Search
Close this search box.
هفته ,20 جون ,2026ء

قادیانیوں کے پھیلائے دو مغالطوں کا جائزہ

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ قادیانی ہر دور میں مغالطوں سے کام لیتے آئے ہیں، مغالطہ دینا ان کا خاص فن ہے۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت میں نبوت کے جھوٹے دعویداروں کی پیشگوئی فرمائی تھی کہ میری امت میں تیس اور ایک روایت کے مطابق ستر لوگ ایسے پیدا ہوں گے جو نبوت کا دعویٰ کریں گے۔ اور ساتھ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان جھوٹے مدعیانِ نبوت کے دو وصف بیان کیے ’’دجالون کذابون‘‘ کہ وہ دجل اور فریب سے کام لیں گے۔ جناب رسالت مآبؐ نے یہ بات آج سے چودہ سو سال پہلے فرما دی تھی۔ اس لیے میں عرض کیا کرتا ہوں کہ جھوٹی نبوت کا کاروبار چلتا ہی اس طرح ہے کہ اس کا ایک پہیہ دجل ہوتا ہے اور دوسرا پہیہ جھوٹ ہوتا ہے۔ قادیانی شروع سے ہی مغالطوں سے اپنا کام چلاتے آ رہے ہیں اور آج بھی دو مغالطے عام طور پر دنیا بھر میں اور پاکستان میں دیے جا رہے ہیں۔
(۱) ایک مغالطہ قادیانی حضرات یہ دیتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا جو دعویٰ کیا تھا وہ مستقل نبی ہونے کا نہیں تھا بلکہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں امتی اور تابعدار نبی ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے باغی ہو کر ان کے مقابلے میں نبوت کا دعویٰ نہیں کیا بلکہ تابعداری میں حضورؐ کے امتی کی حیثیت سے نبوت کی بات کی ہے، اس لیے کوئی خطرے کی بات نہیں ہے۔
یہ بات عام طور پر کہی جاتی ہے اور لوگ بیچارے مغالطے کے شکار ہو جاتے ہیں۔ میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ اسی طرح کے امتی اور تابع نبی ہونے کا دعویٰ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں مسیلمہ کذاب نے بھی کیا تھا۔ مسیلمہ نے جناب نبی کریمؐ کی زندگی میں نبوت کا دعویٰ کیا تھا اور حضورؐ کے مقابلے پر نہیں آپؐ کی تابعداری میں امتی نبی ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ میں کچھ باتیں اس پر دلیل کے طور پر عرض کروں گا۔
اس کی سب سے پہلی دلیل یہ ہے کہ مسیلمہ کذاب جب لوگوں سے اپنی نبوت کی بات کرتا تھا تو پہلے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا اقرار کرواتا تھا اور بعد میں اپنی نبوت کا اقرار کرواتا تھا۔ روایات میں مذکور ہے کہ اس کے کلمہ میں پہلے ’’محمد رسول اللہ‘‘ تھا، اس کے بعد ’’مسیلمۃ رسول اللہ‘‘ تھا (نعوذ باللہ)۔ احادیث کے ذخیرے میں یہ روایت موجود ہے کہ اس کی اذان بھی اسی ترتیب سے تھی کہ اس میں پہلے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا اقرار ہوتا تھا، اس کے بعد اس کی اپنی رسالت کی بات ہوتی تھی۔
اور مسیلمہ کذاب نے جناب نبی کریمؐ کو جو خط لکھا تھا، اس کا عنوان بھی یہ تھا ’’من مسیلمۃ رسول اللہ الیٰ محمد رسول اللہ‘‘۔ بخاری شریف میں مسیلمہ کذاب کا وہ خط موجود ہے، اس نے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر کے اپنے خط میں یہ کہا تھا ’’انی اشرکت معک فی الامر‘‘ کہ مجھے آپ کے ساتھ نبوت کے کام میں شریک کیا گیا ہے۔ یعنی میں مستقل نبی نہیں ہوں بلکہ آپ کا شریک نبی ہوں۔ ’’ولکن قریشا قوما یعتدون‘‘ لیکن قریشی بڑے ضدی لوگ ہیں، دوسرے کا حق تسلیم نہیں کیا کرتے، اپنی اجارہ داری قائم رکھتے ہیں، لیکن میں آپ کے ساتھ نبوت کے کام میں شریک ہوں، آپ کا مقابل نہیں ہوں۔
