Search
Close this search box.
پیر ,08 جون ,2026ء

حرف و صوت کی حرمت کے پاسبان

مرشد نے کہا تھا گریبان کی حفاظت خود کی جاتی ہے لوگ نہیں کرتے۔جب روز بازاروں میں گریبانوں کا انبار لگا ہو،عماموں کی ڈھیریاں پڑی ہوئی ہوں ،داڑھیوں کا سودا اناً فانا ہوجاتا ہو،قبائیں بک رہی ہوں،قلم اتنے ارزاں ہوں کہ ایندھن مقابلتاً مہنگا ہو، تو پھرشکوہ نہیں ہونا چاہیے کہ بولی دینے والے عیار ہیں ۔ غور اس پرہونا چاہیے کہ مال کی بہتات اتنی ہے کہ سڑی ہوئی اجناس کا ذخیرہ لگا ہوا ہے ۔ یہ تو بولی دینے والوں کا احسان ہے کہ بہرحال مال خرید رہے ہیں۔
ایک زمانہ پہلے یہ بات کہی گئی،مگر یوں لگتا کوئی اب بھی کھڑا یہی آوازہ لگا رہا ہو۔وہ جنہوں نے اراکین اسمبلی کو خریدنے ،ایک سینئر جسٹس کا چیف جسٹس بننے سے روکنے کا مکروہ کھیل رچایا اور آخر کو اپنی مرضی کا چیف جسٹس لگایا ،وہ اب اپنے فیصلے پر پچھتا رہے ہیں ۔ ان کے باطن میں یہ خبث بھرا تھا کہ اپنی مرضی سے بنائے جانے والے جج کے پر کاٹ کر اپنے پاس رکھ لیں گے اور ارادوں کی تکمیل میں بنائے جانے والے آئینی بنچ کے ذریعے من مانی کے فیصلے لکھوائیں گے ،مگر ان کے سارے ارادے اور عزائم خاک ہوئے۔اب وہ اپنے بنائے ہوئے عقیدوں کے بت اپنے ہاتھوں سے گراناچاہتے ہیں، مگر گرا نہیں پائیں گے۔اسی لئے گفتگو کے لئے چٹوں سے جیبیں بھرے میاں نواز شریف امریکہ پہنچ گئے ہیں کہ کچھ سال پہلے بھی وزیراعظم کی حیثیت سے انہوں نے گفتگو کاخلاصہ چٹوں پر لکھا ہوا تھا کہ ان کا وژن ان کےاپنے الفاظ میں پہنچانے کا یارا ان میں نہیں تھا اور نہ ہی اب ہے ،کہ وہ اپنامدعاامریکی اسٹیبلشمنٹ کے روبروبیان کر سکیں ۔
یہ اندیشہ فقط انہیں ہی نہیں جو چور دروازے سے اقتدار میں پہنچائے گئے ان کی جماعت کے بیسیوں رہنمائوں کو بھی ہے کہ کہیں ٹرمپ پھرامریکہ کا صدر بن گیا تو مقتدرہ ان سے سب کچھ چھین کر بانی پی ٹی آئی کےحوالے کرکے اپنے آقا کے آگے سرخرو ہوسکے۔ چوتھی بار وزیراعظم بننے کے خواب کی تعبیر نہ پاسکنے والے میاں صاحب بھی ایک بار پھرامریکی سفارت کارڈونلڈ لو کی کی تلاش میں امریکہ پہنچے ہیں کہ ایک بار پھر اس کی ضرورت آن پڑی ہے جس نے پہلے کپتان کو دھمکی لگائی آج وہ ان کے اقتدار کی گرتی ہوئی دیوارکے سہارے کے لئے ٹرمپ اورکملاہیرس کو ان کی مراد کا سندیسہ دے ۔
ادھر مسلم لیگ ن کے سیاسی رہنما ہی نہیں گلی محلے کے کارکن بھی پی ٹی آئی کے خلاف مہم چلائے ہوئے ہیں کہ ان کا قائد امریکہ کو اندرونی مخالفت پر اکسا رہا ہے، امریکی ایوان کے 62 ممبران نے بانی پی ٹی آئی کے ایما پر ہی قیدی نمبر 804 کی رہائی کے لئے خط لکھا ہے اور ہمارے ممبران اسمبلی امریکی حکمرانوں سے اتنے خوف زدہ ہیں کہ اندرون ملک مداخلت کا مذمتی خط بھی اپنے ہی وزیراعظم کو لکھا ہے کہ کہیں امریکہ ان پر اپنی زمین ہی تنگ نہ کردے ۔یہ فرق ہوتا ہےقوم اور ریوڑ کے درمیان ۔اندرونی مداخلت قابل مذمت ہوتی ہے حزب اقتدار اور حزب اختلاف دونوں کے لئے ان سے بڑھ کر میڈیا کے لئےجو ہوا کا رخ دیکھ کر اظہار رائے کی روش پر عمل پیرا ہے ۔ جبکہ میڈیا الیکٹرانک ہو یا قلم اور قرطاس کا ،اس سے وابستہ افراد کے نزدیک فاقہ کی موت گھٹن کی موت سے بڑھ کر غیرت مندانہ ہوتی ہے ،تاریخ کاسبق یہی ہے کہ زبان سے کلمہ حق اور قلم سے سچ نہ لکھنے والے صحافی نہیں ضمیر فروش ہوتے ہیں، وہ اپنی جان اور اپنی مٹی کا قرض سر پر لئے تاریخ کے قبرستان میں دفن ہوتے ہیں ایسے کہ ان پر فاتحہ پڑھنے والا بھی کوئی نہیں ہوتا! یہ صحافی ہی تو ہوتے جو حرف و صوت کی حرمت کے پاسبان ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں