سنجیدہ طبقات تشویش میں مبتلا ہیں کہ ساٹھ امریکی کانگریس اراکین نے صدر بائیڈن کو پاکستان کے اندرونی معاملات پرخط کیوں لکھا۔ اسی طرح کا مروڑ بیس عدد برطانوی اراکین پارلیمان کو بھی اٹھا اور انہوں نے اپنے وزیرخارجہ کو متحرک ہونے کی اپیل کی ہے۔ برطانیہ میں پی ٹی آئی کے حامیوں نے کافی ہلہ گلہ مچا کر ملکی وقار کو دھچکا لگایا ہے۔ یہ امر قابل غور ہےکہ مقبول ترین جماعت ہونے کے دعویدار ہر وقت احتجاج کے اعلان کیوں کرتے رہتے ہیں؟ آخر یہ احتجاج کا بخار کب اترے گا۔ لگتا ہے ملک میں احتجاج کی وبا پھوٹ نکلی ہے۔ خیبر پختونخوا میں لسانی تعصب کی آگ بھڑکا کر کالعدم پی ٹی ایم نے دراصل فتنہ خوارج کے لئے راہیں ہموار کرنے کی کاوش کی ۔ اس انتشار پہ قابو پانے کے لئے خیبر پختونخوا کی حکومت کو سنجیدہ رویہ اپنانا چاہئے۔ حیرت ہےکہ تحریک انصاف احتجاج کی دوڑ میں سب سے آگے آگےکیوں دکھائی دے رہی ہے؟ گذشتہ دنوں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور اس کاجڑواں شہر راولپنڈی احتجاجی لہر کا مستقل ہدف بنے رہے ہیں۔ پہلے انصافی حامیوں نے جلسے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر دونوں شہروں میں معمول کی زندگی کو متاثر کیا ۔ جلسوں سے مطلوبہ نتائج نہ حاصل ہو سکنے پر پی ٹی آئی اب احتجاج پر زیادہ مائل دکھائی دے رہی ہے۔ پہلے پنڈی شہر میں لیاقت باغ کو احتجاج کا مرکز بنا کر شہریوں کی زندگی اجیرن کی گئی ۔ انصافی لشکر کے احتجاجی ہیجان اورحکومت کی بدانتظامی نے روز مرہ کے معمولات میں تعطل پیدا کئے رکھا۔ کاروباری طبقہ اور دیہاڑی دار محنت کش آئے دن کی سیاسی ہلڑ بازی سے سخت بیزار ہیں۔
پی ٹی آئی نے ڈی چوک پر احتجاج کرنے کے نام پہ جس غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا اس سے ملک میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ ایک صوبے کے وزیر اعلی کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ آئے روز احتجاج کی آڑ میں دوسرے صوبے اور وفاقی دارالحکومت پہ چڑھ دوڑے۔ یہ معاملہ کئی اعتبار سے توجہ طلب ہے۔ پی ٹی آئی نے اسلام آباد میں احتجاج عین اس وقت کیوں رکھاجب ملائشیا کے وزیر اعظم پاکستان کے دورے پہ تشریف لا رہے تھے؟ محض یہی نہیں بلکہ چند روز بعد اسلام آباد میں ایس سی او کانفرنس منعقد ہونے والی تھی جس کی میزبانی پاکستان کے ذمے تھی۔ کیا وفاق اور صوبوں پہ حکمرانی کا تجربہ رکھنے والی تحریک انصاف اس کانفرنس کی اہمیت اور سفارتی نزاکتوں سے واقف نہیں ؟ ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ تاثر گہرا ہوتا جارہا ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت جماعتی یا ذاتی مفادات کے لئے قومی مفاد کو ذرہ برابر اہمیت نہیں دیتی۔ ماضی میں آئی ایم ایف کو خط لکھ کر پاکستان کے بیل آٹ پیکج کے خلاف فضا بنانے میں بھی پی ٹی آئی ہدف تنقید بنی تھی۔ دو سال قبل حکومت گنوانےکے بعد متعدد بار پی ٹی آئی کے بیرون ملک مقیم حواری امریکہ اور برطانیہ کےاراکین پارلیمنٹ سےحمایت کی بھیک مانگ کر پاکستان پر دبائو ڈلوانے کی کوششیں کرچکے ہیں۔ سیاسی چالبازی کو ملکی مفاد کےخلاف استعمال کرنے کی روش قابل مذمت ہے۔ دس برس قبل جب تحریک انصاف نے اسلام آباد میں دھرنے کا پنڈال لگا کر سیاسی ہیجان پیدا کیا تو ناقدین نے سی پیک اور چینی قیادت کے متوقع دورے پر اس طرز سیاست کے منفی اثرات کا کھل کر ذکر کیا تھا۔ آج بھی پی ٹی آئی کےخلاف ان الزامات کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ یہ اعتراض کافی وزن رکھتا ہےکہ آخرپی ٹی آئی کی سوئی احتجاج پہ ہی کیوں اٹکی رہتی ہے؟ وفاقی اور دو صوبوں میں اپنے کرتوتوں کی وجہ سے حکومت گنوانے کے بعد گذشتہ دو برس سے یہ جماعت حالت احتجاج میں ہی ہے۔ اس احتجاج کی کوکھ سے نو مئی جیسے بدترین انتشار نے جنم لیا۔ انتشار کی وجہ سے ملک میں سیاسی بے یقینی اور معاشی بحران گہرا ہوتا چلا گیا۔ خدا خدا کر کے ملک ڈیفالٹ کے خطرات سے باہر آیا اور معاشی استحکام کے امکانات روشن ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ پی ٹی آئی کو اس استحکام میں اپنی سیاسی موت دکھائی دے رہی ہے۔ یہ سیاسی بیانیہ غلط ثابت ہورہا ہے کہ تحریک انصاف کے سب حریف نااہل اور کرپٹ ہیں۔ اپنے سیاسی وجود اور جعلی بیانئے کو زندہ رکھنے کے لئے انصافی لشکر ان تمام عناصر کو نشانہ بنانے پہ تلا ہوا ہے جو ملکی استحکام کا باعث بن رہے ہیں۔
کے پی صوبے کے وزیر اعلیٰ اور ان کے بعض مشیر اس منفی مہم میں پیش پیش ہیں۔ جلسوں اور احتجاجی مظاہروں میں الجھے وزیر اعلی کے پاس صوبے کے معاملات سلجھانے کی فرصت نہیں۔ ان کے غیر ذمہ دارانہ بیانات لسانی منافرت کا زہر پھیلا رہے ہیں۔ وہ ایک ایسے وقت وفاق اور صوبے کے درمیان محاذ آرائی کی آگ کو ہوا دے ہیں جب کہ ازلی دشمن بھارت پاکستان کی سالمیت کو پارہ پارہ کرنے کے لئے دہشت گردوں اور لسانی علیحدگی پسندوں کی پشت پناہی کررہا ہے۔ خیبرپختونخوا میں سرحد پار دہشت گردی کامسئلہ سنگین ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ بدانتظامی اور کرپشن کی داستانیں زبان زد خاص و عام ہیں۔ ایسے نازک وقت میں وزیر اعلی کےسرپہ احتجاج کابھوت کیوں سوار ہے؟ ملکی سلامتی اور سفارتی معاملات کے تقاضوں اور نزاکتوں کو نظرانداز کرتے ہوئے خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان انتشار پھلجھڑی چھوڑتے رہتے ہیں۔ تحریک انصاف کے سنجیدہ حلقے اپنی صفوں میں چھپے سیاسی تخریب کاروں کی گرفت کریں۔ ایسا نہ ہو کہ بیرون ملک بیٹھے موقع پرست عناصرکی منفی سرگرمیاں انصافی لشکر کے سیاسی خیمے کو نذر آتش کر ڈالیں۔ حکومت سے بھی گزارش ہے کہ ہیجانی سیاست کے مقابل تدبر سے کام لیں۔ موبائل سروس اور شاہراہیں بند کر کے نادانستگی میں حکومت انصافی لشکر کا،مقصد پورا کر رہی ہے۔ احتجاج کی آڑ میں انتشار پھیلانے کی روش نہ تو ملک کے مفاد میں ہے اور نہ ہی اس سے تحریک انصاف کے دامن کے داغ مٹ پائیں گے۔ برطانیہ میں احتجاج کی آڑ میں سابق چیف جسٹس کے خلاف جس طرح ہلڑبازی کی گئی وہ قابل مذمت ہے۔ پی ٹی آئی کی سابق کابینہ کے رکن اور بانی چئیرمین کے قریبی دوست برطانیہ میں بےحد متحرک ہیں۔ کبھی آکسفورڈ یونیورسٹی کی چانسلر شپ کاشوشا چھوڑتے ہیں اور کبھی برطانوی پارلیمان میں پاکستان کی سیاست کی پوٹلی سر پہ لادے بھاگ دوڑ کرتےدکھائی دیتے ہیں۔ بانی چئیرمین کی قابل احترام ہمشیرہ نےاس برطانوی دوست کا نام لے کر جو تنقید کی ہے وہ نہایت معنی خیز اورتوجہ طلب ہے۔ امریکی کانگریس اراکین کابائیڈن کولکھا مکتوب اور ماضی کی معنی خیز قرارداد دراصل تحریک انصاف کی صفوں میں چھپے انتشاری عناصر کی کارستانیاں ہیں۔ ایک خط ایک سو ساٹھ پاکستانی اراکین پارلیمان نے اپنے وزیراعظم کو لکھا ہے۔ وقت آگیا ہے کہ تحریک انصاف احتجاجی ہیجان اور سیاسی حکمت عملی پر سنجیدگی سے نظر ثانی کرے۔