کے مکمل ساز و سامان کے ساتھ اپنی پناہ میں رکھا ہوا ہے اور عین چھبیسویں آئینی ترمیم کے وقت انہیں منصہء شہود پر لایا جائے گا۔یہ وہ غدار ہیں جو مراعات کی ہڈیاں چچوڑنے پر لگے ہوئے ہیں ۔حکمران انہی کے بل بوتے پر دعوے پر دعوی داغ رہے ہیں، لیکن اصل حرماں نصیب وہ ہیں جو حکمرانوں کی خواہش پر پورا نہ اترنے کی وجہ سے وحشت و بربریت اور بہیمیت کا شکار ہیں ۔ان کی بہو بیٹیوں ہی کو نہیں معصوم بچوں تک کو حراست میں رکھنے کا کریہہ عمل جاری و ساری ہے ۔آج اگر چند حرص بندےاپنی سیاسی جماعت سے غداری کے مرتکب نہ ہوتے تو حالات اس نہج تک نہ پہنچتے جہاں مقتدرہ بھی بے بس نظر آتی ہے یا پھر اس کی زیر نگرانی یہ سب کچھ کیا جارہا ہے، مگر عام شہری آج بھی مقتدرہ کے کردار پر انگلی اٹھانے سے معترض ہے کہ یہ آخری قوت ہے جس نے ہمیشہ ہماری نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کا دفاع کیا ہے ۔ جب بھی ہر طرف سے منحوس حالات عوام کو گھیر لیتے ہیں ،ان کے قوی اضمحلال کی انتہا کو پہنچ جاتے ہیں اسباب کے دروازے خود بخود کھل جاتے ہیں ۔ جب جمہوری آزادیوں کے سب دربند ہوجاتے ہیں تو پوریں کاٹنے والےجتنی پوریں کاٹیں قدرت اتنی انگلیاں اگانے کا بندوبست کردیتی ہے ۔گہرے سے گہرے اندھیرے میں بھی روشنی کی ایک کرن اگ آتی ہے اور وہی آخر کار اندھیرے کی دبیز چادر کو تار تار کردیتی ہے۔