خورخے لوئیس بورخیس بیسویں صدی کے عالمی شہرت یافتہ کہانی گر ہیں ۔ان کی جنم بھومی یا آبائی وطن ارجنٹائن ہے ۔ہمارے یہاں انہیں افسانہ نگار کے طور پر پہچانا جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اردو کے نامور اور منفرد کہانی نگار اسد احمد خان نے بورخیس کی کئی کہانیوں کو اردو کے قالب میں ڈھالا ہے۔باہر کی دنیا یعنی لاطینی امریکہ وغیرہ میں ان کی وجہ شہرت ایک مضمون نگار کے طور پر زیادہ ہے۔اس کے ساتھ ساتھ بورخیس نے شاعری کو بھی ذریعہ اظہار بنایااور بہت سارے لوگ ان کی شاعری پر زیادہ فریفتہ ہیں اور انہیں افسانہ گر کی بجائے بڑا شاعر تسلیم کرتے ہیں ۔ مجھے بورخیس کی جس بات نے متاثر وہ اسلامی تاریخ و فلسفہ اور عرب فلسفہ میں ان کی گہری دلچسپی ہے۔ جو اس حد تک زیادہ دکھائی دیتی ہے کہ وہ عرب فلسفہ اور سائنسدانوں کو اپنی کہانیوں کا ناصرف کردار بنا تاہےبلکہ ان کے شخصی اوصاف پرطویل مکالمے تحریرکرتا ہےاور بعض مقامات پر مسلمانوں کی فلسفیانہ موشگافیوں پر کڑی تنقیدبھی کرتا ہے ۔ مثلاً اپنے ایک افسانے ’’ابن رشد کی تلاش‘‘ (Averoess’Search) میں لکھتے ہیں ۔ ابن رشد نے اپنے لئے جس مشکل کام کا انتخاب کیا تھا وہ تھا ارسطو کے کام کی اسی طرح سے تفسیر کرنا جیسے علماء قرآن کی تفسیر کرتے چلے آئے ہیں۔
تاریخ کم ہی ایسی خوبصورت اورپراثر چیزوں کا حساب رکھے گی،جیسے اس عرب طبیب کی ایک ایسے شخص کی فکر سے وابستگی جو اس سے چودہ صدیوں کی خلیج پر واقع تھا۔اس مہم کی داخلی مشکلات میں سے ایک مشکل یہ بھی تھی کہ ابن رشد نہ تو سریانی جانتے تھے اور نہ ہی یونانی اور انہیں ارسطو کے ترجمے کے ترجمے سے کام لینا پڑرہا تھا ۔ یہ عربی ادب اور فلسفہ کے بارے بورخیس کی ژرف نگاہی اورگہری دلچسپی تھی ۔
اسی افسانے میں تھوڑا سا آگے جاکر بورخیس لکھتے ہیں ’’ابن رشد نے قلم رکھ دیا اور بے اعتمادی سے خود سے گویا ہوئے کہ ہم جسے کھوج رہے ہوتے ہیں وہ اکثر ہمارے قریب ہی ہوتا ہے ‘‘ جملہ تخلیق کرنے کا یہ ہنر کم کم لکھنے والوں کو نصیب ہوتا ہے جو الفاظ کے قرینے کو مجروح یا بے حرمت نہیں ہونے دیتے۔
بورخیس کتب خانوں کا شیدائی تھا اور اسی سرگردانی میں زندگی کا ایک حصہ بتا دیا کہ جتنا ہوسکے کتب سے کشید کرلوں ۔اس کا اظہار اس نے اپنے افسانے ’’بابل کا کتب خانہ‘‘ (The library of Bable) میں جس خوبصورت بنتی سے کیا ہے اس کی ندرت کے بیان کے لئے لفظ عاجز ہیں ۔بابل بھی تو عرب ملک عراق کا ایک قدیم تا ریخی شہر ہے جو اپنے کتب خانوں کی وجہ سے شہرت دوام رکھتا تھا۔بورخیس نے اس کے کتب خانے کھنگالے اور ان کی ہونے والی بےحرمتی کا مرثیہ اپنی کہانی میں دل گرفتی سے کیا۔بور خیس کے افسانے ’’بابل کا کتب خانہ‘‘ کا شمار ادب عالیہ میں منفردمقام رکھتا ہے۔ بورخیس ایک بہت بڑا کہانی گر ہے، بہلے کوئی اسے کہنہ مشق مضمون نگار کہے یا ایسا شاعر جو الفاظ کے مہارت سے برتنے میں مہارت رکھتا ہے ۔
میں فقط اس کی تحاریرکے ایک ہی پہلو پر بات کرنا چاہتا تھا کہ بورخیس نے دنیا کے سب سے اعلیٰ ادب یعنی عربی ادب اورفلسفہ کا بغور مطالعہ کیا ۔خورخے لوئیس بورخیس کے بارے جو یہ رائے پائی جاتی ہے کہ وہ انسائیکلوپیڈیائی مطالعہ رکھنے والا ادیب تھا ،اس میں ذرہ بھر بھی مبالغہ نہیں ،اس نے واقعی جو پڑھا۔ وہ فقط پڑھا نہیں بلکہ پڑھ کر اسے سمجھا اور سمجھ کر اپنے وجود کا حصہ بنانے کے بعد تخلیقی عمل کے کرب سے گزر کر ایسے شہ پارے تخلیق کئے جو امر ہو گئے ، فقط تاریخ ہی میں نہیں لوگوں کے دلوں میں بھی ۔اس کا ایک وصف یہ بھی تھا اس نے جس عرب فلسفی یا سائنسدان کا ذکر کیا اس سے وابستہ تمام کمالات کا اعتراف کیا اور آخری عمر میں اپنے اندھا ہوجانے پر ایک خوبصورت جملہ کہا کہ ’’ اندھا ہونے کے بعد میں اپنے خواب کم انتشار توجہ سے دیکھ سکتا ہوں ۔‘‘