منصور کا مقدر ہی سولی پر لٹکایا جانا ہے،سو ایک اور منصور کو آئینی ترمیم کی بارگاہ میں سولی پر لٹکا دیا گیا اور کوئی رویا تک نہیں۔رام ریاض نے کہا تھا کہ پتھر کی طرح تو نے مرا سوگ منایا دامن نہ کبھی چاک کیا بال نہ کھولے یہ ہونا پہلے ہی قرار پا گیا تھا ،باقی سب تو حجتیں تھیں جوتمام کی گئیں ۔اب معلوم ہوا کہ بے رحمی کہاں کہاں روا رکھی جا سکتی ہے۔ بندوں کے حضور بخشش نہیں ہے یہ معاملہ تو فقط خالق کے حضور ہوگا جہاں مخلوق کو اذن گویائی کا حق یا پھر یارا نہیں ہوگایہ الگ بات کہ یاران نکتہ داں نے یہاں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔مسلم لیگ کی قیام پاکستان کے بعدیہ ریت رہی ہے ۔
واقعات کی لمبی فہرست ہے اور ابھی تک تو گواہان بھی زندہ ہیں اور کیا بعید ہے کہ مسلم لیگ ن ہر شہادت سے مکرنہیں جائے گی ۔چیف جسٹس سے بڑا منصب اور کون سا ہے جب اس کی توقیروتقدیس کو پامال و بے آبرو کر دیاجائے توقع کا اور کون سا تاج محل تعمیر کیا جاسکتا ہے ؟یہ اپنے اپنے عشرت کدوں میں جاکر کتنے ہنسے ہوں گے کہ کفارمکہ نے اتنا استہزا نہیں کیا ہوگا جس کا ذکر مصحف ربانی کی دوسری سورہ یعنی بقرہ میں ملتا ہے ۔
خورخے لوئیس بورخیس کے افسانے ’’یہودا کے تین روپ‘‘ میں ایک کردار ’’رونے برگ‘‘کہتا ہے کہ’’لفظ جب وجود بنا تو لامکاں سے مکاں میں،ابدیت سے تاریخ میں اور لامحدود رحمت سے نکل کر عالم تغیر و مرگ میں آگیا ۔اس قربانی کے لئے ضروری تھا کہ ایک انسان تمام انسانوں کی نمائندگی کرتے ہوئے مناسب و موزوں قربانیدے ۔تمام حواریوں میں سے اکیلے یہودا نے عیسیٰ کی خفیہ الوہیت اور ان کا ہولناک مقصد بوجھ لیاتھا ۔ پس لفظ نیچے اتر کر فانی بنگیا تھا۔’’یہودا‘‘ لفظ کا مرید ،اپنے آپ کو نیچے گرا کر مخبر کے کردارلا سکتا تھا (روسیاہی کی تاریخ کابد ترین جرم)اور دائمی آگ کو گلے لگا سکتا تھا۔‘‘
مگر یہاں تاریخ میں بد ترین روسیاہی کے جرم کو جرم گردانا ہی نہیں جاتا۔یہ دیدہ دلیری اور ہلہ شیری کی دنیا ہے ۔لعنت ،ملامت کیروگ کا کسی پر کوئی اثر نہیں ہوتااور نہ اخلاقی مرتبے کے عقیدے میں ترمیم کی کوئی حیثیت ہوتی ہے ۔عدلیہ کو بے وقعتی کے داغ سے بچانے کے لئے پھر کون آگے آتا ،سب کو اپنی اپنی مراعات اور اپنے مفادکی فکر لاحق تھی ۔کہیں ووڈے نے بند ڈگی کی معجزہنمائی دکھائی اور کوئی حصول کیبے وصولی کا مرثیہ پڑھنے والا رجل بیمار دکھا کر رٹ پٹیشن کے در وا ہونے کی نشاندہی کی گئی اور کوئی اپنی اہلیہ کے اغوا کی قیمت وصول کرکے سرخرو ہوا ۔اپنے اپنے حصے کا لچ تلنے میں کسی نے رو رعایتیں ہیں برتی ۔اور’’آئین کاغذ کا ایک ٹکڑا ہے‘‘ اسے روندنے کی رسم خوب ادا کی گئی۔یحییٰ آفریدی کا ریکارڈاتنا بھی نادرست نہیں ہے کہ ایک باوقار معظم ومحترم چیف جسٹس ہونے کے حوالے سے وہ آئین کی بے حرمتی کرنے والوں کی رسی اور ڈھیلی کر دیں کے ،آج نہیں تو کل،کل نہیں تو پرسوں وہ عدلیہ کی تاریخ کے داغ ضرور دھوئیں گے ،وہ کسی فائز عیسی ٰ کے بے فیض فیصلوں کی وجہ سے لگے ہوں یا خفیہ ہاتھوں کی ہوشربا کرشمہ سازی کے طفیل،کہ یہ قائد کا پاکستان ہے جو لاکھوں جانوں کی قربانی سیوجود میں آیا ،یہ وہ ملک ہے جو ’’آگ کا دریا‘‘پار کر کے آنے والوںکے ایثار کے بدلے دنیا کے نقشے پر نمودار ہوا۔
یحییٰ آفریدی ،عدل و انصاف کے بندے ہیں ، منطق و استدلال کے بندے ہیں ،ان سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں ،وہ بھیانک نتائج جو ان کی آنکھوں کے سامنے عیاںہوئے ، جو ہیرا پھیریاں ان کی نظروں کے سامنے کی گئیں ،وہ بے اصولیاں جو اس بااصول کے روبرو کی گئیں ،وہ نا انصافیاں جن کا ارتکاب اس منصف کی نگاہوںکے سامنے کیا گیا ،انہیں کیسے اورکیوں کر یہ نظر انداز کر پائیں گے-یہ ماننا بعید از قیاس ہے ، منصفی کے قرینوں کے خلاف ہے کہ آخر عدالت عظمیٰ سے اوپر بھی تو ایک عدالت لگنی ہی ہے اور یقینا لگنی ہے۔