Search
Close this search box.
پیر ,08 جون ,2026ء

آئو این آر او،این آر او کھیلیں

اب کس کی باری ہے ؟ کون این آر او لے گا اور کون دے گا ؟ کیا پی ٹی آئی کے برے دن ختم ہونے لگے ہیں ؟ خبریں تو تاحال گرم نہیں ہورہیں پس چاروں اور سرگوشیاں ہی سرگوشیاں ہیں،کہیں کانا پھوسی بھی ہوتی نظرآتی ہے ۔
سب بین بین چل رہا ہے ۔حاضر سروس اور فراغت کے دن گزارنے والے اپنے اپنے تئیں کچھ نہ کچھ کرنے کی ٹوہ میں ہیں۔پھر کون بنے گا سلطان ؟ یہ تو وقت ہی بتائے گا،پی ٹی آئی یا؟
بہت سارے سوالات سر اٹھا رہے ہیں۔ حال تو یہ ہے کہ قصر اقتدار میں بھی حیرت کا سماں دکھائی دیتا ہے خبریں کہاں سے آرہی ہیں، کون اندرون خانہ بات چلارہا ہے ،بشری بی بی اور اس کی بہادر نندیں رہا ہوئیں اور 9 مئی کے جرم میں ملوث پی ٹی آئی کے کچھ کارکن بھی زندانوں سے آزاد ہوئے ،سیاسی معاملات کے مشیر ہوں یا فارم47 کے حیرت کدے سے نکلے ہوئے خواجہ آصف سبھی تذبذب میں ہیں ،انہیں خود پر کچھ گزرنے کی فکر لاحق ہے ،اس حالت زار کو دیکھتے ہوئے تجزیہ نگار اندازے لگا رہے ہیں کہ اب شائد قیدی نمبر 804 کی رہائی کا وقت بھی قریب ہے۔
بعض تو ایسے ہیں جن کی نگاہیں امریکہ کے الیکشن پر لگی ہیں کہ ٹرمپ جیتا تو پاکستان میں اقتدار کی بساط بھی دفعتاً الٹ جائے گی۔اگراس پر صاد کیا جائے توabsolutely not کابیانیہ بھی ہوا میں اڑجائے گا اور سیم و زر کے بت خانوں میں فوراً لوٹ پڑجائے گی کہ ابھی جس منڈی میں ایوانوں کے اراکین پر جو بے دریغ مال لٹایا تھا اس کا خسارہ قومی خزانے سے پوراکرلیا جائے اور یہ کوئی نئی بات نہیں ہوگی یہ رسم پرانی ہے جولوہا کوٹنے والوں نے ڈالی تھی اور اسی کے بل بوتے پر ہر بارایوان اقتدار کے در ان پروا ہوتے چلے جاتے ہیں ۔
بھلے عزت و وقار کا جنازہ نکل جائے، جسے قریہ قریہ کندھا دیا جارہا ہے یہ لندن میں قاضی عیسی سے جوکیاگیا، یہ امر صریحاً غلط اور ناروا ہے ، اس کی تحسین کرنے والے غیر مہذب اور جاہل مطلق کہلانے کے حقدار ہیں ،انہوں نے مغرب کو کیا پیغام دیا ہے ؟ یہی کہ جس دین کے وہ پیروکار ہیں اس کی تعلیمات یہی سکھاتی ہیں؟ قطعاً نہیں اس نازیبا اور غیر مہذب عمل کی مذمت کی جانی چاہیئے کہ زمانہ جہالت میں بھی ایسے کسی فعل کاتاریخ میں کہیں سراغ نہیں ملتایہ تاریخ کا سیاہ باب لکھنے کی بنا ڈالی جارہی ہے ،وہ کسی بیکری میں ہویا لندن کی سڑکوں پر۔
ایوان استبداد میں کوئی بھی اس کے خلاف قرار داد منظور کی جانی چاہیئے۔بات این آر او کی ہورہی تھی حکومت نے تو ایسا دروازہ نہیں کھولا کہ ایک ایسے شخص کی رہائی کے اسباب مہیا کئے جائیں جو دل دماغ میں نفرت کی جوت جگائے ایسے کسی معجزے کا منتظر ہے جو اسے بدلے چکانے کا موقع عطا کرے اور اگریہ اسٹیبلشمنٹ کا شاخسانہ ہے تو سمجھ لیجئے ایک بار بھر کوئی نئی سازش سر اٹھا رہی ہے،اور اگر یہ اس سے بھی بالابالا طے پایا ہے تو یہ ثابت ٹھہرے گا کہ بانی پی ٹی آئی عوام کی ساری جدو جہد کو ویسے ہی مقتدرہ کی گود میں ڈالنے جارہے ہیں جیسے پی این اے نے پی پی پی کی جمہوری حکومت کے خاتمے کے بعد اپنی ساری جدوجہد آمر ضیا کے قدموں میں ڈال دی تھی ۔
پھراس کے بعد جماعت اسلامی نے سب سے زیادہ وزارتیں حاصل کیں لیکن منبر محراب کے وارثوں پر سے عوام کا اعتماد ہمیشہ کے لئے اٹھ گیا نہ جماعت اسلامی سیاسی طور پر قابل اعتبار ٹھہری نہ دیگر دینی سیاسی جماعتیں ۔
اب جو مولانانے کوئی عزت بنائی ہے تو دونوں طرف کے مفادات کے دروازے اپنی ذات پر کھلنے کی یقین دہانی پر اور اب وہ دن دور نہیں جب ان کے گھر سے بارات نکلے گی اور ان کا دولہا صوبے کے کسی بڑے منصب پر متمکن ہوگا،پھر دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی طشت ازبام ہوجائے گااورپی ٹی آئی کو پھر اسے راستے سے اقتدار ملا تو مولانا ریاست کے سب سے بڑے عہدے کے حقدار ٹھہریں گے ،پھر ان کا ’’یہودی ایجنٹ ‘‘کا نعرہ ان کے اپنے قدموں تلے دفن ہوجائے گا۔وللہ اعلم

یہ بھی پڑھیں