کشمیری اکتوبر کو کیسے بھول سکتے ہیں ، کشمیر اور کشمیریوں سے محبت کرنے والے پاکستانی بھی ۔کامل 77برس قبل 27 اکتوبر 1947ءکو بھارتی حکومت نے اپنی فوجیں کشمیر کی سرزمین پر اتاریں، اس روز سے لمحہ موجود تک ہر دن کشمیریوں کے لئے ’’یوم سیاہ‘‘ ہےاور ہر رات ’’شب تاریک‘‘ ،لیکن کشمیریوں نے ایک لمحے کو بھی اس غلامی کو قبول نہیں کیا۔ ایک جانب بھارتی جبرنت نیا روپ دھارتاہےتو دوسری جانب کشمیریوں کے سینوں کی دہکتی آتش حریت،جسےظلم وجورکا کوئی ہتھکنڈہ سردنہیں کرسکا ، چانکیہ کی ساری چالبازیاں اورسارے اصول ناکام ٹھہرے ، چند کالی بھیڑوں کی بات اور ہے وہ ہر جگہ دستیاب ہو جاتی ہیں ، بحیثیت مجموعی کشمیریوں نے بھارت کی ہر سازش اور ہر چال کو اسی کے میدان میں ناکام بنایا ، وہ الیکشن کے راستے دھوکہ دینے کی کوشش کرے یا حقوق سلب کرکے بلیک میلنگ کا ہتھیاراستعمال کرے ، پیلٹ گن کا ظلم روا رکھے یا بے گناہوں کے قتل عام کا راستہ اختیار کرے کشمیری پاکستان سے رشتہ کیا ، لاالہ اللہ کا نعرہ لگاتےہوئے، مکمل آزادی کی اپنی جدوجہد پرقائم ہیں۔ تین نسلیں قربان ہوچکی ہیں ، آبادیاں سکڑ رہی ہیں اور قبرستان وسعت پذیرہیں ۔ بھارت کاجبر اورآزادی کی جدوجہد اب کشمیریوں کی ثقافت کاحصہ بن گئی ہے بلکہ خون کارنگ اختیار کرگئی ہے، سیاسی جلسہ وجلوس رہاایک طرف شادی بیاہ کےگیت ہوں، موسم کی رنگینی کاذکر یہاں تک کہ جنازوں پر غم کا اظہار شہداء کے تذکرے اور جدوجہد کی داستانوں کے بغیر ممکن نہیں رہا۔جب کوئی جدوجہد کسی قوم کے گیتوں اور محاوروں میں ڈھل جائے تو اس کی راہ روکنا ممکن نہیں رہتا ۔ثقافت کے رنگوں، موسم کی شوخیوں اور شہیدوں کے تذاکرات کا امتزاج ، کس طرح سے قلب وجگر کو گرماتا اور روحوں کو تڑپاتا ہے،اسےکشمیر کے ایک صاحب قلم وقرطاس صغیر قمر کی تحریروں میں دیکھا جاسکتا ہے،صغیر قمر پرانے لکھنے والے ہیں،ان کا ایک ایک لفظ براہ راست دل پر دستک ہے۔ ’’جو تاریک راہوں میں مارے گئے‘‘ کے عنوان سے ان کی ایک دل گداز تحریر قارئین کے ذوق مطالعہ کی نذر۔
’’اکتوبر آیا تو بہت کچھ یاد آگیا۔
یہ مہینہ کشمیر میں جاڑے کا پیغام لےکر آتا ہے ۔
اس موسم میں پیرپنجال کے دامن میں پھیلی وسیع پہاڑی ڈھلانوں اور سرسبز و شاداب میدانوں سے بکروال گرم میدانوں کی طرف اُترنے لگتے ہیں ۔ ایک زمانے سے کشمیر کے لوگ اپنی روایات پر قدم قدم چل رہے ہیں ۔ گرمیوں کا موسم شروع ہوتے ہی ان کے مویشی اور بھیڑ بکریوں کے ریوڑ بھی بلندیوں کی جانب چلنے کے لیے بےتاب ہوجاتے ہیں ۔ ہزاروں خانہ بدوش بکروال خاندان بلند پہاڑی سلسلوں کی طرف چلےجاتے ہیں جہاں فطرت اُنہیں اور وہ فطرت کے حسن کو بہت قریب سے دیکھتے ہیں ۔ فطرت سے محبت ان کی میراث ہے ۔ ان جنگلوں ، ڈھلانوں ، برفانی پانیوں ، آبشاروں اور سبزہ زاروں کے ساتھ وہ صدیوں سے مانوس ہیں۔ یہ دلکشیاں ان کے دلوں کو لبریز کر دیتی ہیں ۔ وہ دلوں میں زیادہ خواہشیں نہیں پالتے ۔دودھ ، دہی ، لسی ، مکھن اور مکئی کی روٹی کے سوا کسی نعمت کی اُنہیں آرزو نہیں ہوتی۔ جن دل فریب پہاڑی چراگاہوں کو وہ آباد کرتے ہیں ، ﷲ نے ان کو شادابیوں سے مالامال اور اپنی نعمتوں سے بھردیا ہے۔ ہوا کے بجروں پر تیرنے والےبادل ، دھند میں چھپی ہوئی برفانی چوٹیاں ، تاحد نگاہ پھیلے ہوئے سرسبز میدان ، خوابوں کے دیس جیسی ڈھلوانی چراگاہیں ، اخروٹ کے بلند وبالا درخت اور ان کے نیچے بےشمار رنگوں والے ان گنت پھول اور رنگ برنگ تتلیاں ، کشمیر کو جنت نظیر کہا جاتا ہے تو اس بہشت کے رنگ ان ہی نظاروں سے مکمل ہوتے ہیں۔
قدرت نے حسن بےپناہ اور ان گنت نعمتوں کے ساتھ ساتھ اب ان خوب صورت پہاڑوں کو شہیدوں کے مدفن بنا کر ان کے باسیوں کے لیےاوربھی قیمتی بنا دیا ہے ۔ بہاروں کے حسن کو لہو سے سینچنے والوں نےکوہ و دمن کو لازوال کر ڈالا ہے۔
پہاڑوں پر رہنے والے لوگ برف باری سے قبل میدانوں کی طرف اُترنے لگتے ہیں تو گرمی کے زمانے میں بچھڑ جانے والے اپنے پیاروں کو یاد کرتے اور مائیں ، بہنیں اور بیویاں اپنی آنکھوں کا پانی اوڑھنیوں سے خشک کرتی جاتی ہیں اور زیرلب گنگناتی جاتی ہیں۔
اوچیاں نکیاں پے گئیاں برفاں ٹر گئے لوک کرھاں نوں
ربا او پیارے کد ملن گے لے گئی موت جنہاں نوں
(اونچے ، بلند پہاڑوں پر برف پڑ چکی اور لوگ اپنے اپنے گھروں کو واپس جا رہے ہیں۔ خدایا ! اب وہ پیارے پیارے لوگ کب ملیں گے جن کو موت اٹھا کر لے گئی ہے)
اب کے اکتوبر آیا ہے تو کلیجوں میں اُٹھنے والے درد کی ٹیسیں کچھ اور بڑھ گئی ہیں ۔ نگری نگری کہرام ہے ۔ پیرپنجال سے لے کر کپواڑہ تک ہزاروں جری جوانوں کو ان پہاڑی ڈھلانوں میں دفنا دیا گیا ہے ۔وہ لاپتہ نوجوان جن کی گمنام قبریں انسانیت کا دل چیر رہی ہیں برسوں سے جن کی کسی کو خبر تک نہیں ۔ بہت سی قبروں پر سبزہ اگ آیا ہے اور بہت سی ایسی بھی ہیں جو ننھے منے پھولوں سے جگمگا رہی ہیں ۔اب جاڑے کی راتوں میں برف کے سفید پھول آسمانوں سے اتریں گے تو ان کے پاس ان قبروں میں ابد تک سونے والوں کے لیےجاودانی آسودگی کا پیغام ہوگا اور ان سے بہت دور کانٹوں کے بچھونوں پر لیٹی ہوئی ان کی ماؤں ،بہنوں اور سہاگنوں کے دلوں میں ایک ہوک سی اٹھے گی اور وہ درد سے بےکل ہو کر گنگنائیں گی۔
ربا! او پیارے کد ملن گے لے گئی موت جنہاں نوں