مسیلمہ کذاب کی کی پیشکش بھی یہی تھی۔ وہ ایک موقع پر جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینہ منورہ میں خود بھی آیا تھا، ون ٹو ون ملاقات ہوئی، مکالمہ ہوا اور جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی باتوں کا جواب دیا۔ اس کی پیشکش یہ تھی کہ ایسا کریں کہ دو باتوں میں سے ایک بات طے کر دیں: (۱) اپنے بعد مجھے اپنا جانشین نامزد کر دیں۔ یہ لکھ دیں کہ جب تک آپؐ حیات ہیں آپؐ نبی ہیں، آپ دنیا سے چلے جائیں گے تو میں آپ کا جانشین ہوں گا، تو مجھے کوئی اشکال نہیں ہے۔ (۲) اور اگر یہ بات منظور نہیں ہے تو تقسیم کر دیں ’’لنا وبر ولک مدر‘‘ پکی اینٹیں آپ کی، کچی اینٹیں میری۔ یعنی شہروں کے نبی آپ اور دیہات کا نبی میں۔ الغرض پیشکش اس کی یہی تھی کہ میں آپ کو مانتا ہوں اور آپ کا جانشین بننا چاہتا ہوں، آپ کے ساتھ کار نبوت میں شریک ہونا چاہتا ہوں۔
حتیٰ کہ ختم نبوت کے پہلے شہید حضرت حبیب بن زید انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ، جن کو مسیلمہ نے قتل کیا، ان سے جب اقرار کروایا تو اس کی ترتیب بھی یہی تھی۔ حضرت حبیب بن زیدؓ کو مسیلمہ کے سامنے ایک مجرم کے طور پر پیش کیا گیا تو مسیلمہ نے پوچھا ’’اتشھد ان محمدا رسول اللہ؟‘‘ کیا تم گواہی دیتے ہو کہ حضرت محمد اللہ کے رسول ہیں؟ انہوں نے فرمایا ’’اشھد ان محمدًا رسول اللّٰہ‘‘۔ ہاں میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمدؐ اللہ کے رسول ہیں۔ اس کے بعد مسیلمہ نے پوچھا ’’اتشھد انی رسول اللّٰہ؟‘‘ میرے بارے میں بھی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ تو اس صحابی رسولؐ نے بڑا عجیب جواب دیا۔ سادہ سا سوال تھا تو سادہ سا جواب بھی ہو سکتا تھا۔
سوال یہ تھا کہ کیا مجھے بھی اللہ کا رسول مانتے ہو؟ تو سادہ سا جواب یہ تھا کہ نہیں مانتا۔ لیکن اتنے سے جواب سے اس نوجوان صحابی کے جذبات کی تسکین نہیں ہو رہی تھی، اس لیے حضرت حبیب بن زید رضی اللہ عنہ نے یہ جواب نہیں دیا، بلکہ جواب میں فرمایا ’’ان فی اذنی صمما عن سماع ما تقول’’۔ محاورے کا ترجمہ یہ ہے کہ میرے کان یہ بات سننے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں کہ جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول ماننے کے بعد کسی اور کی رسالت کی بات بھی ہو سکتی ہے۔ اس پر حضرت حبیب بن زید رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا۔
یہ سارے شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مسیلمہ کذاب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں مستقل نبوت و رسالت کا دعویٰ نہیں کیا تھا بلکہ آپؐ کو رسول اللہ تسلیم کرتے ہوئے آپؐ کی پیروی میں خود کو شریک اور معاون نبی کے طور پر پیش کیا تھا۔ اور مسیلمہ کا دعویٰ یہی تھا کہ وہ حضور نبی کریمؐ کا تابعدار، امتی، جانشین، ماتحت اور شریک نبی ہے۔ مسیلمہ کا دعویٰ بھی یہی تھا اور مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ بھی یہی تھا۔(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں