کوئی کسی کا نقصان نہیں کرسکتا،ہر کوئی اپنا نقصان خود کرتا ہے۔ کوئی کسی کا نقصان نہیں بھرتا ہر کوئی اپناکیا ہوا نقصان خود بھرتا ہے ،کوئی کسی کا ہمدرد نہیں، انسان کواپنا ہمدرد خود بننا پڑتا ہے یہ فطرت کے قوانین ہیں اور زندگی کرنے کے قرینے، جو ان قرینوں سے غافل ہوجاتا ہے وہ اپنی موت آپ مر جاتا ہے۔جیتنے کے لئے جیتنے کے ڈھنگ آنے چاہئیں ، جو اس ڈھنگ سے آشنا نہیں ہوتے وہ اپنے ہاتھوں بے حجاب ہوجاتے ہیں ۔ساری عمر کوئی طاقتور نہیں رہتا ،طاقت کے منبع بدلتے رہتے ہیں ۔آج کسی کا اختیار چلتا ہے تو کل کوئی اور با اختیار ہوتا ہے جن اقوام کے رہبر و رہنما یہ ادراک رکھتے ہیں وہی اقوام ترقی و خوشحالی کے زینے کامیابی سے طے کرتی ہیں اور ہم ہیں کہ چھہتر سال سے کولہو کے بیل کی سی زندگی بسر کر رہے ہیں ۔
ہم امید بھی لگاتے ہیں تو ان سے جو کسی اور کی امیدوں کے سہارے جیتے ہیں ۔ان کی اپنی سوچ نہیں ہوتی اور نہ وہ کسی آدرش کے تحت جیتے ہیں ۔انہیں فقط ایک ہی سبق یاد ہوتا ہے کہ خوشامد کیسے کی جاتی ہے ۔یہی ان کا ہتھیار ہوتا ہے اور یہی بیساکھی بھی ۔سچائی کسی بند دماغ میں داخل نہیں ہوسکتی ،اگر ایسے ہوسکتا ہوتا تو وجدان نام کی کوئی شے نہ ہوتی ،یہ وجدان ہی ہے جو بھلائی کا راستہ دکھاتا ہے ۔حالات کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے ،اس کے کچھ کچھ آثار نظر آنے لگے ہیں ،مگر خانوہ اڑیل گھوڑا ہے جو کسی بھی وقت جم کر کھڑا ہوجاتا ہے،مگر اس کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ اکثر اوقات ریت پر کھڑا ہونے کا تاثر دیتا ہے اور یہ اس وقت یقینی ہو جائے گا اگرکپتان نے فواد چوہدری سے برملا ملاقات طے کر لی کہ یہ چوہدری بھی مقتدرہ کا سدھایاہوا ہے اور کسی اشارے کے بغیرکچھ کرنے سے گریز کرتا ہے ،یوں سمجھ لیں کہ وہ اب تھک چکا ہے اور سانس تو لگتا ہے خان کی بھی چڑھی ہوئی ہے وگرنہ اس کے گھر کے بھیدی یوں اچانک فضا ء میں چہچہانے نہ لگ جاتے۔
بشریٰ بی بی کا گنڈا پور کے یہاں قیام بھی تو کس یبادباں کے کھلنے کا اشارہ ہی ہے۔وگرنہ پلک جھپکنے میں اتنے بڑے فیصلے کیسے ہوسکتے ہیں ۔اس پر مستزاد شاہ محمود قریشی کی رہائی کے آثار،کڑی سے کڑی ملتی جارہی ہے ، ویسے زین قریشی کا ووٹ سرکار کے حق میں جانا بھی ایک کھلی بغاوت کا سندیسہ تھا ورنہ روپے پیسے کی کمی تو اس خاندان کے پاس کبھی نہیں جب تک درباروں پر عقیدتوں کا چورن بک رہا ہے ۔
سلمان اکرم راجہ کو قیدی نمبر 804سے ملاقات کا اذن کیوں نہیں ملتا ؟ اس لئے کہ ان کے اندر بغاوت کے جراثیم کلبلاتے رہتے ہیں ، شائد خان کے بہی خواہ خود ہی نہ چاہتے ہوں کہ اس ملاقات سے اگلے کسی خیرخواہ کی ملاقات تک خان کوئی انقلابی بیان ہی جاری نہ کردے۔ تو گویا بڑی آسانی سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ ابھی اجالا داغ داغ ہی ہے ۔جب تلک علی آمین گنڈ ۱پور اور فواد چوہدری جیسے لوگوں کا اثر و رسوخ اور سیاسی عمل دخل رہے گا حتمی اندازے لگانا مشکل ہے،کہاں گیا شیر افضل مروت اور بیرسٹر اعتزاز حسن ،اب تو بیرسٹر لطیف کھوسہ بھی ہربات مذاق کے موڈ میں کرتے ہیں ان کی سنجیدگی چلبلے بچے کی سی ہوگئی ہے ۔وہ ٹرمپ کی جیت کے خواب میں پی ٹی آئی کی تعبیر تلاش کرتے نظر آتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ثناء اللہ جیسا شخص بھی ان کے منہ پر انہیں فاطر العقل کہتے ہوئے ذرہ برابر نہیں جھجکتا۔
وائے افسوس کہ عزت و احترام کے رشتوں کو بھی بے جا بے باکی نگل گئی ہے۔سینئر جونیئرکی لکیر بھی مٹ گئی ہے ۔ پھرمعاملات دگر گوں کیوں نہ ہوں، مروت کے سر میں خاک ڈالنے کا چرچا عام ہے ۔فاتح اور مفتوح دونوں کے چہروں پر نقاب ہے ،یہ نقاب ہٹیں تو باتبن پائے۔کہ ان کے بیچ عام آدمی پس رہا ہے جو امید پر ووٹ کرتا ہے کہ اس کے حالات بدلیں ،مہنگائی کا خاتمہ ہو ،روزگار کے دروازے کھلیں، لوٹ مار کے در بند ہوں ،جہالت کے اندھیرے چھٹیں، امن و امان قائم ہو،دہشت گردی کا قلع قمع ہو اور بھائی چارے کی فضاء قائم ہو۔ مگر ووٹ کو عزت دینے والوں اور تبدیلی کاخواب دکھانے والوں نے عوام کولہو کے آنسو رونے پر مجبور کیاہوا ہے۔
دشنام طرازی کا بازار گرم ہے۔ لوگوں کا پیمانہ عمر ایثار و قربانی کے وصف سے تہی ہوا جاتا ہے ، سفر حیات میں تنگنائیاں ہی تنگنائیاں ہیں۔کسے خبر ہے کہ لحظہ لحظہ لرزتے رہتے ہیں سب گھروندے ہمارے اندر ہر ایک منظر بچشم تر ہے، کسے خبر ہے ؟فاتح اور مفتوح کے چہرے سے نقاب ہٹیں تو معلوم ہو کون کیاہے ؟ابھی تو حیات دکھ ہے ،ممات دکھ ہے۔