Search
Close this search box.
هفته ,13 جون ,2026ء

ڈاکٹر ذاکر نائیک مٹھی بھر گروہ کے نشانے پر

جہاں ایک طرف ڈاکٹر ذاکر نائیک کو جئید علما ء کرام اور پاکستانی عوام کی جانب سے بے حد پیار مل رہاہے،وہاں دوسری طرف لفافہ دانش فروشوں ، ادکاروں اور بھانڈ میراثیوں کے ایک مٹھی بھر گروہ نے انہیں اپنے نشانے پر لے رکھا ہے،اس مٹھی بھر گروہ کا ایک ’’جہازیا‘‘ اینکر ڈاکٹر ذاکر نائیک سے پاکستان سے نکل جانے کے مطالبے ایسے کر رہا ہے،جیسے پاکستان اس کے باپ کی ذاتی جاگیر ہو، اس گروہ کے ایک دوسرے اینکر کو ٹی وی چینلز پر بے حجاب اور بے پردہ، میک اپ کے اسلحے سے لیس ہوکر خبریں پڑھنے والی لڑکیوں کے حوالے سے ان کا جواب اچھا نہیں لگا،تو موصوف نے ان کے خلاف سیاپا ڈالنا شروع کر دیا ،اسلام آباد میں قائم یتامی کے ایک ادارے سویٹ ہوم میں بالغ بچیوں کو نہ چھونا یا انہیں شیلڈ عطا کئے بغیر نکل جانا اتنا بڑا جرم بن گیا کہ الامان و الحفیظ ، ملین ڈالر کا سوال ،ڈاکٹر ذاکر نائیک کے خلاف گزگز بھر لمبی زبانیں نکالنے والے اینکر زاور لکھاریوں کی اپنی اوقات کیا ہے؟ انہیں دین اسلام کے کس شعبے یا چپٹر پر عبور ہے؟
دانش فروشوں کے مٹھی بھر گروہ کے یہ خرکار، قرآن وحدیث اور دینی مسائل و معاملات کو ڈاکٹر ذاکر نائیک سے زیادہ جانتے ہیں؟ آخر یہ اینکر ،اینکرنیاں اور لکھاری بھی تو بیس،بیس،تیس،تیس سالوں سے میڈیا انڈسٹری سے وابستہ ہیں، یہ کئی دہائیوں سے ٹاک شوز بھی کر رہے ہیں،اور اخبارات میں کالم بھی لکھ رہے ہیں،ان کے ٹاک شوز ،کالموں ،تجزیوں،کی وجہ سے پاکستان میں کتنے لوگوں کی اصلاح ہوئی ؟ کتنے غیر مسلم مسلمان ہوئے ؟ کتنے شرابیوں ،زانیوں نے شراب اور زنا سے توبہ کی؟اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کتنے نافرمانوں نے توبہ کی؟مٹھی بھر گروہ کے اینکرز ،اینکرنیوں اور لکھاریوں کے ٹی وی اور یو ٹیوب پروگراموں اور اخباری کالموں کی وجہ سے کرپشن، چوربازاری،بے حیائی عریانی اور فحاشی میں کتنی کمی واقع ہوئی ؟اس خاکسار نے جو سوالات اٹھائے ہیں،اگر ان کا جواب زیرو،زیرو،زیرو میں آرہا ہے،تو پھر ڈاکٹر ذاکر نائیک تو وہ ہیں کہ جنہیں صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے علما ،صلحا اور مسلمان ماہر تقابل ادیان مانتے ہیں،ڈاکٹر ذاکر نائیک کی وجہ سے 11لاکھ سے زائد غیر مسلموں نے اسلام قبول کیا۔۔۔ڈاکٹر ذاکر نائیک لا کھوں بگڑے ہوئے مسلمانوں کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی میں لانے کا سبب بنے،اس لئے ان اینکر، اینکرنیوں، کالم نگاروں، تجزیہ نگاروں سے گزارش ہے کہ دوسروں کے گریبانوں سے کھیلنے ، دوسروں پر دھول، مٹی ڈالنے ، اور تنقید کے تیر برسانے اور پاکستان کے معزز مہمان ڈاکٹر ذاکر نائیک کی اصلاح کی بجائے، اپنی اصلاح کی فکر کریں، اپنے بارے میں بھی کچھ سوچیں، کیوں