Search
Close this search box.
هفته ,13 جون ,2026ء

منافقین اور غزہ کی بربادی

اقوام متحدہ کے Satellite Center کی جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، اسرائیل نے غزہ پر تقریباً 80,000 ٹن دھماکہ خیز مواد گرایا ہے،اس کا مطلب ہے کہ اسرائیل نے غزہ کے ہر مرد، عورت اور بچے کے لیے تقریباً 36کلو گرام دھماکہ خیز مواد گرایا۔ دکھ کی بات یہ کہ ہم مسلمان ابھی تک اسرائیلی،مصنوعات کے سحر سے ہی پوری طرح نکل نہیں پا رہے، کسی نے کہا تھا سنے گا جب زمانہ میری بربادی کے افسانے تمہارا نام بھی آئے گا میرے نام سے پہلے ملین ڈالر کا سوال یہ کہ اہل غزہ کی بربادیوں میں شریک جرم نام نہاد مسلمانوں کے لئے اگر ایک کالم نگار نے’’اور یجنل منافقین‘‘کی اصطلاح استعمال کی ہے، تو اس میں غلط کیا ہے؟ جس طرح اسرائیلی درندوں کو غزہ کے معصوم بچوں ،عورتوں پر رحم نہیں آتا ویسے ہی مسلمانوں کی صفوں میں گھسا ہوا وہ گروہ بھی بے رحم اور ظالم ہے کہ جو اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کے لئے آمادہ و تیار نہیں ہے،جن بازاروں ،مارکیٹوں،دوکانوں،سپر سٹوروں پر آج بھی اسرائیلی مصنوعات بک رہی ہیں،اللہ پاک بیچنے اور خریدنے والوں کو ہدایت عطا فرمائے آمین ثم آمین۔
مجھے بائیکاٹ کیوں کرنا چاہئے؟ذراسوچئے، کیا میرا اور آپکا یہودی مظالم کا نشانہ بننے والے غزہ کے معصوم بچوں سے کوئی تعلق نہیں ہے؟اے مسلمانوں ! تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ اگر تم مسلمان ہی ہو منافق نہیں بن چکے، تو تم اسرائیلی مصنوعات کے خریدار بن کر اسرائیلی خزانے کی مضبوطی کا سبب کیوں بن رہے ہو؟ تمہاری اسلامی غیرت کہاں مر گئی؟ دین اسلام نے مسلمان کو مسلمان کا بھائی قرار دیا ہے، تم اگر اپنے غزہ کے مظلوم مسلمان بھائی ،بہنوں بچوں کی خاطر ظالم اور درندہ صفت اسرائیل کی مصنوعات کا بائیکاٹ بھی نہیں کر سکتے تو تمہار ے اوریجنل منافق ہونے میں کیا شک باقی رہ جاتا ہے؟ آئیے عزم کیجئے اور اس پیغام کو خوب خوب پھیلایئے، اب بڑہتے ہیں کراچی سے آنے والی ایک خبر کی جانب، خبر کے مطابق گزشتہ روز نماز ظہر کے بعد ہندوستان سے تشریف لائے تبلیغی جماعت کے بزرگ علماء مولانا احمد لاٹ اور مولانا ابراہیم دیولہ دامت برکاتہم بمع اپنے رفقا، شیخ الاسلام حضرت مفتی تقی عثمانی کے دارالعلوام کورنگی کراچی دفتر میں حضرت سے ملاقات کے لیے حاضر ہوئے،اس خوبصورت مجلس کی بہت ساری باتوں میں سے ایک اہم ترین بات حضرت شیخ الاسلام صاحب دامت برکاتہم نے تبلیغی جماعت کے اکابرین کو مخاطب کر کے فرمایا کہ آج کل مجھ پر کچھ غلبہ حال بھی ہے اور بہت بار محسوس بھی ہوتا ہے کہ غزہ اور فلسطین کے مسلمانوں پر آج جس قدر ظلم و ستم ہو رہا، ہر مسلمان با خبر ہے، تبلیغی جماعت کے بڑے بڑے اجتماعات ہوتے ہیں دعا کے لئے ہزاروں لوگ جمع ہوتے ہیں، مجھے یہ بات انتہائی تکلیف دیتی ہے کہ ان اجتماعات اور ان کی دعاں میں فلسطین کے مجاہدین اور مظلوموں کے لئے نام لے کر دعا نہیں ہوتی، یہ بات مجھے کھلتی ہے، کیا ان مظلوموں کے لئے یہ اکرام نہیں، کیا ان کا یہ حق نہیں ہم پر؟مفتی تقی عثمانی نے تقریبا چھلکتی آنکھوں سے فرمایا کہ یہ میری درخواست ہے مجھے اس پر کوئی جواب نہیں چاہیے،محفل میں موجود راوی بیان کرتا ہے کہ استاذ مفتی تقی عثمانی کی اس جلالی کیفیت کو دیکھ کر حاضرین مجلس پر ایک دم سکوت طاری ہو گیا۔ یہ بات شیخ الاسلام ہی اکابرین تبلیغی جماعت کو کہہ سکتے تھے،سو انہوں نے پورے درد دل کے ساتھ تبلیغی اکابر سے کہہ دی،چونکہ نو مبر میں رائے ونڈ میں تبلیغی جماعت کے یکے بعد دیگرے دو بڑے اجتماعات منعقد ہونے والے ہیں،دیکھتے ہیں کہ ان اجتماعات میں فلسطینی مجاہدین کا نام لے کر دعا کی جاتی ہے یا نہیں؟
