(گزشتہ سے پیوستہ)
اس لیے میں یہ عرض کرتا ہوں کہ جب جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دور میں یہ دعویٰ تسلیم نہیں کیا اور سنتِ رسول یہی ہے کہ مدعی نبوت خواہ کیسا ہی ہو، امتی نبی کے نام سے آئے یا مستقل نبی کے نام سے آئے، نبی اور رسول کا عنوان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی اور شخص کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ حضور نبی کریمؐ نے مسیلمہ کا یہ دعویٰ تسلیم نہیں کیا تو اس کے بعد بھی کسی اور کا یہ دعویٰ تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔
جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سینکڑوں احادیث ہیں، ان میں سے صرف ایک اور حوالہ دینا چاہتا ہوں۔ جناب نبی کریمؐ کی ختم نبوت کا مسئلہ بڑا حساس معاملہ ہے۔ خود حضور نبی کریمؐ اس معاملے میں کس قدر حساس تھے اور آپ کے اپنے احساسات و جذبات کیا تھے، اس پر ایک واقعہ عرض کروں گا۔ آپ حضرات اس حوالہ سے اس مسئلے کی اہمیت کا اندازہ کر لیں کہ کہیں تھوڑا سا اشتباہ بھی اگر ہوا، کہیں ابہام پیدا ہونے کا کوئی امکان ظاہر ہوا تو نبی اکرمؐ نے فوراً وہاں وضاحت کی۔
بخاری شریف سمیت حدیث کی تقریباً ساری کتابوں میں یہ واقعہ ہے کہ جب جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک کے لیے تشریف لے جا رہے تھے تو ایک مہینہ جانے کا سفر، ایک مہینہ واپسی کا سفر۔ اور پتہ نہیں وہاں کتنا وقت گزرنا تھا۔ چونکہ لمبا سفر تھا تو مدینہ منورہ کے انتظامات کے لیے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں عمومی طور پر اپنا نائب حضرت عبد اللہ بن عمرو بن ام مکتوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بنایا، جبکہ خاندانی مسائل کے لیے حضورؐ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو اپنے پیچھے چھوڑا۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علیؓ سے فرمایا کہ آپ ہمارے ساتھ نہیں جائیں گے بلکہ یہاں رہیں گے۔ حضرت علیؓ کو کوئی کہے کہ آپ میدان جنگ میں نہیں جائیں گے، گھر میں رہیں گے، تو یہ بات ہضم ہونے والی نہیں تھی کہ وہ تو آدمی ہی میدان کے تھے، حیدر کرار ہیں۔
چنانچہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ پریشان ہوئے کہ عرب کی حدود سے باہر یہ پہلا معرکہ ہے اور میں اس میں شریک نہیں ہوں گا۔ عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے آپ چھوڑ کر جا رہے ہیں، میں گھر میں رہوں گا، جہاد میں نہیں جاؤں گا؟ نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ ہاں تم گھر میں رہو گے، جہاد میں نہیں جاؤ گے۔ حضرت علیؓ نے بے چینی سے عرض کیا یا رسول اللہ! خود آپ جہاد پر جا رہے ہیں اور مجھے بچوں میں اور عورتوں میں چھوڑ کر جا رہے ہیں؟ حضورؐ کی اپنی حکمت تھی کہ پیچھے سارے معاملات کو نمٹانے کے لیے کوئی ذمہ دار آدمی ہونا چاہیے۔ حضرت علیؓ بار بار بے چینی اور اضطراب کا اظہار کر رہے تھے تو حضرت علیؓ کی بے چینی دیکھ کر جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو تسلی دینے کے لیے یہ الفاظ فرمائے: ’’اما ترضٰی أن تکون منّی بمنزلۃ ہارون من موسٰی’’۔ علی! کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ میرا اور تیرا وہی تعلق ہو جو موسیٰ اور ہارون علیہما السلام کا تھا؟ کہ جب موسیٰ علیہ السلام کوہِ طور پر جاتے تھے تو پیچھے اپنا قائم مقام ہارون علیہ السلام کو بنا کر جاتے تھے اور میں تمہیں چھوڑ کر جا رہا ہوں۔ حضرت علیؓ یہ سن کر خاموش ہو گئے کہ یہ بڑے اعزاز اور بڑے فخر کی بات ہے، لیکن ساتھ ہی جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور جملہ بھی فرمایا۔
دیکھیں میں حضورؐ کی حساسیت کی بات کر رہا ہوں، یہ مسئلہ اس قدر حساس ہے کہ ذرا سا وہم ذہن میں پیدا ہو سکتا تھا کیونکہ حضرت ہارون تو نبی تھے، تو حضورؐ نے فوراً ساتھ ہی فرما دیا ’’الا انہ لیس نبی بعدی‘‘ لیکن میرے بعد نبی کوئی نہیں ہوگا۔ اس سے عقیدہ ختم نبوت کی حساسیت کا اندازہ ہوتا ہے کہ ہارون علیہ السلام پیغمبر تھے اور جناب نبی کریمؐ حضرت علیؓ کو حضرت ہارونؑ سے تشبیہ دے رہے ہیں، تو اس سے کسی درجے میں دل میں جو وہم آ سکتا ہے اس کو بھی حضورؐ نے گوارا نہیں کیا اور فوراً شبہ دور کرنے کے لیے ساتھ ہی وضاحت فرما دی کہ میرے بعد نبی کوئی نہیں آئے گا۔
پہلی بات میں نے یہ عرض کی ہے کہ قادیانی عام طور پر یہ مغالطہ دیتے ہیں کہ مرزا صاحب نے تو امتی نبی ہونے کا دعویٰ کیا تھا، کون سی قیامت آ گئی تھی؟ تو میں عرض کیا کرتا ہوں کہ مسیلمہ کذاب نے بھی اسی قسم کا دعویٰ کیا تھا لیکن جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ خلافت، نہ جانشینی، نہ دیہات کا نبی، نہ تابع نبی، نہ شریک نبی، کوئی بات بھی حضورؐ نے قبول نہیں فرمائی۔
جب مسیلمہ کذاب مدینہ منورہ آیا اور جناب نبی کریمؐ سے ملاقات ہوئی اور اس نے یہ پیشکش کی کہ مجھے اپنا جانشین نامزد کر دیں یا دیہات میرے حوالے کر دیں، تو اس پیشکش کے جواب میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو باتیں فرمائیں۔ ایک اصولی جواب تھا اور ایک عملی جواب تھا۔ اصولی بات تو یہ فرمائی کہ قرآن پاک کی یہ آیت پڑھی ’’ان الارض للہ یورثھا من یشاء من عبادہ‘‘ زمین کی وراثت اللہ کی ہے، وہ جسے چاہے دے۔ یعنی زمین تقسیم کرنا اللہ کا کام ہے، جانشین بنانا یا نہ بنانا اللہ کا کام ہے۔ یہ اصولی جواب تھا کہ یہ فیصلے اللہ تعالیٰ نے کرنے ہیں، یہ میرے فیصلے نہیں ہیں۔ دوسرا جواب یہ دیا کہ تم مجھ سے جانشینی مانگتے ہو، نبوت کی شراکت اور حصہ مانگتے ہو۔ آپؐ نے زمین سے ایک لکڑی اٹھائی اور فرمایا، یہ خشک لکڑی بھی مجھ سے مانگو گے تو میں تمہیں دینے کے لیے تیار نہیں ہوں۔(جاری ہے)