5نومبر سے امریکی انتخابات ہورہے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور کمیلا ہیرس کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ دونوں صدارتی امیدوار ایک دوسرے پر نازیبا الزامات عائد کررہے ہیں‘تاہم ان دونوں کے درمیان مقابلہ سخت ہے۔ ٹرمپ پہلے ہی امریکی صدر رہ چکے ہیں‘ انہیں امریکی انتخابات لڑنے کا تجربہ بھی ہے۔ ان کے پاس دولت کی کمی نہیں ہے‘ دوسری کمیلا ہیرس امریکہ کی نائب صدر رہ چکی ہیں‘ بلکہ اس وقت بھی وہ نائب صدر ہیں۔ اگرچہ دونوں امیدوار امریکی عوام کو ’ سبز باغ‘‘ دکھارہے ہیں جبکہ ٹرمپ امریکی عوام سے وعدہ کررہے ہیں کہ اگروہ انتخابات جیت کر دوبارہ صدر بن گئے تو امریکی معیشت میں انقلابی تبدیلیاں لاکر عوام کی زندگیوں کو بدل کر رکھ دیں گے۔ اس قسم کا وعدہ کمیلا ہیرس بھی کررہی ہیں‘ امریکی عوام کی اکثریت نے ابھی تک یہ واضح فیصلہ نہیں کیاہے کہ وہ کس کو قصر سفیدمیں دیکھناچاہتے ہیں۔
ٹرمپ کیونکہ ایک کامیاب بزنس مین ہیں‘ اس لئے وہ امریکیوں سے یہ وعدہ کررہے ہیں کہ اگر وہ صدارتی انتخابات جیت گئے تو وہ امریکی عوام کے حالات بدل دیں گے۔ بے روزگاری کوختم کرنے کی کوشش کریں گے اور بے روزگار نوجوانوں کیلئے ملازمتوں کے نئے مواقع فراہم کریں گے۔
دوسری طرف کمیلا ہیرس امریکی خواتین سے یہ وعدہ کررہی ہیں کہ وہ ان کے لئے معقول ملازمتوں کی راہ ہموار کریں گی‘ نیز نوجوان خواتین کیلئے زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی کوشش کریں گی۔ واضح رہے کہ ان کاتعلق بھارت کے صوبے تامل ناڈو سے ہے۔ اس لئے یہ کہاجارہاہے کہ ان کو امریکہ میں بسنے والے بھارتی عوام کا ووٹ ملے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ان انتخابات میں بھارتی لابی برق رفتاری سے سامنے آئی ہے۔ اور کمیلا ہیرس کے لئے لابی کررہی ہے۔ تاہم دولت مند سفید فام امریکی ڈونلڈ ٹرمپ کے لئے ہمدردی رکھتے ہیں۔ ان کا یہ استدلال ہے کہ ٹرمپ امریکی معیشت کو زیادہ ترقی دینے کا نہ صرف جذبہ رکھتے ہیں بلکہ انہیں اس میدان میں گہرا تجربہ بھی ہے۔ ماضی میں جب وہ صدر بن گئے تھے تو امریکی معیشت میں مثبت تبدیلی کے آثار نمایاں ہورہے تھے۔
تاہم ٹرمپ ماضی میں بحیثیت امریکی صدر کے ایک متنازعہ شخصیت رہے ہیں۔ انہوں نے بعض ایسے اقدامات اٹھائے تھے جو امریکی آئین کے خلاف تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ با ر بار امریکی عوام کو مخاطب کرکے کہہ رہے ہیں کہ وہ ماضی کی غلطیوں کو نہیں دہرائیں گے بلکہ معاشی طور پر مستحکم امریکہ کے لئے کام کریں گے۔ جبکہ کمیلاہیرس کی تقریروں میں زیادہ تر جھکائو کالے امریکیوں کی طرف ہے‘ کیونکہ ٹرمپ سے متعلق عام طور پر یہ بات کہی جاتی ہے کہ وہ ’’ سفیدفام‘‘ لوگوں کی نمائندگی کرتے ہیں جس کابرملا اظہار انہوں نے ماضی میں کیاتھا۔ امریکی مسلمانوں کا جھکائو ٹرمپ کی طرف ہے‘ کیونکہ ٹرمپ پاکستان کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ وہ عمران خان کو بھی پسند کرتے ہیں بلکہ امریکہ میں آباد پاکستانیوں کی یہ رائے ہے کہ اگر ٹرمپ امریکی انتخابات جیت کروائٹ ہائوس میں آگئے تو وہ عمران خان کو جیل سے نکلوانے کے لئے پاکستان کی حکومت سے بات چیت کریں گے۔ تاہم دیکھنا یہ ہے کہ کیا امریکی عوام ٹرمپ کوووٹ دیں گے؟کیونکہ ماضی میں انہوں نے کچھ ایسے اقدامات کئے تھے جو امریکی آئین کے خلاف تھے‘ نیز ان کی عمر بھی بہت زیادہ ہے بلکہ یہ لکھنا درست ہوگا کہ وہ امریکی تاریخ کے سب سے زیادہ عمر رسیدہ صدارتی امیدوار ہیں۔ اس لحاظ سے کمیلا ہیرس جوان ہیں اور توانا بھی ہیں۔ امریکہ میں انڈین لابی اس کے لئے دن رات کام کررہی ہے اور ان کے لئے زیادہ سے زیادہ چندہ جمع کررہی ہیں تاکہ انتخابی سرگرمیوں میں انہیں پیسے کی کمی نہ ہو نے پائے۔ بھارت کے اخبارات بھی امریکی عوام کو یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ کمیلا ہیرس کوووٹ دے کر بھارت اورامریکہ کے درمیان تعلقات کو اور زیادہ مستحکم بنائیں۔ کیونکہ معاشی وتجارتی لحاظ سے امریکہ کے لئے بھارت ایک بہت بڑی منڈی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق300ملین بھارتی مڈل کلاس غیر معمولی دولت کے مالک ہیں۔ یہی لوگ زیادہ تر امریکی مال کو خریدنا پسند کرتے ہیں‘ دوسری طرف بھارت کی امریکہ کیلئے ایکسپورٹ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
تاہم اگر ماضی میں امریکی انتخابات کاجائزہ لیاجائے تو اس وقت مسز کلنٹن صدارتی امیدوار تھیں ان کی کامیابی کے بھی زیادہ امکانات موجود تھے‘ کیونکہ وہ امریکہ کے مقبول صدر بل کلنٹن کی اہلیہ تھیں۔ اور خود بھی ایک دانشور کی حیثیت کی حامل تھیں۔ لیکن ان تمام تر کوالٹی کے باوجود وہ انتخابات میں شکست کھاگئیں۔ یہ صورتحال اس وقت کمیلا ہیرس کو بھی درپیش ہے‘ ہرچند کہ وہ ’’ کالی ‘‘ نہیں ہیں۔ لیکن امریکی اخبارات ان کی سانولی رنگت کے لحاظ سے Black لکھ رہے ہیں۔ تاہم وہ بڑی بہادری سے ٹرمپ کے خلاف انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں۔ اوراس امید کے ساتھ کہ امریکی عوام ٹرمپ کے مقابلے میں انہیں اپنا ووٹ دیں گے۔ بھارتی اخبارات اپنے اداریوں میں ان کی بہت حوصلہ افزائی کررہے ہیں۔ ان اخبارات کے مطابق ٹرمپ کا کمزور پہلو ان کی ’’بزرگی‘‘ ہے جوان کے ہارنے کا سبب بن سکتی ہے جبکہ کمیلا ہیرس ان کے مقابلے میں جوان اور خوبصورت بھی ہیں اس لحاظ سے ممکن ہے کہ امریکی عوام ٹرمپ کے مقابلے میں کمیلا ہیرس کو ترجیح دیں۔