دوسری طرف اسلامی جہادی تحریک حماس نے اپنے تازہ ترین اعلامیہ میں عرب وعجم کے مسلمان حکمرانوں ، قائدین، عوام، تنظیمات اور دنیا بھر کے تمام آزاد انسانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غزہ میں جاری جارحیت پر فوری اور عملی اقدامات کریں،اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ شمالی غزہ میں تین ہفتوں سے جاری اسرائیلی بمباری میں ہمارے نہتے عوام، جن میں خواتین، بچے اور بیمار شامل ہیں، کو قتل و غارت گری کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ قابض فوج نے انتہا درجے کی درندگی کے ساتھ ہمارے عوام کا قتل عام کیا ہے۔ آج صبح شمالی غزہ کے علاقے بیت لاہیا میں ایک پانچ منزلہ عمارت پر بمباری کی گئی، جس میں 93سے زائد افراد شہید ہوئے، جن میں زیادہ تعداد بچوں اور خواتین کی ہے۔ درجنوں افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہیں۔قابض فوج نے ہسپتالوں کا محاصرہ کیا، انہیں بمباری کر کے مفلوج کیا اور طبی عملے کو کام کرنے سے روک دیا، جس کے نتیجے میں شہدا کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے شمالی غزہ کا مکمل محاصرہ کیا ہوا ہے، اور خوراک، پانی اور طبی امداد تک رسائی کو بند کر دیا ہے، لاکھوں لوگوں کو جبری ہجرت پر مجبور کر دیا گیا ہے۔ مزید برآں، قابض فوج نے شمالی غزہ سے 600 سے زائد شہریوں کو انتہائی ظالمانہ حالات میں حراست میں لیا ہے۔ حماس کے اعلامیہ کے مطابق ، اب وقت آ چکا ہے کہ امت مسلمہ کے قائدین اور تنظیمیں صرف مذمتی بیانات سے آگے بڑھیں اور فوری اور جرات مندانہ فیصلے کریں، جن میں شمالی غزہ کے محاصرے کو توڑنے، فوری امداد فراہم کرنے اور قابض افواج پر دبا ڈالنے کے عملی اقدامات شامل ہوں۔ ہم عرب ممالک سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ قابض ریاست کے ساتھ تعلقات منقطع کریں اور دوسرا یہ کہ اسرائیلی کنیسٹ کی جانب سے فلسطینی علاقوں میں اقوام متحدہ کی ایجنسی اونروا پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ہم عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس غیر قانونی فیصلے کو کالعدم قرار دے اور فلسطینی عوام کے حق میں آواز بلند کرے۔ تیسرا یہ کہ اسرائیلی وزیر ’’سموتریچ‘‘کے حالیہ نسل پرستانہ بیانات، جن میں فلسطینی علاقوں پر قبضے کی کھلم کھلا بات کی گئی ہے، قابض حکومت کی جارحانہ پالیسیوں کا عکاس ہیں اور پورے خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ چوتھا یہ کہ حماس نے ثالثوں کی تجاویز کے جواب میں جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے لیے مذاکرات میں شرکت کی ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ جنگ بندی کو مشروط طور پر قبول کیا جائے، جس میں قابض افواج کا مکمل انخلا، محاصرہ کا خاتمہ، فوری امداد، تعمیر نو اور قیدیوں کی رہائی کے معاہدے کو عملی شکل دینا شامل ہے۔
پانچواں یہ کہ ہم فلسطینی مزاحمت کے جانبازوں، اور لبنان، یمن، عراق اور دیگر مزاحمتی قوتوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، جو اس تاریخی معرکے میں مزاحمت کی عظیم داستانیں رقم کر رہی ہیں۔ چھٹا یہ کہ، ہم اپنی عرب و اسلامی امت اور دنیا کے تمام آزاد انسانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ دشمنِ صہیونیت کے خلاف بھرپور جدوجہد میں شامل ہوں اور غزہ، لبنان اور وہاں کی مزاحمتی قوتوں کی بھرپور حمایت کریں، تاکہ دشمن اور اس کے حمایتیوں کو پیغام دیا جا سکے کہ فلسطینی و لبنانی عوام تنہا نہیں ہیں۔ہم اپنی امت مسلمہ کے عوام سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنے احتجاجی اقدامات کو بڑھائیں اور مظاہروں اور بھرپور ریلیوں کا اہتمام کریں، تمام دارالحکومتوں اور بڑے شہروں میں صہیونی، امریکی اور دیگر قابض حمایتی سفارت خانوں کا گھیرا کریں، ہمارے عوام اور ہماری مزاحمت کے حق میں اپنی یکجہتی کا اظہار کریں اور اپنے محصور اہلِ غزہ کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کریں، اور آخر میں، ہم پوری دنیا سے کہتے ہیں کہ ہماری پکار کو سنیں، ہمارے عوام کی تکلیفوں کو محسوس کریں، ہمارے اوپر ڈھائے جانے والے مظالم اور قتلِ عام کو دیکھیں۔ ہماری استقامت کو ختم نہیں کیا جا سکتا، ہماری عوام اپنی سرزمین پر ڈٹی رہے گی ، اپنے حقوق پر ثابت قدمی سے قائم رہے گی اور اپنے قومی و مقدس اصولوں کا دفاع کرتی رہے گی، چاہے اس کے لیے کتنی بھی قربانیاں دینی پڑیں،اللہ ہمارے شہدا کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے، زخمیوں کو صحت دے، قیدیوں کو آزادی سے نوازے اور ہماری امت اور ہماری مزاحمت کو فتح سے ہمکنار کرے۔ ’’اور یہ جہاد ہے، فتح یا شہادت‘‘

یہ بھی پڑھیں