کہ قبر کے اندر ہر کسی کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہوتا ہے، یہ جانتے بوجھتے بھی کالم نگاروں، اینکرز، اور اینکرنیوں کی… اکثریت، اللہ اور اس کے رسولﷺ کے راستے کی طرف بلانے کی بجائے دین اسلام کی دعوت دینے کی بجائے، کمیونزم، کیپٹلزم، سوشلزم،الحاد پرستی یا مغربی جمہوریت کی طرف بلاتے نہیں تھکتی,کالم نگار، اینکرز اور اینکرنیاں اپنی طرف سے گھڑ، گھڑ کر نئے سے نیا سوال اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں،لیکن77برسوں سے پاکستانی سرزمین کو نظام اسلام کے نفاذ کی برکتوں سے زبردستی محروم کیوں رکھا جارہا ہے؟
یہ جینوئن سوال اٹھانے کی کوشش کوئی بھی نہیں کرتا، میڈیا نے کسی کو گندہ کرنا ہو، کسی ’’برانی‘‘کو ’’اچھائی‘‘قرار دلوانا ہو، تو پوری پوری کیمپئن، لانچ کی جاتی ہے، لیکن پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ کے حق میں کیمپئن چلانا تو درکنار میڈیا خبر دینے کے لئے بھی تیار نہیں ہوتا،میڈیا میں بھی ہر کسی نے اپنا اپنا ہیرو بنا رکھا ہے، کوئی فوج پر تنقید کرنے والے کو ٹارزن سمجھتا ہے، کوئی دین اسلام کے احکامات کو مسترد کرنے والے کو ہیرو سمجھتا ہے، کوئی جمہوریت کا ’’ماما‘‘بننے کو اعزاز سمجھتا ہے، کوئی سیاست دانوں کے دم چھلہ بننے والے کو ہیرو سمجھتا ہے، غرض جتنے منہ اتنی ہی باتیں، جتنے ’’صحافی‘‘اتنے ہی ’’سینئر‘‘ہر کوئی ’’سینئر‘‘کسی کو ’’جونیئر‘‘صحافی، جونیئر کالم نگار کہہ دیا جائے تو وہ کاٹ کھانے کو دوڑتا ہے، ڈھیروں ’’سینئرز‘‘لکھاریوں کی خدمت میں حضرت جنید بغدادیؒ کی وفات کا واقعہ پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں، ابومحمد حریری کہتے ہیں کہ حضرت جنید بغدادیؒ (متوفی 298ھ )کی وفات کے وقت میں ان کے پاس موجود تھا، یہ جمعہ کا دن تھا اور وہ قرآن کریم کی تلاوت کر رہے تھے، میں نے کہا ’’ابوالقاسم‘‘کچھ اپنی جان کے ساتھ نرمی کا معاملہ کیجئے، حضرت جنید بغدادی ؒنے فرمایا ’’ابومحمد!کیا اس وقت آپ کو کوئی ایسا شخص نظر آتا ہے جو اس عبادت کا مجھ سے زیادہ ضرورت مند ہو، وہ دیکھو میرا نامہ اعمال لپیٹا جارہا ہے۔‘‘
وفات کے وقت حضرت جنید بغدادی ؒنے وصیت فرمائی کہ میری طرف جتنی علم کی باتیں منسوب ہیں اور لوگوں نے انہیں لکھ لیا ہے وہ سب دفن کر دی جائیں، لوگوں نے اس کی وجہ پوچھی تو جواب دیا کہ ’’جب لوگوں کے پاس آنحضرت ﷺ کا علم (حدیث)موجود ہے تومیری خواہش یہ ہے کہ اللہ سے میری ملاقات ،اس حالت میں ہو کہ میں نے اپنی طرف منسوب کوئی چیز نہ چھوڑی ہو، وفات کے بعد حضرت جعفر خلدی نے اپنے خواب میں دیکھا اور پوچھا ! ’’اللہ نے آپ کے ساتھ کیسا معاملہ کیا؟ حضرت جنیدؒنے جواب دیا‘‘ وہ اشارے ختم ہوئے ، وہ عبارتیں غائب ہوگئیں، وہ علوم فنا ہوگئے، وہ نقوش مٹ گئے اور ہمیں نفع پہنچایا تو چند رکعتوں نے جو ہم سحری کے وقت پڑھ لیا کرتے تھے۔’’یہ تحریریں، یہ تجزئیے، تبصرے، اپنی جگہ پر، مگر زندگی بڑی سرعت کے ساتھ گزرتی چلی جارہی ہے، قبریں بالکل سامنے آن کھڑی ہوئی ہیں۔ 77سال بعد بھی ’’پاکستان‘‘دن بدن تنزلی کی طرف جارہا ہے، تم نے رسواکن ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے ساتھ مل کر لال مسجد جامعہ حفضہ کی،پاکباز بیٹیوں کو یہ کہہ کر فاسفورس بموں سے مروایا تھاکہ اسلام آباد کے قلب میں ’’برقعہ برگیڈ‘‘پاکستان کی ترقی میں رکاوٹ ہے،پرویز اور شیخ رشیدوں نے یہ کہہ کر امریکہ کو افغان طالبان کے خلاف پاکستان میں اڈے دئیے تھے کہ اگر ہم نے امریکہ کی بات نہ مانی تو امریکہ ہمارا تورا بورا بنا دے گا، امریکہ کو اڈے دے کر بھی دیکھ لیا، امریکہ سے ڈالر لے کر بھی دیکھ لیا، لیکن پاکستان نے ترقی کیا خاک کرنا تھی، شکر ہے کہ پاکستان دیوالیہ ہونے سے بچ گیا، لبرل، سیکولر سیاست دانوں، الحاد پرستوں اور میڈیا کے پردھانوں کو امریکہ کی غلامی اور امریکی ڈالروں پر بڑا ناز تھا، مگر امریکہ اور امریکی ڈالر تو گئے کھو کھاتے میں، پاکستان کے عوام آج مہنگائی کی چکی کے دو پاٹوں کے درمیان جس بری طرح پس رہے ہیں،وہ سب کے سامنے ہے، پٹرول، ڈیزل اور بجلی کی قیمتوں کو دیکھ کر عوام کوایسے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے عمران خان سے لے کر شہباز شریف تک کو، عوام سے کوئی خاص دشمنی ہو۔ آئی ایم ایف کے یہودیوں کی غلامی نے پاکستان کے عوام کا خون تک نچوڑ ڈالا ہے۔ ’’میڈیا‘‘مختلف سیاست دانوں اور حکمرانوں کی حمایت اور مخالفت کی بجائے، اگر اس بدبودار نظام کو جڑ سے اکھیڑ کر نفاذ نظام اسلام کی بات کرتا تو یہ مفید بات ہوتی۔77سال بعد بھی اسٹیبلشمنٹ، سیاست دان اور حکمران اس ملک کے عوام کو ایک قوم نہیں بناسکے،پاکستان کی سالمیت اور سلامتی پرخطرات کے بادل منڈلا رہے ہیں، آئیے کچھ کام خالص اللہ کے لئے بھی کرلیتے ہیں، ہمیں پاکستان کو بچانا ہے، اپنی آخرت کو بھی سنوارنا ہے، جب حکمران، سیاست دان اور ادارے آپس میں مل نہیں بیٹھیں گے تو کارکنوں کے دنوں میں مزید نفرتیں جنم لیں گی، ملکی سیاست کا منظر نامہ دیکھ کر ایسے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے نفرتوں کو عام کرنے کے لئے پوری پوری جماعتیں ہائیر ہوں؟ انسانوں کا مذاق اڑایا جارہا ہے، میں بار، بار یہ بات لکھ رہا ہوں کہ یہ بوسیدہ نظام سوائے نفرتوں کوعام کرنے کے اور کوئی کام نہیں کر رہا، اگر کالم نگاروں، اینکرز ، اینکریوں اور سوکالڈ دانشوروں کو فرصت ملے توانہیں چاہیے کہ وہ کچھ سیکھنے کی نیت سے ایک دفعہ کسی پروگرام میں عام آدمی کی طرح حاضر ہو کر ڈاکٹر ذاکر نائیک کو ضرور سنیں،اور پھر نظام اسلام کا بھی کشادہ دلی سے مطالعہ کریں، ان شا اللہ اس کا انہیں ضرور فائدہ ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں