Search
Close this search box.
هفته ,13 جون ,2026ء

توبہ کی سواری

قادسیہ کا میدان جنگ ہے ایک آدمی شراب پی لیتا ہے۔ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ جو مسلمان فوج کے سپہ سالار ہیں ان کو خبر ہوتی ہے، فرمایا اس کو زنجیروں میں جکڑ دو، اور میدان جنگ سے واپس بلا لو، ایک کمانڈر نے کہا، سپہ سالار میدان جنگ ہے، غلطی ہو گئی اس سے، دلیر آدمی ہے بہادر آدمی ہے، چھوڑ دیجیے اللہ کی راہ میں جنگ کرے گا، یا کسی کو مارے گا یا مر جائے گا، اس کو زنجیروں میں جکڑنے کی ضرورت کیا ہے؟سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے جواب دیا، رسول پاک ﷺ کا صحابیؓ تلواروں اور بازئوں پر بھروسہ نہیں کرتا، اللہ کی رحمت پر بھروسہ کرتا ہے میں اس شرابی کو لڑنے کی اجازت نہیں دے سکتا، اس کی وجہ سے کہیں میرے رب کی رحمتیں منہ ہی نہ موڑ جائیں، جائو اسے زنجیریں پہنا دو۔سپہ سالار کے حکم پر اسے زنجیروں میں جکڑ دیتا جاتا ہے اور خیمے میں ڈال دیا جاتا ہے اب وہ مسلمان قیدی زنجیروں میں جکڑا اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہا ہے کہ میدان جنگ خوب گرم ہے بے بسی اور لاچارگی سے میدان جنگ کی جانب دیکھ کر تڑپ اٹھتا، ہائے کوئی میری زنجیروں کو کھول دو، میں نے اپنے رب سے اپنے گناہوں سے معافی مانگ لی ہے۔ ہائے مجھے کوئی کھولنے والا نہیں اور مسلسل آہ و بکا کرنے لگا ۔
سعد بن ابی وقاصؓ کی بیوی دوسرے خیمے کے اندر موجود ہیں، زنجیروں میں جکڑے قیدی نے دوسرے خیمے میں ان کی موجودگی کو محسوس کرتے ہوئے پکار کر کہا، اے سعد ؓ کی بیوی میری زنجیروں کو کھولنے میں میری مدد کریں۔۔مجھ سے مسلمانوں کا گرتا ہوا خون دیکھا نہیں جاتا۔ وہ بدستور پردے میں رہتے ہوئے کہتی ہیں، تم نے گناہ کیا اور سپہ سالار نے تمہیں زنجیروں میں جکڑنے کا حکم دیا ہے قیدی کہنے لگا، خدا کی قسم اگر زندہ رہا تو خود آکے زنجیریں پہن لوں گا خدارا مجھے رہا کر دیں، میں نے اپنے اللہ سے معافی مانگ لی ہے۔
ادھر مسلمانوں کے لشکر پر شکست کے آثار گہرے ہوتے جارہے تھے، کافروں نے ایک ایک صف پر حملے کیے، صفیں الٹنے لگیں، ابو محجن ثقفی رضی اللہ عنہ کی آہوں اور سسکیوں کو دیکھ کر سعد رضی اللہ عنہ کی زوجہ محترمہ کا دل بھر آیا،۔ انہوں نتائج کی پرواہ کیے بغیر اس کی زنجیروں کو کھول دیا، ابو محجن ثقفی ؒنے اپنی زرہ نہیں پہنی بکتر بند نہیں پہنا، کافروں کی ایک ایک صف پر ٹوٹ پڑے۔سعد رضی اللہ عنہ ان دنوں سخت بیمار تھے اور ایک بلند جگہ پر میدان جنگ کا نقشہ دیکھ رہے تھے، کیا دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں کی ہر ایک صف درہم برہم ہے، لیکن ایک تنہا آدمی آتا ہے کافروں کی صفوں کو الٹ کر رکھ دیتا ہے، اور وہ جس طرف بھی جاتا ہے بجلی بن کر گرتا ہے اور خیموں کو جلاتا ہوا چلا جاتا ہے، جس طرف مڑتا ہے، کافر کٹ کٹ گرتے چلے جاتے ہیں۔ سعد رضی اللہ عنہ ٹیلے پر بیٹھے ہوئے اپنا سر سجدے میں رکھ دیتے ہیں کہنے لگے، اے اللہ! اگر یہ فرشتہ نہیں ہے تو میں اپنی تلوار اس کی نذر کرتا ہوں۔، اس نے کافروں کی صفوں کو الٹ کر رکھ دیا، اسی مجاہد کی ہمت اور شجاعت کی بدولت اللہ پاک نے مومنوں کو فتح عطا فرما دی، مسلمان واپس ہوئے، کمانڈر نیچے اترے دیکھوں وہ جوان کون تھا؟ اب وہ صفوں میں نظر نہیں آرہا تھا، پوچھا وہ کون تھا جو اس بے جگری سے لڑ رہا تھا، ڈھونڈا، تلاش کیا وہ وہاں ہوتا تب نہیں، خیمے سے بیوی آواز دیتی ہیں۔اے سپہ سالار جس کو آپ ڈھونڈ رہے ہیں، اس نے اب زنجیریں پہن رکھی ہیں، سعد بن ابی وقاص ؓپلٹے کہنے لگے، بیوی کیا کہتی ہو؟ کہنے لگیں، صحیح کہتی ہوں، یہ ابو محجن ثقفی ؓہے جس نے شراب سے توبہ کی اور تلوار تھام کے میدان جنگ میں چلا گیا، اس نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ اگر زندہ لوٹا تو خود زنجیریں پہن لوں گا، اب یہ زنجیریں پہن چکا ہے۔
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اپنی چھڑی کو ٹیکتے ہوئے اٹھے، ساتھیوں نے سہارا دینا چاہا، کہنے لگے چھوڑ دو مجھے میں اس شخص کے پاس اپنے پیروں پر چل کر جانا چاہتا ہوں جس کی توبہ نے اللہ کی رحمت کو آسمانوں سے زمین پر نازل کر دیا، سبحان اللہ اللہ کبیرا!توبہ و استغفار میں دیر مت کریں، کیا خبر ہم میں سے کسی ایک کی توبہ اللہ رب العالمین کی آسمانوں پر موجود رحمت کو زمین پر لے آئے، آج اگر وطن عزیز پاکستان کی فضائیں انسانی گناہوں سے اٹی محسوس ہوتی ہیں تو اس کی بنیادی وجہ ہی انسانوں کا توبہ واستغفار سے دور ہونا ہے،انسان گناہ درگناہ کرتا چلا جاتا ہے اور پھر یہ سوچ کر توبہ سے دور رہتا ہے کہ ابھی تو بڑی زندگی پڑی ہے،لیکن پھر اچانک سے موت کو فرشتہ اسے آن دبوچتا ہے، بچپن میں شیخ سعدیؒ اپنے والد کی انگلی پکڑے ہوئے کسی میلے میں جا رہے تھے، راستے میں کسی جگہ بندر کا کھیل دیکھنے میں ایسے مگن ہوئے کہ والد کی انگلی چھوٹ گئی۔ والد اپنے دوستوں کے ساتھ آگے نکل گئے اور سعدی تماشا دیکھتے رہے، کھیل ختم ہوا تو والد کو سامنے نہ پاکر بے اختیار رونے لگے۔ آخر اللہ اللہ کر کے والد بھی انہیں ڈھونڈتے ہوئے ادھر ہی آن نکلے۔ انہوں نے سعدی کو روتا دیکھ کر ان کے سر پر ہلکا سا چپت مارا اور کہا: ’’نادان بچے!وہ بے وقوف جو بزرگوں کا دامن چھوڑ دیتے ہیں اسی طرح روتے ہیں۔‘‘ شیخ سعدیؒ کہتے ہیں کہ میں نے سوچا تو دنیا کو ایسا ہی پایا۔
ایک میلے کی طرح آدمی اس میلے میں مجھ جیسے نادان بچوں کی طرح ان بزرگوں کا ساتھ چھوڑ دیتا ہے جو اچھے اخلاق سکھاتے اور دین کی باتیں بتاتے ہیں۔ تب اچانک اسے دھیان آتا ہے کہ زندگی غفلت میں گزر گئی پھر روتا اور پچھتاتا ہے۔ آج مسلمانوں میں اختلافات و آپسی نفرتیں، اور صحیح اور غلط میں تفریق نہ کر پانے کی سب سے بڑی وجہ علماء دین سے دوری ہے، امت میں یکجہتی اور اختلافات کے خاتمے کیلئے صحیح سمجھ بوجھ ہونا بے حد ضروری ہے، اور اسکے لئے علما سے جڑے رہنا اور ان کی صحبت سے مستفید ہونے میں ہی ہماری اور پوری امت کی بھلائی کا راز پنہاں ہے۔توبہ کی سواری بہت عجیب اور معتبر سواری ہے۔ ایک لمحے میں گناہوں سے لتھڑے انسان کو پاک کر کے فرش سے عرش تک پہنچا دیتی ہے، اللہ پاک ہمیں بھی سچی توبہ کرنے کی توفیق عطاء فرمائے ،آمین، ایسی مصروفیات سے کیا حاصل، جس میں بندے کو اپنی آخرت سے متعلق فکرمند رہنے کا بھی وقت میسر نہ ہو۔

یہ بھی پڑھیں