Search
Close this search box.
پیر ,08 جون ,2026ء

ریاست کی رٹ اور مولانا کی قصیدہ خوانی

ریاست کی رٹ اس وقت دھری رہ جاتی ہے جب ریاست کے باسی اس پر سے التفات کی نظر ہٹا لیتے ہیں ،تب نفرتیں گلی گلی میں اُگ آتی ہیں ،ریاست کا کاروبار چلانے والوں کی عزت اوروقار کا ملیا میٹ ہوجاتا ہے ۔خودغرضی کا آسیب ہر دل ،ہر دماغ میں اپنی جگہ بنا لیتا ہے ۔تب بھائی بھائی کا دشمن بن جاتا ہے، آپس کی محبت بیگانگیت میں بدل جاتی ہے۔قانون کی توقیر نہیں رہتی آئین آبرو باختہ ہوجاتا ہے ۔حرص و ہوس کا دور دورہ ہوتا ہے،روپے پیسے کی حیثیت رشتوں پر فوقیت حاصل ہوجاتی ہے ،ضمیر مر جاتا ہے ،ریاست و حکومت بے آئین ہونے کا غم کافور ہوجا ہے ۔پیچھے کیا رہ جاتا ہے ؟ بے روح جسم ،لاقانونیت پر مشتمل معاشرہ جس میں دہشت گردی ،بہیمیت اوربربریت پلتی بڑھتی ہے اس پر مستزاد بے حسی اور کور نظری کہ کسی کو کچھ دکھائی نہیں دے رہا۔ریاست کی باگ ڈور ہو یا حکومت کا انتظام و انصرام سب کے بخییادھڑ گئے ہیں ۔
کسی نے نانا اور ماں کی سیاست کو دفن کرکے باپ کے ورثے کو گلے لگا لیا ،کسی کے پاس اپنے بڑے کے بیج تھے جن قیمت وصول کی ،کوئی اپنے معنوی باپ کی جاگیر سمجھ کر آئین کوکاغذکا ایک ٹکڑا گردانتے ہوئے اسے اپنے پائوں تلے روندنے کی روایت کو زندہ کر دکھایا۔ اپنے اپنے عزائم اوراپنے اپنے ارمان تھے سب نے پورے کئے اب پی ٹی آئی جانے کب تک مولانا کی باد فروشی کے قصیدے پڑھتی رہے گی ۔ان کا قلم کو مجاور جیت گیا جس نے کہا تھا ’’ایک پھونک سے سب کچھ اڑجائے گا ‘‘ یہ اسی جادو گر کا سحر ہی تو ہے جو مقتدرہ کے کئی بڑوں کا استاذ ہونے کا دعوی ٰکرتا اس نے تو کمال مہارت سے شیر کو درخت پر چڑھنا تک سکھادیا اور لاڈلے اور اس کے بٹھی میں پکے سب جنوں اور جنی کو ایک بار پھر زندوں میں شامل کردیا، جو اپنی حیات کے خاتمے پرخود تلے ہوئے تھے ۔مگر یہ یاد رکھیں کہ غبارے میں ہوا بھری گئی ہے ،کاغذ کے پھولوں پر خوشبو چھڑکی گئی ہے ۔
ایواناستبداد کی بنیادیں کچی اینٹوں سے چنی گئی ہیں ۔سیاسی مصلحتوں سے تعمیر کئے گئے خواہشات کے محل ہوا میں ایستادہکئے گئے ہیں ،باد سموم کا مقابلہ کب تک کر سکیں گے ،بادصرصر چلی تو سب کو اڑا کر لے جائے گی،کسی کو سنبھلنے کی فرصت بھی نہیں دے گی۔وہ جو باد سنج کی مثل ہوا کے دوش پر ہی محو پروازرہے وہ بھی باد سیر ہی تھے جنہیں آخر کو بے بسی کی خاک چاٹنے تکمحدود رکھا۔تاریخ تو بہر حال لکھی ہی جائے گی،راوی کتنی حکایتیں اور کتنی من گھڑت کہانیاں جمع کر سکے گا،یہ زمانہ قرطاس و قلم کا نہ سہی آرٹیفیشل ذہانت کا تو ہے ،جہاں ایک سوال کے پے در پے جواب ملجاتے ہیں ،یہی سب کچھ اب تاریخ کی ریڑھ کی ہڈی ہے ۔ شخصیتوں کے قافلے اس پل سراط پر سے بہر طور گزریں گے۔میں نے پیچھے پی ٹی آئی والوں کی طرف سے مولانا کی قصیدہ خوانی کا ذکر کیاجس کے بارے میں ایک بار مولانا اشرف علی تھانوی قدس اللہ سرہ نے اپنے ایک سرکاری افسر مرید کو سرزنش کرتے ہوئے فرمایا تھا ’’میں تمہیں ہر بار کسی نہ کسی لغزش یا کوتاہی پر ٹوکتا ہوں ،جو چیز مجھے روا نہیں لگتی اس سے متنبہ کرتا ہوں اور یہ تمام اس اخلاص کی بنا پر ہے جو میرے دل میں آپ کے لئے موجود ہے ،مگر آپ ہربار میری بے جا تعریف کرتے اور مجھے ماورائے بشر تصور کرتے ہیں ۔کیا یہ آپ کے نفس کی گمراہی نہیں اور میرے نفس نفس کو فریب دے کر گمراہ کرنے کی ناروا سعی نہیں اسی کا نام خوشامد ہے ۔‘‘
عزت نفس کے تاج محل کو خوشامدی تعفن کا ڈھیر بنادیتے ہیں اور کسی کے نفس کے فریب کے لئے اتنا کافی ہے کہ اس کی سچی یا جھوٹی تعریفوں کے پل باندھ دیئے جائیں ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ مولانا نے اپنے تئیں ہرحجت تمام کرنے کے اسباب تک پہنچنے کی پرخلوص کوشش کییہی ان کے آبا کا چھوڑا ہوا ورثہ تھا جس ہمیں ناز ہے ۔

یہ بھی پڑھیں