کوئی غامدی، مرزا جہلمی اینڈ کمپنی کو بتائے کہ تم کس باغ کی مولی ہو،مرزا قادیانی دجال تو وہ تھا،جس نے فرنگی آقائوں کے کہنے پر آللہ کے حکم جہاد کے خلاف اتنی کتابیں لکھیں ،بقول مرزا قادیانی ملعون کے ان کتابوں سے 50 الماریاں بھر جاتیں تھیں،لیکن افغانستان میں مجاہدین کی تاریخ ساز کامیابی کے بعد آج بھی اگر حماسی مجاہدین نے اسرائیل میں جہاد کے پرچم کو سربلند رکھا ہوا ہے،تو یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ جہاد مقدس کے خلاف لکھی ہوئی مرزا ملعون کی کتابیں ’’گٹر برد‘‘ ہو گئیں اور جہاد مقدس اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ مسکرا رہا ہے،یہ لفافہ خور دانش گرد جہاد مقدس کے خلاف جتنی مرضی ’’دانش گردی‘‘کے مظاہرے کر لیں،جتنا چاہے سیاپا ڈال لیں،چمگادڑوں کی طرح چاہے الٹے بھی لٹک جائیں،تب بھی یہ جہاد مقدس کا نہ کچھ بگاڑ سکتے ہیں،اور نہ قیامت کی صبح تک جہاد وقتال کی عبادت کو روک سکتے ہیں،جارج ڈبلیو بش سے لے کر رسوا کن ڈکٹیٹر پرویز مشرف تک،اب انہیں کوئی چراغ لے کر ڈھونڈے کہاں چلے گئے ؟مگر ان کے ظلم وجبر کا نشانہ بننے والا جہا د اور جہادی آج بھی ژندہ ہیں،بھلا کیوں؟ اس لئے کہ جہاد فی سبیل اللہ کوئی محض سنت یا مستحب عمل نہیں، بلکہ اس کی قطعی فرضیت کا اعلان اللہ پاک نے قرآن مبین میں واضح طور پر فرمایا ہے۔ ملاحظہ کیجئے سورۃ البقرہ (آیت نمبر 216)کتب علیکم القتال وھو کرہ لکم۔ الخ۔
آ ج عوام الناس اگر سب سے زیادہ کسی بات سے بے خبر یا لاعلمی کا شکار ہے تو وہ یہ ہے کہ جس طرح ہم پر باقی فرائض (نماز ،روزہ، حج،زکوٰۃ وغیرہ)فرض ہیں ان کا ادا کرنا لازم ہوتا ہے، اسی طرح جہاد بھی ہم پر فرض کیا گیا ہے۔ تو کبھی یہ فرض عین ہوتا ہے کبھی فرض کفایہ، جب مسلمانوں کا غلبہ ہو، کفر مغلوب ہو، کافر کہیں مسلمانوں کے علاقے پر حملہ کریں اور وہاں کے مسلمان ان کے مقابلے کے لیے کافی ہوں یا اسلامی لشکر کہیں کفار پر اقدامی جہاد کریں تو ان صورتوں میں جہاد فرض کفایہ ہوتا ہے ، کچھ مجاہدین کے ادا کرنے سے تمام مسلمانوں کی طرف سے ادا ہوجاتا ہے۔لیکن اگر یہ صورتیں نہ ہوں بلکہ کفار کا غلبہ ہو ، کفار مسلمانوں کے کسی علاقے پر قابض ہو جائیں ، کفار مسلمانوں کے کچھ افراد گرفتار کرلیں یا ایک مسلمان عورت گرفتار ہو جائے (ایک مسلمان عورت کے گرفتار ہونے پر تمام مسلمانان عالم پر اس کا کافروں سے چھڑانا فرض ہوجاتا ہے)ان تمام صورتوں میں جہاد فرض عین ہوجاتا ہے۔ جب کافر مسلمانوں کے کسی علاقے پر حملہ کریں تو وہاں کے لوگوں پر ان سے لڑنا مقابلہ کرنا فرض ہوجاتا ہے ،اگر وہ کافی نہ ہوں تو ساتھ والوں پر فرض ہوجاتا ہے، اگر وہ بھی کافی نہ ہوں تو ساتھ والوں پر اگر وہ بھی کافی نہ ہوں تو کرتے کرتے مشرق سے مغرب تک، تمام عالم اسلام پر جہاد فرض عین ہوجاتا ہے۔
آ ج کے مسلمان کے پاس کوئی حیلہ ،بہانہ یا شرعی عذر ہے کہ جس سے وہ جہاد کی فرضیت سے اپنے آپ کو بری کرسکے؟ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے!کیا آ ج مسلمان امن میں ہیں؟ یقینا آ پ کو ہر طرف مسلمانوں کی چیخ و پکار ، ان کی لاشیں اور عقوبت خانوں میں سسکتی جوانیاں بتائیں گی کہ مسلمان ہر گز امن میں نہیں ہیں، جہاد تو اس وقت فرض کفایہ ہوتا ہے جب کافر اپنے ملکوں میں ہوں اور ان کی فوجیں سرحدوں کے اندر ہوں ۔مگر آج کفار عالم کی فوجیں مسلمانوں کی سرحدوں کے اندر گھس کر مسلمان علاقوں پر قبضہ جمائے بیٹھے ہیں اور پوری دنیا میں مسلمانوں کا جینا دوبھر کر رکھا ہے۔کیا اب بھی جہاد فرض کفایہ ہے ؟ تو آ خر یہ فرض عین ہوگا کب؟ اے مسلمانو!اب اس بحث کا وقت نہیں کہ جہاد فرض عین ہے یا فرض کفایہ ۔بلکہ اب تو جہاد ہر فرض سے بڑا فرض ہے۔ ایسا فرض ہے جس پر ہماری زندگی ، ہمارا ایمان اور ہماری نسلوں کا ایمان موقوف ہے ۔ ہم اسے فرض عین سمجھیں یا فرض کفایہ، لیکن ہمارے دشمنوں نے ہمیں مٹانا اپنے اوپر فرض کر رکھا ہے۔
اے مسلمانو!آ ج اسلام کی عزت کا مسئلہ ہے ۔ تمہاری غیرت یہ بات کیسے گوارا کرتی ہے کہ جن علاقوں کو تمہارے نبی کریم ﷺنے خود جنگیں کرکے چھڑایا اب وہ یہودیوں کی دسترس میں ہیں ۔ نکل پڑو اور بتادو دنیائے کفر کو!کہ محمد بن قاسم ،صلاح الدین ایوبی کے روحانی بیٹے زندہ ہیں ۔ مسلمان بہنوں کی عزتوں کے محافظ زندہ ہیں، اب یہ فضول لفظی بحثیں چھوڑ دو! زمین پر دیکھو!کفر تمہیں چیلنج کررہا ہے۔ آسمان کی طرف دیکھو!فرشتے تمہارے شانہ بشانہ اتر کر لڑنے کے منتظر ہیں،کیا تم نے نہیں سنا کہ حماس کے مجاہدین کی جہادی یلغار کی شدت کو دیکھ کر اسرائیلی چلا رہے ہیں کہ ان مجاہدین کے ساتھ آسمانی مدد ہے،کیا تم نے اسرائیل کے تمام تر دفاعی نظام کو حماس کے ہاتھوں تباہی ہوتے نہیں دیکھا؟کیا تم نے زخموں سے چور غزہ کے معصوم بچوں کی مسکراتی تصویریں نہیں دیکھیں؟کیا تم نے غزہ میں چار چار شہید بیٹوں کی لاشوں پہ کھڑے ہو تکبیر کے نعرے بلند کرتی عزت مآب ماں کو نہیں دیکھا ؟یہ سب جہاد مقدس کی کرامت نہیں تو پھر کیا ہے؟
اے مسلمان جوانوں!صیہونی ،صلیبی ہندو اور قادیانی دام فریب میں الجھ کر جہاد سے منہ موڑنے کی بجائے اللہ کے حکم جہاد کو حرز جاں بنا لو،لسانی سیاسی،فرقہ وارانہ بتوں کو توڑ کر بابری مسجد اور مسجد اقصیٰ کی آزادی کے لئے جہاد مقدس کی عبادت سے اتنی محبت کرو،اتنی محبت کرو کہ مرزا قادیانی کی قبر کی آگ بھڑکے اور جہاد دشمنوں کے کانوں سے دھواں نکلنا شروع ہو جائے ۔
فضاء بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو
اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی